دوغلا دوست - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی ( تاشہ رانی بنوری)


دوغلا دوست - 
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی ( تاشہ رانی بنوری)
مہمان لیکچرر٬ شعبہ اردو٬ گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنتامنی٬ چکبلاپور ضلع کرناٹک۔

انسان کی زندگی میں دوستی ایک خوب صورت اور قیمتی رشتہ ہے۔ دوست وہ ہوتا ہے جس کے سامنے انسان اپنے دل کی بات بے جھجھک کہہ سکتا ہے، اپنی خوشیاں بانٹ سکتا ہے اور اپنے دکھوں کا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے۔ ایک مخلص دوست مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے، غلطی پر تنہائی میں سمجھاتا ہے، کامیابی پر دل سے خوش ہوتا ہے اور ناکامی کے وقت حوصلہ دیتا ہے۔ لیکن زندگی میں ہر شخص جو خود کو دوست کہتا ہے، حقیقت میں دوست نہیں ہوتا۔ بعض لوگ دوستی کے پردے میں انسان کے قریب آتے ہیں، اس کا اعتماد حاصل کرتے ہیں، اس کے راز جانتے ہیں اور پھر اسی اعتماد کو اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ’’دوغلا دوست‘‘ کی اصطلاح بالکل موزوں ہے۔
دوغلے دوست کی سب سے بڑی پہچان اس کا دوہرا رویہ ہے۔ وہ سامنے سے بے حد مخلص، محبت کرنے والا اور خیرخواہ دکھائی دیتا ہے، لیکن آپ کی غیر موجودگی میں اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ سامنے آپ کی تعریف اور پیچھے آپ کی برائی، سامنے ہمدردی اور پیچھے تمسخر، سامنے حوصلہ افزائی اور پیچھے حوصلہ شکنی—یہی وہ تضاد ہے جو دوغلی دوستی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسا شخص بظاہر آپ کے قریب ہوتا ہے، لیکن دل سے آپ کا خیرخواہ نہیں ہوتا۔
اس سلسلے میں زندگی میں پیش آنے والا ایک عام مگر حقیقی نوعیت کا واقعہ قابلِ غور ہے۔ فرض کیجیے دو سہیلیاں ایک ہی ادارے میں کام کرتی ہیں۔ دونوں کے درمیان گہری دوستی ہے۔ ایک سہیلی اپنی ذاتی پریشانیاں، گھریلو معاملات، مستقبل کے منصوبے اور ادارے سے متعلق بعض باتیں اپنی دوست سے بے تکلفی کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ سامنے والا شخص اس کا مخلص ہے اور اس کی باتیں کبھی کسی تیسرے شخص تک نہیں پہنچیں گی۔ دوسری طرف دوست بھی بار بار محبت کا اظہار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ’’تم مجھ پر مکمل اعتماد کرسکتی ہو۔‘‘ اعتماد بڑھتا جاتا ہے اور ذاتی باتیں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔
کچھ عرصے بعد پہلی سہیلی اپنی محنت کے نتیجے میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتی ہے۔ لوگ اسے مبارک باد دیتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کی قابلیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی قریبی دوست بھی بظاہر خوشی کا اظہار کرتی ہے، لیکن چند ہی دنوں بعد پہلی سہیلی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی وہ ذاتی باتیں جو صرف دونوں کے درمیان تھیں، اب دوسرے لوگوں کی گفتگو کا حصہ بن رہی ہیں۔ اسے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی کے بارے میں اسی دوست کی طرف سے ایسے تبصرے کیے گئے ہیں جن سے اس کی محنت اور قابلیت کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس موقع پر سب سے زیادہ تکلیف برائی کی نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کی ہوتی ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ جس شخص کو اپنا رازدار سمجھا، جس کے سامنے دل کھولا اور جس پر بھروسا کیا، وہی شخص اس اعتماد کو دوسروں کے سامنے استعمال کر رہا ہے۔ یہی دوغلی دوستی کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ دشمن کی بات اتنی تکلیف نہیں دیتی، کیونکہ دشمن سے انسان پہلے ہی محتاط رہتا ہے، مگر دوست کے روپ میں موجود شخص جب اعتماد توڑتا ہے تو دل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
دوغلا دوست اکثر دوسرے کی کامیابی سے بھی پریشان ہوتا ہے۔ جب آپ مشکل میں ہوں تو وہ آپ کے ساتھ کھڑا دکھائی دے سکتا ہے، لیکن جیسے ہی آپ کامیاب ہوتے ہیں، اس کے رویے میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ وہ آپ کی کامیابی میں خامیاں تلاش کرتا ہے، آپ کی محنت کو معمولی قرار دیتا ہے یا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ آپ کو کامیابی محض قسمت، تعلقات یا کسی دوسرے ذریعے سے ملی ہے۔ مخلص انسان دوسروں کی کامیابی سے جلتا نہیں بلکہ اس سے خوش ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کسی دوسرے کی روشنی اس کی اپنی روشنی کو کم نہیں کرتی۔
دوغلی دوستی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ایسا شخص آپ کو ضرورت کے وقت بہت قریب محسوس ہوتا ہے، لیکن جب آپ کو اس کی ضرورت ہو تو وہ مختلف بہانے پیش کرنے لگتا ہے۔ اسے آپ کا وقت، تعاون، تعلق یا مدد چاہیے تو وہ محبت اور خلوص کا اظہار کرتا ہے، لیکن جب آپ کسی مشکل میں مبتلا ہوں تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ دوستی اگر صرف ضرورت کے وقت یاد آئے تو اسے دوستی نہیں بلکہ مفاد کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
تاہم یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر اختلاف دوغلا پن نہیں ہوتا۔ ایک سچا دوست ہماری ہر بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ وہ ہماری غلطی پر ہمیں روک بھی سکتا ہے، ہماری بعض باتوں پر تنقید بھی کرسکتا ہے اور کبھی ہماری رائے سے اختلاف بھی کرسکتا ہے۔ لیکن مخلص دوست کی تنقید میں اصلاح کی نیت ہوتی ہے۔ وہ ہماری عزتِ نفس کا خیال رکھتا ہے اور ہماری کمزوریوں کو محفل کا موضوع نہیں بناتا۔ وہ اگر ہماری غلطی بتاتا ہے تو عموماً تنہائی میں بتاتا ہے، جبکہ دوغلا شخص ہماری کمزوری کو دوسروں کے سامنے بیان کرکے اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے دوستی کے تصور کو مزید وسیع کردیا ہے۔ سیکڑوں دوست، ہزاروں فالوورز اور ہر پوسٹ پر مبارک باد کے پیغامات انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ اس کے اردگرد بہت سے خیرخواہ موجود ہیں، مگر حقیقی دوستی کا امتحان خوشی کے موقع پر نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ خوشی میں شریک ہونے والے بہت مل جاتے ہیں، لیکن پریشانی میں خاموشی سے ساتھ کھڑے ہونے والے کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے دوستوں کی تعداد سے زیادہ ان کے خلوص کو اہمیت دینی چاہیے۔
ایسے تجربات کے بعد انسان کو بدلہ لینے کے بجائے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی نے اعتماد توڑا ہے تو ضروری نہیں کہ ہم بھی اس کے راز افشا کریں یا اس کے ساتھ وہی سلوک کریں۔ بعض اوقات خاموشی اور فاصلہ بہترین جواب ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو دل سے نکال دینا ضروری نہیں، لیکن ہر شخص کو دل میں جگہ دینا بھی دانش مندی نہیں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ تعلق صرف رسمی سطح تک محدود رکھنا ہی ذہنی سکون کا سبب بنتا ہے۔
زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر میٹھی بات خلوص کی علامت نہیں ہوتی اور ہر خاموشی دشمنی نہیں ہوتی۔ اصل انسان کی پہچان اس کے مستقل رویے سے ہوتی ہے۔ جو شخص آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی عزت کا خیال رکھے، آپ کی کامیابی پر دل سے خوش ہو، آپ کی غلطی پر تنہائی میں اصلاح کرے اور مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دے، وہی حقیقی دوست ہے۔
دوغلا دوست دراصل انسان کے لیے ایک تلخ مگر اہم تجربہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیں لوگوں سے نفرت کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو پہچاننا سکھاتا ہے۔ زندگی میں مخلص دوستوں کی قدر کرنی چاہیے اور دوغلے لوگوں سے محتاط رہنا چاہیے۔ کیونکہ دوستی آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اعتماد کے قابل شخص کو پہچاننے کا نام ہے۔ دل بڑا رکھیے، سب کے ساتھ اچھا سلوک کیجیے، مگر اپنی خودداری، راز اور اعتماد کی حفاظت بھی کیجیے۔ آخرکار زندگی میں لوگ بہت ملتے ہیں، مگر مخلص دوست بہت کم ملتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔