ہم نے دین کو الفاظ میں محفوظ کر لیا، کردار سے نکال دیا۔ازقلم : عنایت اللہ خان یوت محل۔
ہم نے دین کو الفاظ میں محفوظ کر لیا، کردار سے نکال دیا۔
ازقلم : عنایت اللہ خان یوت محل۔
آج ہمارا ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم نے دین کو بہت کچھ بولنا سیکھ لیا ہے، مگر اسے جینا بھول گئے ہیں۔ ہماری زبانوں پر دین کی باتیں ہیں، ہماری مجلسوں میں نصیحتیں ہیں، سوشل میڈیا پر احادیث اور اقوال کی بھرمار ہے، لیکن جب معاملہ ہمارے کردار، رویّے، معاملات اور اخلاق کا آتا ہے تو وہی دین کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
آج تقریباً ہر شخص نصیحت کرنے میں صوفی نظر آتا ہے، مگر اپنے رویّے میں دوسروں کے لیے سخت، بے رحم اور کبھی کبھی ظالم بن جاتا ہے۔ ہم دوسروں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں، مگر خود ذرا سی بات پر غصے میں آ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کو معاف کرنے کا درس دیتے ہیں، مگر اپنی ذات کے خلاف ہونے والی معمولی بات بھی برسوں دل میں رکھتے ہیں۔ ہم حقوق العباد کی بات کرتے ہیں، لیکن کسی کا حق روکنے، دل دکھانے، بدنام کرنے یا ناانصافی کرنے میں ہمیں زیادہ تردد نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ ہمیشہ علم کی کمی نہیں ہوتا، بلکہ اکثر نیت، اخلاص اور عمل کی کمزوری ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ غلط ہے، غیبت گناہ ہے، ظلم حرام ہے، کسی کی عزت مجروح کرنا گناہ ہے، یتیم اور کمزور کا حق مارنا ظلم ہے، والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ضروری ہے۔ پھر بھی ہم جانتے بوجھتے ان باتوں سے گزر جاتے ہیں۔
ہماری زبانیں جنت کی باتیں کرتی ہیں، لیکن ہمارے اعمال بعض لوگوں کی زندگی جہنم بنا دیتے ہیں۔
کبھی ایک سخت جملہ کسی انسان کے دل میں برسوں کا زخم چھوڑ دیتا ہے۔ کبھی ہماری بے حسی کسی مجبور کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ کبھی کسی کے حق کو دبانا اس کے گھر کا سکون چھین لیتا ہے۔ کبھی ہماری جھوٹی بات کسی کی عزت کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔ اور کبھی ہم یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی خود کو دیندار سمجھتے رہتے ہیں۔
دین صرف نماز، روزہ، تلاوت، ذکر اور ظاہری عبادات کا نام نہیں؛ یہ اخلاق، عدل، امانت، رحم، سچائی، برداشت، عفو و درگزر اور حقوق العباد کا بھی نام ہے۔ عبادت انسان کے اندر عاجزی، رحم اور تقویٰ پیدا کرے تو اس عبادت کا اثر اس کے کردار میں دکھائی دیتا ہے۔
اگر ہماری عبادت ہمیں متکبر بنا رہی ہے، ہماری دینداری ہمیں دوسروں کو حقیر سمجھنے پر مجبور کر رہی ہے، ہماری زبان ذکر کرتی ہے مگر لوگوں کے دل زخمی کرتی ہے، تو ہمیں دوسروں کا محاسبہ کرنے سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
اسلام کو صرف بولنے کی نہیں، عمل میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے گھر والے ہمارے ساتھ کیسا محسوس کرتے ہیں، ہمارے ماتحت ہمارے رویّے سے کتنے محفوظ ہیں، ہمارے پڑوسی ہم سے کتنے مطمئن ہیں، ہمارے معاملات میں کتنی دیانت ہے، اور جن لوگوں سے ہمیں اختلاف ہے، ہم ان کے ساتھ بھی کتنا انصاف کرتے ہیں۔
اصل دینداری اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان کے پاس کسی پر ظلم کرنے کا اختیار ہو مگر وہ ظلم نہ کرے؛ کسی کی خامی اچھالنے کا موقع ہو مگر وہ پردہ پوشی کرے؛ بدلہ لینے کی طاقت ہو مگر معاف کر دے؛ کسی کا حق دبانے کا راستہ ہو مگر امانت داری اختیار کرے۔
دین الفاظ سے نہیں، کردار سے پہچانا جاتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ اسلام کیا کہتا ہے، بلکہ اپنے عمل سے یہ بھی دکھانا ہوگا کہ اسلام کیسے جیا جاتا ہے۔ کیونکہ آنے والی نسلیں ہماری تقریروں سے زیادہ ہمارے کردار سے دین سیکھیں گی۔
آئیے، دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے رویّے کا جائزہ لیں۔
اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے پہلے اپنے دل کو دیکھیں۔
اپنی عبادت کے ساتھ اپنے معاملات کو بھی درست کریں۔
اور دین کو صرف کتابوں، تقریروں اور الفاظ میں محفوظ رکھنے کے بجائے اپنے اخلاق، اپنے معاملات اور اپنے کردار میں زندہ کریں۔
کیونکہ ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم مسلمان ہیں؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے کردار کو دیکھ کر دنیا محسوس کرے کہ ہم واقعی اسلام کو جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہم نے اسلام بولنا سیکھ لیا ہے، اب اسے جینا بھی سیکھنا ہوگا۔
Comments
Post a Comment