مکہ معاہدہ” وفد کے اجلاس کے چلتے سعودی نے میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے۔
کے این واصف : سعودی عرب نے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کو ایسے وقت میں ناکام بنا دیا جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے خطے کے اعلیٰ حکام ایران میں مذاکرات کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
مملکت کے انگریزی روزنامہ “عرب نیوز” کے مطابق یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے منگل کو بتایا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے مملکت کے مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ جنوبی سعودی عرب میں فضائی دفاعی نظام نے علاقے کو نشانہ بنانے والے چار ڈرونز کو مار گرایا۔ سعودی سیول ڈیفنس نے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً تین بجے مشرقی صوبے اور ریاض کے مضافات الخرج کے لیے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیے کئے تھے بعد ازاں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب یمنی افواج کی حمایت کر رہا ہے جو حوثی باغیوں کے قبضے سے علاقے واپس لینے کے لیے لڑ رہی ہیں۔ ُ
حوثی باغی اس سے قبل بھی سعودی عرب میں شہری اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر کیا گیا ایک مہلک حملہ بھی شامل ہے جس میں 13 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بےجا نہ ہوگا کہ پیر کے روز سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
ایسے ایک خوش آئند علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں تعاون کو فروغ دینے اور تنازعات کے حل کے لیے اقدامات کرنے کے ایران کے عزم کا اظہار کیا۔
Comments
Post a Comment