اللہ جسے چاہے، جس کام میں چاہے مصروف کر دے - سید فاروق احمد قادری
اللہ جسے چاہے، جس کام میں چاہے مصروف کر دے -
سید فاروق احمد قادری
اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ انسان سے کتنے ہی گناہ ہو جائیں، اگر وہ سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن انسان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جس بندے سے جس کام کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اسی کام میں مصروف کر دیتا ہے۔
دنیا میں کوئی مصنف ہے، کوئی صحافی ہے، کوئی استاد ہے، کوئی عالمِ دین ہے، کوئی حافظِ قرآن ہے، کوئی سماجی خدمت انجام دے رہا ہے اور کوئی رہنما بن کر لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے الگ صلاحیت، الگ میدان اور الگ ذمہ داری عطا کی ہے۔
کسی کو قلم کی طاقت دی، کسی کو علم دیا، کسی کو گفتگو کا ہنر دیا، کسی کو قیادت کی صلاحیت دی اور کسی کو خاموشی سے لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا۔ یہ سب اللہ کی حکمت اور اس کی مشیت کا حصہ ہے۔
اس لیے ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کرنے لگیں کہ اللہ تعالیٰ کو اس شخص سے کیا کام لینا چاہیے تھا اور کیا نہیں لینا چاہیے تھا۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتا ہے، نیتوں کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کس بندے سے کب اور کیا کام لینا ہے۔
ہم انسان صرف کسی کا ظاہر دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہے۔
بعض اوقات انسان بظاہر بہت اچھی اور دینی باتیں لکھتا ہے، دوسروں کو نصیحت کرتا ہے، اللہ اور آخرت کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کے اپنے دل میں کسی کے لیے حسد، جلن یا بغض موجود ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں دوسروں کی نیت پر فیصلہ سنانے کے بجائے انسان کو سب سے پہلے اپنے دل کا جائزہ لینا چاہیے۔
دین صرف دوسروں کو نصیحت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس اور اپنے دل کی اصلاح کا نام بھی ہے۔
کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی، مقام دیا، صلاحیت دی یا کسی خاص کام کے لیے منتخب کیا تو اس پر دل میں جلن رکھنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ اللہ کی تقسیم ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے جس کام کے لیے منتخب کرے، جسے چاہے جس میدان میں آگے بڑھائے، اس کی حکمت کو ہم مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس انسان کو کسی کام پر لگا دیا، ہم اس کے ایک ایک قدم کا فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ انسان تو اپنی مرضی سے ایک سانس بھی نہیں لے سکتا، ایک لمحہ اپنی مرضی سے نہیں بڑھا سکتا۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور اس کی حکمتوں پر کیسے حکم لگا سکتا ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ اللہ نے دوسرے سے کیا کام لیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے کیا کام لے رہا ہے اور میں اپنی ذمہ داری کس نیت سے ادا کر رہا ہوں؟
اگر اللہ نے کسی کو قلم دیا ہے تو وہ قلم خیر کے لیے استعمال کرے۔ اگر علم دیا ہے تو علم بانٹے۔ اگر صحافت کا میدان دیا ہے تو سچائی اور ذمہ داری کے ساتھ لکھے۔ اگر دینی علم دیا ہے تو اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرے۔ اگر قیادت دی ہے تو لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے۔ اگر دولت دی ہے تو ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔
کیونکہ ہر شخص سے اللہ تعالیٰ ایک جیسا کام نہیں لیتا۔ کوئی ایک میدان میں خدمت کرتا ہے، کوئی دوسرے میدان میں۔ کسی کا کام ہمیں بڑا نظر آتا ہے اور کسی کا کام چھوٹا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں اصل اہمیت اخلاص، نیت اور عمل کی ہے۔
اس لیے لکھنے والوں اور اہلِ قلم کے لیے بھی یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم جو کچھ لکھ رہے ہیں، اس کا مقصد کیا ہے؟ کیا ہم اصلاح چاہتے ہیں یا کسی کی دل آزاری؟ کیا ہم خیرخواہی کر رہے ہیں یا اپنے دل کی جلن نکال رہے ہیں؟ کیا ہماری تحریر معاشرے کو جوڑ رہی ہے یا دلوں میں فاصلے پیدا کر رہی ہے؟
ہمیں دوسروں کے مقام، عزت اور کامیابی کا حساب رکھنے کے بجائے اپنے قلم کا حساب رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ جس سے جو کام لینا چاہتا ہے، لے رہا ہے۔ ہمیں اپنے حصے کا کام اخلاص کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔
دنیا چند روز کی ہے۔ عہدے، شہرت، عزت اور مصروفیات سب عارضی ہیں۔ آخرکار انسان کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں نہ کسی کی جلن کام آئے گی، نہ کسی کے خلاف لکھی ہوئی باتیں؛ وہاں انسان کے اپنے اعمال اور اس کی نیت کا حساب ہوگا۔
اس لیے آئیے دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے دل کو دیکھیں، اپنی نیت کو دیکھیں اور اپنے قلم کو دیکھیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہر و باطن کی یکسانیت، اخلاصِ نیت، حسد اور جلن سے پاک دل، اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment