رابطوں کی بقا میں یاد اور تعلق کی اہمیت - از قلم : ڈاکٹر مولانا محمد عبدالصمد سمیع ندوی، (اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
رابطوں کی بقا میں یاد اور تعلق کی اہمیت -
از قلم : ڈاکٹر مولانا محمد عبدالصمد سمیع ندوی،
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد)
موبائل: 9325217306
انسانی زندگی دراصل ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ اس سفر میں انسان مختلف راستوں سے گزرتا ہے، کئی لوگوں سے ملتا ہے اور بے شمار تعلقات قائم کرتا ہے۔ یہی تعلقات اس کی زندگی کو معنی اور وقار عطا کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح کسی راستے کی پہچان اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اس پر آمد و رفت جاری رہے، اسی طرح انسانی تعلقات بھی اسی وقت تک زندہ اور مضبوط رہتے ہیں جب تک ان میں رابطہ اور باہمی گفتگو باقی رہتی ہے۔
اگر کسی راستے پر مدتوں کوئی نہ گزرے تو آہستہ آہستہ وہ راستہ مٹنے لگتا ہے۔ گرد و غبار، گھاس اور جھاڑیاں اسے ڈھانپ لیتی ہیں، اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کا وجود ہی دھندلا جاتا ہے۔ بالکل یہی معاملہ انسانی تعلقات کا بھی ہے۔ جب بات چیت کا سلسلہ رک جائے، خبرگیری ختم ہو جائے اور خاموشی کا پردہ چھا جائے تو دلوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ ابتدا میں یہ فاصلہ معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی فاصلہ ایک ایسی خلیج میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے پاٹنا آسان نہیں رہتا۔
اگر ہم ذرا سا غور و فکر کریں تو اپنے اردگرد ایسی بہت سی مثالیں نظر آتی ہیں۔ کبھی کچھ دوست ایسے ہوتے تھے جو ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے تھے۔ ان کی قربت اس قدر مشہور ہوتی تھی کہ اگر ان میں سے کوئی ایک نظر نہ آئے تو لوگ فوراً پوچھ بیٹھتے: “ارے! وہ کہاں ہے؟ آج آپ اکیلے کیسے؟ سب خیریت تو ہے؟”۔ اس سوال کے پیچھے دراصل اس مضبوط تعلق کا اعتراف ہوتا تھا جو لوگوں کی نظروں میں بھی نمایاں تھا۔ مگر وقت کے ساتھ جب رابطہ کمزور پڑنے لگتا ہے اور ملاقاتوں کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہی دوست جو کبھی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل سمجھے جاتے تھے، رفتہ رفتہ ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی حال صرف دوستوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات رشتہ داروں اور دفتر کے ساتھیوں یعنی کلیگس کے درمیان بھی یہی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔
انسانی معاشرہ دراصل باہمی روابط اور تعلقات کی بنیاد پر قائم ہے۔ خاندان، رشتہ داری، دوستی اور سماجی روابط انسان کی زندگی کو سہارا دیتے ہیں اور اس کے وجود کو استحکام بخشتے ہیں۔ جب یہ روابط مضبوط ہوتے ہیں تو زندگی میں محبت، اعتماد اور باہمی احترام کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب ان روابط کو نظر انداز کر دیا جائے اور ایک دوسرے کی خبرگیری ختم ہو جائے تو دلوں میں اجنبیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہی اجنبیت رفتہ رفتہ بےگانگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ تعلق اور یاد کو باقی رکھنا زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: “فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ” یعنی تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔ اس مختصر مگر بامعنی آیت میں تعلق کی ایک گہری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو یاد کرتا ہے، اس سے رابطہ قائم رکھتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت، عنایت اور نصرت کے ساتھ اسے یاد فرماتا ہے۔ گویا یاد اور رابطہ قربت کا ذریعہ ہے۔
یہی اصول انسانی تعلقات میں بھی کارفرما ہے۔ جب انسان ایک دوسرے کو یاد رکھتے ہیں، حال احوال دریافت کرتے ہیں اور رابطہ قائم رکھتے ہیں تو دلوں کے فاصلے کم ہو جاتے ہیں اور تعلقات کی ڈور مضبوط رہتی ہے۔ لیکن جب یاد اور رابطہ ختم ہو جائے تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں اور واپسی کے راستے آہستہ آہستہ بند ہونے لگتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معمولی سی غلط فہمی یا وقتی ناراضگی کے باعث لوگ ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ دوری عارضی ہے اور کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے، لیکن جب اس دوری کے ساتھ خاموشی اور بے اعتنائی بھی شامل ہو جائے تو یہی وقتی فاصلہ مستقل جدائی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ چاہنے کے باوجود وہ دروازہ دوبارہ نہیں کھلتا اور وہ راستہ دوبارہ نظر نہیں آتا جو کبھی بہت قریب محسوس ہوتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تعلقات کو زندہ رکھنے کے لئے بڑی قربانیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی ایک مختصر پیغام، کبھی چند لمحوں کی گفتگو اور کبھی ایک سادہ سی خیر خیریت کی خبرگیری بھی دلوں کے فاصلے کم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ اصل چیز اخلاص اور توجہ ہے۔ جب انسان اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رابطہ قائم رکھتا ہے تو تعلقات کی ڈور مضبوط رہتی ہے اور واپسی کے تمام راستے بھی کھلے رہتے ہیں۔
آج کے مصروف دور میں انسان اپنی ذاتی مصروفیات اور ذمہ داریوں میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ اسے رشتوں کے لئے وقت نکالنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اگر روابط کا تسلسل ختم ہو جائے تو تعلقات بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان دلوں کے درمیان رابطے کو برقرار رکھے اور بات چیت کے دروازے کبھی بند نہ ہونے دے۔
کیونکہ جب رابطہ باقی رہتا ہے تو امید بھی باقی رہتی ہے، واپسی کا راستہ بھی باقی رہتا ہے اور تعلقات کی روشنی بھی باقی رہتی ہے۔ لیکن جب رابطہ ختم ہو جاتا ہے تو راستے خود بخود بند ہو جاتے ہیں اور انسان آہستہ آہستہ نظروں سے بھی دور ہو جاتا ہے اور خیالوں سے بھی۔
Comments
Post a Comment