آدیباسی قبائلی تحریک کی حمایت میں ایکتا تنظیم کی انسان دوست پہل؛ دو ہزار مظاہرین کے لیے طعام کا انتظام - "جلگاؤں میں چار روز سے جاری احتجاج کے دوران ایکتا تنظیم سرگرم؛ مطالبات کی یکسوئی کے لیے وزراء سے مداخلت کی اپیل"
آدیباسی قبائلی تحریک کی حمایت میں ایکتا تنظیم کی انسان دوست پہل؛ دو ہزار مظاہرین کے لیے طعام کا انتظام -
"جلگاؤں میں چار روز سے جاری احتجاج کے دوران ایکتا تنظیم سرگرم؛ مطالبات کی یکسوئی کے لیے وزراء سے مداخلت کی اپیل"
جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): زمین اور جنگلات پر حقوق، راشن کارڈ، آدھار کارڈ سمیت مختلف مطالبات کو لے کر لوک سنگھرش مورچہ کی قیادت میں آدیباسی قبائلی برادری کا احتجاج گزشتہ چار روز سے ضلع کلکٹر دفتر کے سامنے جاری ہے۔ شدید دھوپ میں اپنے حقوق کے لیے جد وجہد کرنے والے ہزاروں مظاہرین کی دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے جلگاؤں ضلع ایکتا تنظیم نے انسان دوستی کا مظاہرہ کیا اور جمعرات کو تقریباً دو ہزار قبائلی خواتین و مردوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ تنظیم کی جانب سے جمعہ کو بھی کھانا فراہم کیا جائے گا۔ یہ اطلاع فاروق شیخ نے دی۔ اس موقع پر فاروق شیخ نے سوال اٹھایا کہ جب سماجی تنظیمیں مظاہرین کے لیے کھانے کا انتظام کرنے کی غرض سے آگے آسکتی ہیں، تو جلگاؤں ضلع کے چار وزراء میں سے کوئی ایک بھی ان کے مسائل سننے اور مطالبات پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے احتجاجی مقام پر کیوں نہیں پہنچتا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ایکتا تنظیم قبائلی برادری کے جائز اور آئینی مطالبات کی حمایت میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔تنظیم کے ایک وفد نے ضلع کلکٹر کے توسط سے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی مظاہرین کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ متعلقہ وزراء احتجاجی مقام پر پہنچ کر مظاہرین سے براہِ راست بات چیت کریں، تاکہ ان کے مطالبات پر مثبت فیصلہ لے کر انہیں راحت فراہم کی جاسکے۔
اس موقع پرحافظ عبد الرحیم پٹیل، مولانا قاسم، مولانا شفیق پٹیل، مولانا عمران کاکر، مولانا غفران، انور صیقلگر ، متین پٹیل، عارف دیشمکھ سمیت ایکتا تنظیم کے دیگر اراکین موجود تھے۔
Comments
Post a Comment