غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک


غزل - 
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک 

سب کو پڑی آج اپنی ہے 
سب کا دِل سرکاری ہے 

آگ لگی تھی بجھی سی ہے 
یہ دِل تو بیراگی ہے 

اپنے بننے سے رہے ہم 
یوں اپنی بربادی ہے 

تھک جاتا ہوں میں ہر شام 
صبح کو طاقت لوٹ آتی ہے 

وہ بھی خوش ہے تحفے میں  
’بتکماں‘ کی ساڑی ہے 

کوئی مخالف زندہ نہیں 
غنڈوں کی سرداری ہے 

مسکاتا چہرہ لے کر 
کتنے دِنوں بعد آئی ہے 

تو سرکار میں ہے بیٹھا
میری کب من مانی ہے

کیوں لکھتے پڑھتے ہو تم 
میرؔ حسیں یہ وادی ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔