اپنے بچوں کو زمانے کی زہر آلود فضاؤں سے دور رکھیں. - ازقلم : مجاہد محمود خان،کاسودہ - (معلم اینگلو اُردو ہائی اسکول پاچورہ،ضلع جلگاؤں)
اپنے بچوں کو زمانے کی زہر آلود فضاؤں سے دور رکھیں. -
ازقلم : مجاہد محمود خان،کاسودہ -
(معلم اینگلو اُردو ہائی اسکول پاچورہ،ضلع جلگاؤں)
بڑھتی ہوئی سائنسی ترقی جہاں ہمارے لیے بے شمار آسانیوں کا سامان لائی ہے، وہیں یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا فکری اور اخلاقی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ آج کی اس پرفتن اور تیز رفتار دنیا میں انسان اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اسے یہ ہوش بھی نہیں کہ جن جدید آلات اور ذرائع کو وہ روزمرہ زندگی میں استعمال کر رہا ہے، ان کے اخلاقی اور معاشرتی اثرات اس کے بچوں کی معصوم زندگیوں کو کس طرح تباہ کر رہے ہیں۔ والدین محض اپنی آسانی کے لیے بچوں کے ننھے ہاتھوں میں موبائل تھما دیتے ہیں یا انہیں گھنٹوں ٹی وی اسکرین کے سامنے بٹھا دیتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ اس کے کتنے بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
جس عمر میں بچوں کے ذہنی اعصاب پختہ بھی نہیں ہوتے، اس مرحلے پر سوشل میڈیا کی بے لگام فضا، نام نہاد غلط ویڈیوز، غیر معیاری خبریں اور سنسنی خیز ڈرامے ان کے سامنے پروس دیے جاتے ہیں۔ ان مواد کا بچوں کے لاشعور پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے اور ان کی شخصیت نکھرنے کے بجائے پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ آج سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی ریٹنگ اور ویوز بڑھانے کی دوڑ میں ایسی ویڈیوز اور پیغامات عام کر رہا ہے جو معصوم ذہنوں کو شش و پنج اور فکری انتشار میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
سائنسی حقائق بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بچے وہی کچھ بہت جلد سیکھتے اور اپناتے ہیں جو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات میں تمیز نہیں کر پاتے کہ کیا درست ہے اور کیا محض تخریب کاری، تشدد یا ذہنوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ جس عمر میں بچوں کو عصری علوم اور بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ ہونا چاہیے، اسی عمر میں انہیں ایسی فحش اور گمراہ کن فضا کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انہیں مذہب اور اخلاقی اقدار سے متنفر کر رہی ہے۔
آج معاشرے کا ایک طبقہ محض اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس زہر آلود مواد کو عام کرنے میں مصروف ہے، جس کا خمیازہ آنے والی کئی نسلوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ معصوم بچے تو اس کورے کاغذ کی مانند ہیں جن پر جس طرح چاہیں تحریر سجائی جا سکتی ہے، مگر افسوس کہ آج اس کورے کاغذ پر تشدد، گمراہی، بغاوت اور بے ہودگی کی سیاہی چھوڑی جا رہی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔ وہ اس بات سے باخبر رہیں کہ ان کے بچے کس قسم کا مواد پسند کر رہے ہیں، ان کی دلچسپیاں کہاں ہیں اور وہ اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا کے کن پلیٹ فارمز پر گزار رہے ہیں۔ اپنے بچوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات کی فکر کریں، انہیں اپنا قیمتی وقت دیں، ان کی صحبت کا خیال رکھیں اور ان کی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار کی روشنی داخل کریں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں آپ کی بہترین تربیت کی گواہی بن سکیں۔
Comments
Post a Comment