بابرکت نکاح - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے


بابرکت نکاح - 
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

   اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اسقدر نعمتیں عطا فرمائی ھیکہ انکو شمار نہیں کیا جاسکتا اور مال و دولت بھی اللہ تعالی کی اہم نعمتوں میں سے ہے جسکا انسان کے معاش میں بڑا عمل و دخل ہے اور جسکو اللہ تعالی انسان کے زندگی کا سرمایہ اور اسکے گذران کا سبب بنایا ہے اسلئے اسمیں بے جا اسراف اور فضول خرچی کرنے اور اسیطرح اسکو ضائع کرنیسے بھی منع فرمایا بلکہ بے جا اسراف اور فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے 
  عام طورہر لوگ شادی بیاہ کے موقع بے جا اسراف اور فضول خرچی کرتے ہیں اور اسکو اپنے لئے فخر و عزت کی چیز سمجھتے ہیں اور اس نعمت کی ناقدری اور ناشکری کرتے ہوئے اسکو ہلاک و برباد کر دیتے ہیں اور بسااوقات اپنی حیثیت اور طاقت سے بڑھکر قرض و غیرہ لے کر خرچ کرتے ہیں صرف اپنی شان دکھانے کے لئے یہ صحیح نہیں ہے حالانکہ نبئ کریم نے کم خرچ والے نکاح کو زیادہ بابرکت قرار دیا ہے 
  شریعت نے مھر کے زیادہ اور کم متعین کرنے کے بارے میں کوئی تعیین نہیں فرمائی بلکہ یہ نکاح کرنے والے کی حیثیت اور صوابدید پر ہے لیکن بسااوقات آدمی لوگوں کو دکھانے یا فخر کرنے کے لئے زیادہ مھر مقرر کرتا ہے یا بسااوقات لڑکی والے زیادہ مھر کا مطالبہ کرتے ہیں یہ بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے حضرت عمر فرماتے ھیکہ مھر میں غلو نہ کرو اگر یہ دنیا میں بزرگی اور آخرت میں تقوی کا باعث ہوتی تو اسکے سب سے زیادہ مستحق نبئ کریم تھے لیکن نبئ کریم کے ازواج مطھرات اور صاحبزادیوں کا مھر 12 بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں یعنی تقریبا پانچ سو درھم کے برابر 
 اسلئے علماء فرماتے ھیکہ نبئ کریم کی اتباع میں مھر چاندی میں ہونا سنت ہے 
  اور یہ مھر عورت کا حق اور انکی ملکیت ہے اسلئے اسکو استعمال کرنے اور اسمیں تصرف کرنیکا اسکو پورا اختیار ہے اور اللہ تعالی نے عورتوں کو انکا مھر خوش دلی کیساتھ دینے کا حکم فرمایا ہے 
   لیکن عام طورپر لوگ یہ سمجھتے ھیکہ عورت کو دیا ہوا مھر ہمارا اپنا ہے جو عورت کے پاس گویا بطور امانت کے ہے اسلئے اسکو اپنے طورپر استعمال کرنے یا اسمیں تصرف کرنیسے روکتے ہیں اور اگر مھر میں دیئے ہوئے زیورات اسکے پاس نہ ہو تو اس عورت کو طعن و تشنیع کیجاتی ہے اس پر ظلم و ستم کیا جاتا ہے یا بسا اوقات شوہر اور گھر والوں کے مالی تعاون کے لئے اس مھر کے زیورات کو بینک و غیرہ میں گروی رکھا جاتا ہے اور پھر بسااوقات نیلامی تک کے نوبت آجاتی ہے اور عورت کو چونکہ انھیں کیساتھ رہنا اور زندگی گذارنی ہوتی ہے اسلئے بیچاری مجبور ہوتی ہے اور کچھ کہ نہیں پاتی یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے اسلئے کہ حدیث میں ھیکہ کسی کا بھی مال اسکے دلی رضامندی اور خوشی کے استعمال کرنا جائز نہیں ہے 
  اسیطرح ولیمے میں بھی لاکھوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں مختلف اقسام و انواع کے کھانوں کا نظم اور دعوت میں ایک جم غفیر اکٹھا کیا جاتا ہے گویا اپنے مالداری کے اظہار کا یہی موقع سمجھا جاتا ہے اور کتنا ہی کھانا اس موقع پر ضائع اور برباد ہوتا ہے حالانکہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنکو دووقت کا معمولی کھانا بھی پیٹ بھر کر نصیب نہیں ہوتا 
   حالانکہ نبئ کریم نے اپنے بعض ازواج مطہرات کا ولیمہ دو مد جو پر فرمایا اور حضرت صفیہ کا ولیمہ ستو اور کھجور پر کیا اور حضرت عبدالرحماں بن عوف سے فرمایا ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہو 
  اسطرح منڈپ وغیرہ کی آرائش و زیبائش اور اسکے ڈیکوریشن میں لاکھوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں اگر یہی نکاح کی تقاریب مساجد میں منعقد کی جاتیں تو اس موقع پر کی جانیوالی غیر شرعی کاموں سے بچا جاسکتا ہے 
  اگر مسلمان اپنے رسول کی سنت اور فرمان پر عمل کرتے ہوئے اپنے نکاح کے خرچوں کو کم اور مختصر کریں تو وہ نکاح بابرکت بھی ہوگا اور مال و دولت بھی ضائع و برباد ہونیسے بچ سکتا ہے جسکو قوم و ملت کی تعلیم و تعمیر اور ترقی پر خرچ کیا جاسکتا ہے جو آج وقت کی ضرورت ہے 
  اللہ تعالی ہمیں اپنے رسول کی سنتوں پر عمل کرنیکی توفیق عطا فرمائے 
    مولوی شبیر عبدالکریم تانبے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔