غزل - جاوید احمد خاموش
غزل -
جاوید احمد خاموش ؔ
جو دکھایاہے سراپا ہمیں پھر
اُس نے دیوانہ بنایا ہمیں پھر
جاگنا شب کو سکھایا ہمیں پھر
صبح صادق کو رلایا ہمیں پھر
روشنی دے کے اٹھایا ہمیں پھر
ہند کے شاہ نے لایا ہمیں پھر
بندراہوں پہ چلایا ہمیں پھر
کوئی جادوساسکھایا ہمیں پھر
دل سے جس نے ہی ستایا ہمیں پھر
اپنی نظروں سے بچایا ہمیں پھر
Comments
Post a Comment