درود شریف کی کثرت، نماز کی پابندی اور والدین و اساتذہ کا احترام ضروری ہے: شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی کا خطاب


بیدر، 23 اکتوبر (نامہ نگار): درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں ماہانہ حلقہ درسِ تصوف و جلسۂ عظمتِ اولیاء اللہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ ممتاز پیرِ طریقت شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی صاحب، سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف نے درسِ تصوف دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درود شریف کی کثرت، نماز کی پابندی اور دینی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے دعا کے آداب بیان کرتے ہوئے کہا کہ دعا سے پہلے اور دعا کے آخر میں درود شریف پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ جس طرح کسی خط کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے درست پتے کا ہونا ضروری ہے، اسی طرح دعا کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے درود شریف کا اہتمام کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ روزمرہ زندگی میں کثرت سے درود شریف پڑھیں اور اپنے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور رکھیں۔
پیرِ طریقت نے مزید کہا کہ والدین کی خدمت کرنا، ان کی دعائیں حاصل کرنا، اساتذہ کا احترام کرنا، بزرگوں سے محبت رکھنا اور مشائخ و ائمہ کا ادب کرنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان تعلیمات پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی میں اچھے اخلاق اور روحانی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نماز اسلام کا اہم فریضہ ہے اور ہر مسلمان کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ جہاں تک ممکن ہو، کلمۂ طیبہ اور درود شریف کا ورد جاری رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اپنے دلوں کو آباد رکھنا چاہیے۔
سلسلۂ طریقت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے مثال دی کہ جس طرح ریل گاڑی کے تمام ڈبے انجن کے ساتھ جڑے رہتے ہیں اور ایک مربوط نظام کے تحت اپنی منزل کی طرف سفر کرتے ہیں، اسی طرح روحانی سلسلے میں بھی وابستگی، رہنمائی اور تعلق کی اہمیت ہوتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے سچی محبت اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
آخر میں انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ وہ نماز کی پابندی کریں، درود شریف کی کثرت کو اپنا معمول بنائیں، والدین و اساتذہ کا احترام کریں اور اولیائے کرام سے محبت رکھتے ہوئے ان کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں۔انہوں نے درس تصوف دینے کے بعد دعا فرمائی.اور.درگاہ حضرت ممدوح پر گلہائے عقیدت ،فاتحہ سلام و دعا فرمائی.جناب محمد لئیق احمد قادری بگدلی اور دیگر اسٹیج پر موجود تھے.اس موقع پرمولانا محمد ندیم قادری استاد دارلعلوم قادریہ نے اپنے خطاب کا آغاز بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے اشعار سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ اس کی زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت اور اطاعت میں گزرے۔ انہوں نے اشعار کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ، درود و سلام اور غلامیِ رسول ﷺ کے جذبات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ گیارہویں شریف کے اجتماع میں شرکت محض ایک رسمی عمل نہیں، بلکہ اس موقع پر ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ نیک بندوں سے محبت کی بنیاد کیا ہے، اس کی تعلیم کس نے دی اور اس نسبت سے انسان کو کیا روحانی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
مولانا نے قرآن مجید کی سورۂ توبہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ‘‘ یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ انہوں نے کہا کہ اس قرآنی ہدایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کو سچائی، تقویٰ اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔مولانا محمد شاہد رضاء استاد دارلعلوم قادریہ بگدل،مولانا سید صادق علی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو نیک اور سچے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یعنی اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔حافظ محمد شہانواز نلگدرک کی قراءت کلام پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا.محمد سلیم قادری ،ڈاکٹر اسد ہلی کھیڑ،محمد فہیم،محمد یاسرعرفات طالب علم دارلعلوم قادریہ نے حمد ،نعت اور منقیبت پیش کیا.حضرت کی دعا سلامتی کے بعد روحانی جلسہ تکمیل پذیر ہوا.

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔