حضرت حافظ نہال احمد ملی صاحب کا اجمالی تعارف - (استاذ مدرسہ اصلاح القوم) - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں )


حضرت حافظ نہال احمد ملی صاحب کا اجمالی تعارف - 
(استاذ مدرسہ اصلاح القوم) - 
از قلم :  مفتی محمد اسلم جامعی(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں )
پیش کش مولانا سفیان احمد جمالی صاحب* - 
(صدر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ مالیگاؤں) 

شہرِ عزیز مالیگاؤں کا طغرئے امتیاز ہے کہ یہاں علوم و فنون کی مختلف شاخوں اور متنوع شعبوں میں دینی و تعلیمی خدمات انجام دینے والے افراد کی کمی نہیں ہیں جو نونہالانِ قوم کے قلوب و اذہان میں علومِ دینیہ و فنون ادبیہ اور تعلیماتِ اسلامیہ کے نقش و نگار کندہ کررہے ہیں اسی علمی قافلہ میں ایک نام حافظ نہال احمد ملی صاحب کا بھی ہیں جو شہرت و ناموری سے دور احساسِ پائندہ اور شعورِ درخشندہ کے ساتھ اس علمی امانت کو طلباء میں منتقل کررہے ہیں اور اس امانت کو منتقل کرتے ہوئے تقریباً چار دھائی گزر گئی چناں چہ مذکورہ تحریر میں ان ہی چالیس سالہ خدمات کو اجمالی طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی 
⬜*اسمِ گرامی و جائے پیدائش*⬜ 
حافظ صاحب کا اسمِ گرامی نہال احمد حاجی عبدالرزاق صاحب ہیں پیدائش شہرِ عزیز کے ایک دیندار گھرانہ میں جون 1969 میں ہوئی، آپ کے والد ایک دیندار اور الفتِ علمِ دین سے لبریز نماز روزہ کے پابند اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں ، چوں کہ انسان کی تعلیم و تربیت اور اخلاقی نشوونما میں خاندان اور گھر کے دینی ماحول کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے اسی ماحول نے آپ کو دینی تعلیم پر آمادہ کیا 
⬜*ابتدائی عصری تعلیم*⬜
لکھنے پڑھنے کی کچھ شُدبُد گھریلو ماحول میں ہوگئی تھی مگر عام دستور کے مطابق باقاعدہ عصری تعلیم کے لیے پرائمری اسکول میں داخلہ لیا، جہاں 5سال تک عصری تعلیم میں انہماک اور دلجمعی کے ساتھ مشغول رہے پھر 2 سال جمہور ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں تعلیم حاصل کیں، گویا عصری تعلیم کا سلسلہ ساتویں جماعت تک جاری رہا 
⬜*دینی تعلیم اور حفظ قرآن کی تکمیل*⬜
خلّاقِ عالم نے صحیفۂ تقدیر میں لکھ دیا تھا کہ آپ نسبتِ علمی اور حفظِ قرآن مجید کی گنج گرانمایہ دولت و نعمتِ فراواں سے بہرہ ور ہوگے، چناں چہ تقدیر کا لکھا ہوا اس طرح ثابت ہوا کہ 1984 میں مدرسہ معھد ملت (رسول پورہ) میں داخلہ لیا، اور حافظ محمد بشیر ملی صاحب رح کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرتے ہوئے 5 سال میں تکمیلِ حفظ قرآن کریم کی بیش بہا دولت و نعمت سے منسوب ہوئے اور 1988 میں تکمیلِ حفظ قرآن مجید کی سند سے سرفراز ہوئے، 
⬜*بیرونِ شہر میں نمازِ تراویح*⬜ 
تحصیل فراغت کے معاً بعد اس عظیم ترین نعمت میں
، پختگی پیدا کرنے اور حِرْزِ جان بنانے کے لیے 1988 میں پہلے ہی سال ناند گاؤں کی جامع مسجد میں 1 سال نمازِ تراویح میں قرآن پاک سُنایا، پھر 3 سال ناند گاؤں کے ریلوے اسٹیشن کی مسجد میں سُنایا، 1 سال ہلال مسجد (ہلال پورہ مالیگاؤں) میں، 3 سال کوہِ نور مسجد میں نمازِ تراویح میں قرآن پاک سُنانے کی سعادت حاصل کی، پھر 5 سال مسجد ثناء اللہ (ثناءاللہ نگر) میں امامتِ تراویح کا فریضہ انجام دیا، 1 سال مدرسہ طاہرہ (بجرنگ واڑی) میں سُنایا، اور 2001 سے لیکر تا دمِ تحریر (تقریباً 25 سال) مسجد امام ابو حنیفہ رح (مدنی نگر) میں استقامت، ثبات قدمی اور دلجمعی کے ساتھ امامتِ تراویح کے فریضہ کو بحُسنِ اسلوب انجام دے رہے ہیں، امامتِ تراویح کے چالیس سال مکمّل ہوگئے یہ ایک طویل تسلسل ہے جو بلا انقطع جاری ہے،یقیناً یہ قرآن سے محبت اور عشق کا بیّن ثبوت ہے بل کہ راقم السطور کو بخوبی یاد ہے کہ نمازِ تراویح میں قرآن سناتے ہوئے برسوں آپ کا معاملہ رہا کہ سورہ یٰسین کی تلاوت کے وقت آنکھوں سے اشکوں کی لڑیاں اور سسکیاں جاری رہتی تھی جس سے سامعین کے دلوں پر قرآن کے ادب عظمت اور ہیبت کے آثار نمایاں نظر آتے 
⬜*تدریسی خدمات و بعض شاگردوں کا تذکرہ*⬜ 
دورانِ تعلیم اور تکمیلِ حفظ سے قبل 1985 سے مکہ مسجد (امن چوک) میں مسلسل 12 سال تک بعدِ نماز مغرب، بحیثیتِ مدرس تدریسی خدمت کے ساتھ، نائب امام کے منصبِ رفیع پر فائز رہے، اسی طرح 1989 سے بعدِ نماز عصر مسلسل ذوق و شوق اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ مدرسہ یاسمین (امن پورہ نزد جمہور ہائی اسکول) میں نونہالانِ قوم کی ذہنی و اخلاقی کردار سازی، اور علمی آبیاری کے تئیں ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں ، اس مدرسہ میں تدریسی دورانیہ تقریباً 37 سالوں پر محیط ہیں، اسی طرح 2002 میں ثبات قدمی کے ساتھ بعدِ نماز مغرب، مدرسہ اصلاح القوم ( شبیر نگر) میں قوم کے معصوم بچوں کو زیورِ علم سے آراستہ و پیراستہ کررہے ہیں اس مدرسہ میں تدریسی و تربیتی خدمات 24سالوں پر محیط ہے، اس تدریسی دورانیہ میں اُتار چڑھاؤ بھی بہت آئے مگر ہر ایک سے نبرد آزما ہوکر خیرکم من تعلم القرآن و عملہ اور بلغوا عنی و لو ایة کا عملی مصداق بن کر اپنے مشن میں لگے رہے جس کا ثمرہ ہے کہ بعض طلباء نے آپ کے پاس حفظ کی تکمیل کی جس میں سرِ فہرست ، مدرسہ دار القرآن امیینہ مسجد کے محنتی اور قابلِ قدر استاذ مولانا محمد عادل اشاعتی صاحب ہیں اور مالیگاؤں شہر کے مشہور ڈاکٹر شیخ حُسن الدین صاحب کے فرزند ڈاکٹر سہیل احمد صاحب نے حفظ کی تکمیل آپ ہی کے پاس کیں جس کی خوشی میں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا، جس میں صدارت آپ کے استاذ محترم حافظ بشیر احمد صاحب رح نے فرمائی اور مقررِ خصوصی کی حیثیت سے معلم الحُجّاج حضرت مولانا حسین احمد ملی صاحب رح نے اس اجلاس میں شرکت فرما کر بہت سراہنا کیں اسی طرح 3 سال تک مدرسہ گلشنِ مالک میں (گلشنِ مالک) حفظِ کلاس کی تدریس سے وابستہ رہے جہاں پر 3 طلباء نے آپ کے پاس تکمیلِ حفظ قرآن کی سعادت حاصل کیں، چوں کہ خداوند متعال نے آپ کو مُعلّمِ ملہم کے خصوصی وصف سے نہال فرمایا ہیں کہ آپ کے اندر نونہالانِ قوم کی خفتہ استعداد اور خام صلاحیتوں کو پختہ کرنے ان پر سان چڑھانے اُنھیں نکھارنے، سنوارنے، اور تیز کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت پنہاں ہے، 
⬜*تدریسی و اصلاحی خدمات*⬜
آپ تسلسل کے ساتھ فراغت سے قبل ہی درس تدریس، امامتِ تراویح اور اصلاحی کاموں سے مربوط ہوگئے تھے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے، چوں کہ تعلیم و تدریس کا پیشہ بڑا اہم ہے یہ انسان کی صنّاعی کا ہنر ہے بل کہ یہ کانچ کی کاریگری سے بھی زیادہ نازک ہے اس میں استاذ طالب علم کی تعلیم و تربیت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے بحیثیتِ مسلمان بنانے کی کوشش کرتا ہیں آپ نے بھی اپنی 40 سالہ تدریسی دورانیہ میں ان ہی باتوں کو مدِّ نظر رکھ کر درس پیشہ تدریس سے وابستہ رہے، اور ہیں 
⬜*مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کا مُستحسن اقدام*⬜ 
جمود کی چھائی ہوئی ہماری اس فضا میں کسی کی حوصلہ افزائی کرنا یا خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اعزاز کرنا قابلِ تقلید عمل ہے کیوں کہ کتنی ہی صلاحیتیں ہیں جن کے جوہر پر حوصلہ شکنی کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور کتنی ہی ایسی قابلیتیں ہیں جن کی چنگاریوں کو جمود کے خاکستر نے بجھا رکھا ہے اس لیے حوصلہ افزائی کرنا انبیاء کی سنت اور صالحین کا شیوہ ہے چناں چہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق فرمایا وَ اَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنّی لِسَناً فَاَرْسِلْهُ مَعِیْ رِداً (سورہ قصص)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا گیا قیل لرسول صلی اللہ علیہ وسلم ارأیت الرجل یعمل العمل من الخیر و یحمدہ النّاس علیه قال تلک عاجل بشری (مسلم شریف) ایتِ قرآنیہ اور حدیث نبوی سے بھی حوصلہ افزائی کا ثبوت ملتا ہے، مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کے ذمہ داران خصوصاً مولانا سفیان احمد جمالی صاحب (صدر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ ) یقیناً قابلِ مبارک باد ہے چناں چہ حافظ صاحب کی 40 سالہ تدریسی خدمات پر مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ کی جانب سے 20 اکتوبر 2026 حافظ نہال احمد ملی صاحب کا اعزاز و استقبال کیا جائے گا
منجانب مجلس ابنائے قدیم مدرسہ اسلامیہ مالیگاؤں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔