ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ کانعتیہ مجموعہ ”حریم ِنعت“ - تبصرہ:۔ محمدیوسف رحیم بیدری۔


ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ کانعتیہ مجموعہ ”حریم ِنعت“ - 
تبصرہ:۔ محمدیوسف رحیم بیدری۔ 

ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ کاتعلق بلگام کے شہر گوکاک سے ہے۔ اسلامیہ پی یوکالج بلگام میں تدریس کے عہدے سے وظیفہ یاب ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کی غزلوں کاپہلا شعری مجموعہ ”قطرہ قطرہ دریادیکھوں“ سال 2014؁ء میں شائع ہوا۔ سال 2019؁ء میں ”گلاب لہجہ“ کے عنوان سے ایک اور شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ سال 2025؁ء میں ”تشطیرات ِ راہی ؔبرکلام ِ منیر“ کے عنوان سے کلام شائع ہوا۔ جب کہ زیرتبصرہ نعتیہ مجموعہ ”حریم ِ نعت“ اگست 2026؁ء کو شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ مرحوم منشی رونق حیاتؔ قادری بلگامی اور ڈاکٹر سیدافضل حسین قاسمی ؔ(بنگلور) کے سامنے زانوئے تلمذ طئے کرنے والے ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کے پہلے نعتیہ مجموعے ”حریم ِ نعت“ میں جملہ 63نعتیں شامل ہیں۔ اورہرنعت میں 7اشعار کہنے کااہتمام ملتاہے۔ سرقاضی سید قمرالدین قمرؔ کے مطابق ”ڈاکٹر سید یاسین راہی ؔ کایہ گلدستہ ء نعت ”حریم ِ نعت“ صوری ومعنوی اعتبار سے گراں قدرومتبرک مجموعہ ہے۔ اس لیے کہ راہی ؔصاحب بخوبی جانتے ہیں کہ نعت کسی معمولی سی ادبی صنف کی مانند نہیں ہے کہ جس میں معانی وبیان کے ساتھ اوزان وبحور کی پابندی ہی کافی ہو۔ نعت ثقافتی، تہذیبی، صالحانہ فکروتردد، شعوروادراک اور عشق صادق و عقیدت کام کانام ہے۔ اس میں شامل ایک ایک نگارش، روح پرور، دل افروز، نغمگی، شعری جمالیات اور تخلیقی حسن وجمال سے آراستہ وپیراستہ ہے“ (صفحہ 20) 
سید قمرالدین قمرؔ نے حریم نعت کی اشاعت پر ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کی خدمت میں تہنیت پیش کرتے ہوئے پانچ بند
کہے ہیں۔ آخری بند میں انھوں نے کہاہے ؎
شکر ہے رحمت کاسایہ آگیا 
نعت کہنے کاسلیقہ آگیا 
تجھ پہ راہی ؔہے کرم اللہ کا 
تجھ کو اب جنت کا مژدہ آگیا
منیراحمد جامی ؔ نے ڈاکٹر یاسین راہی کے بارے میں لکھاہے کہ ”ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کا شمار کرناٹک کے ان شعراء میں ہوتاہے جو اردو ادب میں خاص مقام رکھتے ہیں۔آپ روایات کے پاسدار ایک جدت پسند شاعر ہیں۔ نہایت نرم مزاج، سادہ لوح اور راست گو۔ اوریہی خصوصیات ان کی شاعری میں بھی صاف واضح نظر آتی ہیں۔ یعنی نرم لب ولہجہ، سادہ زبان اور سیدھی سیدھی بات۔ نہ پیچیدہ تراکیب، نہ غیر مانوس علامتیں، نہ دقیق الفاظ اور نہ ہی ابہام“ ّ(صفحہ 22)۔ الحاج خلیل احمد سوداگر لکھتے ہیں ؎
راہی ؔترے قلم کاشرف اور بڑھ گیا
نسبت ”حریم ِ نعت“ کی جب اس کومل گئی 
غلام ربانی فد اؔ کے نزدیک ”یہ مجموعہ محض قافیہ پیمائی یالفظوں کی طلسماتی بازی گری نہیں، بلکہ ایک سچے عاشق کے دل کی تڑپتی ہوئی دھڑکنوں اور اس کے خون ِ جگر کانچوڑ ہے۔ اس میں موجود خاکساری، توحیدو رسالت کا توازن، اور عشق مصطفی کی مہک اسے اردو ادب کا ایک لازوال اور ہمیشہ زندہ رہنے والا سرمایہ بناتی ہے“(صفحہ 33)۔ حریم نعت سے چند اشعار پیش کئے جاتے ہیں ؎

قرآن کی آیات ہیں اذکارِ محمد 
یعنی کہ سراپا ہیں وہ کردارِ محمد 
نبی سے محبت، نبی سے عقیدت
یہی زندگی ہے، یہی بندگی ہے 
ہرابتداء سے پہلے، ہر اک انتہاکے بعد
اک آپ ہی کانورہے، نورِ خدا کے بعد 
معراج میں اک آپ تھے اور ایک رب مرا
تھا دو کے ماسواوہاں تیجا نہیں کوئی 
قرار اسم ِ احمد سے ہی مل سکے گا
ذراجاکے تم بے قراروں سے کہہ دو
تاریک شب میں نور کے پہرے ہیں چار سو 
راہی ؔ وہ روشنی ہے محمد کے شہر میں 
وقت ِ آخر ہومر اجب تو مدینے جاؤں 
اور وہیں آخری شب ہوتو نصیبہ جاگے 

حریم نعت میں 63نعتوں کے علاوہ ایک حمد اور ایک مناجات بھی پڑھنے کوملتی ہے۔ دُعاہے کہ ڈاکٹر یاسین راہی ؔ کا ادبی سفر جاری وساری رہے۔ ان کا جو بھی تعلق رسول ِ پاک ﷺ سے ہے وہ آئندہ بھی شعری تجربے میں ڈھل ڈھل کراردو قاری کے سامنے آئے جس کو شرف ِ قبولیت حاصل ہو اور جین زی (نسل)بھی ان کی نعتیہ شاعری سے مستفید ہوتی رہے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔