اللہ پر یقین اور آزمائش کی حقیقت - از: محمد اظہر، اتھنی (بیلگاوی)
اللہ پر یقین اور آزمائش کی حقیقت
از: محمد اظہر، اتھنی (بیلگاوی)
Headmaster of Ulfat Urdu medium High School Athani .Belagavi 96327 58392
آج کل ہر انسان کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔ کوئی روزگار کے لیے پریشان ہے، کوئی بیماری سے، کوئی قرض سے اور کوئی اپنی گاڑی اور مکان کے کاغذات کے لیے در در بھٹک رہا ہے۔ ہم فوراً سوچنے لگتے ہیں کہ شاید یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔لیکن کیا واقعی ہر پریشانی گناہ کی سزا ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا"
بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر آج اتھنی کی گلیوں میں ہم پریشان بھٹک رہے ہیں تو کل اسی اتھنی میں اللہ ہماری کامیابی کا راستہ بھی کھولے گا۔
پریشانی کی تین حکمتیں:
1. بہتر عطا کے لیے روک:* کبھی کبھی اللہ ہمیں اس لیے روک دیتا ہے کیونکہ وہ ہمیں اس سے بہتر چیز عطا کرنے والا ہوتا ہے جس کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
2. قربت کا ذریعہ:* جب انسان کے سارے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں، تب ہی وہ سچے دل سے اللہ کو پکارتا ہے۔
3. گناہوں کا کفارہ:* نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
اس لیے اتھنی کے میرے بھائیو! جب کبھی زندگی میں اندھیرا محسوس ہو تو سمجھ لو کہ اللہ تمہیں کسی نئی روشنی سے نوازنے والا ہے۔ بس یقین کو مضبوط رکھو۔
اللہ ہم سب کو صبر اور یقین کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment