شبنم بھابی۔۔۔ ذرا ٹھہر جاتیں بہار آنے کو تھی - "سعید پٹیل کی شریکِ سفر کو خراجِ عقیدت" بقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں


شبنم بھابی۔۔۔ ذرا ٹھہر جاتیں بہار آنے کو تھی - 
"سعید پٹیل کی شریکِ سفر کو خراجِ عقیدت" 
بقلم : عقیل خان بیاولی، جلگاؤں

کلُّ نفسٍ ذائقةُ الموت 
موت وہ اٹل حقیقت ہے جس سے صاحبِ ایمان کو انحراف نہیں ہوسکتا۔ اس دنیا میں کسی کو ثبات نہیں، مگر انسان ایک آس، ایک امید اور ایک خواب کے سہارے زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔ کبھی کبھی زندگی کی بہار اپنے عروج پر پہنچنے ہی والی ہوتی ہے کہ اچانک خزاں آکر سب کچھ ویران کر دیتی ہے۔ شبنم بھابی کا بہ روز جمعہ ٢٣ اکتوبر ٢٠٢٦ شام ٤ بجے کے قریب رخصت ہونا بھی کچھ ایسا ہی سانحہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بہار آنے کو تھی، مگر شبنم ہی باغ سے رخصت ہوگئیں۔
سعید پٹیل میرے دیرینہ انتہائی قریب، مخلص، شریف النفس، صوم و صلوٰۃ کے پابند، وفا شعار، بے غرض اور حقیقت پسند ساتھی ہیں۔ جن کا ظاہر و باطن ایک سا ہے خالص توکلت اللہ ان کا یقین ہے نفس پر قابو اور تذکیہ نفس ان کا شیوہ ہے ۔انہوں نے کم عمری ہی میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو بہت قریب سے دیکھا۔ والدِ ماجد کا سایہ نو عمری میں اٹھ گیا۔ دیہی زندگی، محدود وسائل، غربت اور حالات کی سختیاں ان کے خاندان کا مقدر رہیں۔ والدہ ماجدہ نے کھیت کھلیانوں میں محنت مزدوری کی، لکڑیاں جمع کیں، مگر بچوں کی تعلیم و تربیت پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ بڑے بھائی الحاج اقبال پٹیل کو میونسپل کارپوریشن میں بحیثیت معلم ملازمت ملی، لیکن معاشی حالات پھر بھی آسان نہ ہوئے۔
سعید پٹیل نے بھی حالات بدلنے کے لیے کبھی بیرونِ ملک روزگار اختیار کرنے کا ارادہ کیا، مگر والدہ اور بڑے بھائی نے انہیں گھر سے دور جانے نہ دیا۔ تدریس سے وابستہ ہوئے، شہاڑ پھاٹہ، کلیان تعلقہ میں تدریسی خدمات انجام دیں، مختلف مقامات پر عارضی ملازمتیں کیں، مگر مستقل سرکاری ملازمت نصیب نہ ہوئی۔ بالآخر جلگاؤں کی معروف کیلا سپلائی فرم نثار اینڈ کمپنی میں دیوان جی کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا اور اپنی دیانت، امانت اور فرض شناسی کے باعث تقریباً چار دہائیوں سے اسی ادارے کا لازمی حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کی دیانت کا یہ عالم رہا کہ مالکان کی کئی نسلیں بدل گئیں، مگر اعتماد کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔ ایسے کٹھن سفر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں شبنم بھابی جیسی شریکِ حیات عطا فرمائی ،نرم مزاج، خوش اخلاق، سمجھدار، صابر، عبادت گزار اور حالات کا مقابلہ کرنے والی امانتدار مہمان نواز ماہر امور خانہ داری قیادتی صفت شریف خاندان کی نور نظر خاتون۔ ایک باحجاب خاتون جو کبھی اپنے قریبی مگر نامحرم مرد کے سامنے نہیں آئی نہ کبھی کیمرہ کے سامنے آئی ان کا ذکر آج ہوا تو پتہ چلا آدھار کارڈ و الیکشن کارڈ اور بینک پاس بک پر ہی ان کی فوٹو ہے اس کے علاوہ کہی نہیں۔ دونوں نے زندگی کی آسائشوں سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دی۔ ایک طویل عرصہ کرائے کے مکان میں گزارا، پھر ایک قریبی رشتہ دار کی زمین پر لکڑی اور ٹن کے کچے مکان میں زندگی کے ہر موسم کا مقابلہ کیا؛ مگر حوصلہ کبھی شکستہ نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو بیٹوں ڈاکٹر شعیب،ثاقب آئی ٹی انجینر‌ اور ایک بیٹی آفرین سے نوازا۔ غربت اور محدود وسائل کے باوجود شبنم بھابی اور سعید بھائی نے اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا، چھوٹے کو آئی ٹی کی تعلیم دلوائی اور بیٹی کو بارہویں جماعت کے ساتھ دینی تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔ ان کے نزدیک بچوں کی کامیابی صرف دنیاوی تعلیم تک محدود نہیں تھی؛ دین، اخلاق اور کردار بھی ان کی تربیت کا لازمی حصہ تھے۔
شبنم بھابی ایک مثالی بہو بھی تھیں۔ ساس کی آخری عمر میں جس طرح خدمت کی، ایک امانتدار خاتون جس نے زندگی کے آخری دنوں میں اپنی لڑکی وہ بہو کے سپرد وہ سب کر دیا جو ان کے حقوق بنتے تھے اتنا ہی نہیں تو رشتے داروں کی امانتیں بھی دے دی جو انہوں نے بطورِ امانت ان کے پاس رکھی تھی ، یہ ان کی خاندانی تربیت اور اعلیٰ کردار کی روشن مثال ہے۔ شوہر کی بیماری نے جب طویل آزمائش کی صورت اختیار کی تو وہ آخری دم تک ان کی خدمت میں مصروف رہیں۔ کبھی ناسک، کبھی ممبئی اور کبھی جلگاؤں کے اسپتال ،گزشتہ چار برس ان کی زندگی کا بڑا حصہ شوہر کی تیمارداری میں گزرا۔ اپنی راحت، آرام اور خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر انہوں نے شریکِ حیات کا ساتھ نبھایا۔ ان کی عبادت گزاری کا عالم بھی قابلِ رشک تھا۔ فرض نماز، روزے اور تراویح کے ساتھ نفلی عبادات کا بھی اہتمام رہتا۔ سعید بھائی کبھی شدید گرمی، بیماری یا ذمہ داریوں کی زیادتی کے باعث کہتے کہ شاید اگلے روز روزہ نہ رکھ سکیں، مگر صبح ہوتی تو شبنم بھابی اور وہ روزے سے ہوتیں۔ ماہِ محرم، عیدالاضحی اور طاق راتوں کی عبادات میں بھی ان کی دلچسپی برقرار رہتی۔ انہوں نے دین کو صرف خود تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی اولاد کی تربیت بھی اسی روشنی میں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بچے آج بھی دینی سرگرمیوں سے وابستہ نظر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی محنتوں کا پھل بھی دکھایا۔ تینوں اولادیں اپنے اپنے مقام پر زندگی کی بہار دیکھ رہی ہیں۔ بچوں کے مستقبل سنورنے لگے، گھر میں خوشیوں کی کلیاں کھلنے لگیں، برسوں کی جدو جہد کا حاصل سامنے آنے لگا،مگر عین اسی وقت باغ کی مالی، شبنم، خود باغ سے رخصت ہوگئیں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ جس ماں نے اولاد کے روشن مستقبل کے لیے اپنی پوری زندگی قربان کردی، وہ ان کی کامیابیوں کا بھرپور جشن دیکھنے سے پہلے ہی چلی گئی۔ جس بیوی نے بیماری، غربت، تنگ دستی اور آزمائش کے ہر مرحلے میں شوہر کا ہاتھ تھامے رکھا، وہ خود سکون کی چند گھڑیاں نصیب ہونے سے پہلے رخصت ہوگئی۔ جس بہو نے ساس کی خدمت کو سعادت سمجھا، وہ اپنے لیے آرام کا لمحہ تلاش کیے بغیر اس دنیا سے چلی گئی۔
شبنم صرف ایک نام نہیں تھا؛ وہ ایک کردار تھا ،صبر کا، وفا کا، عبادت کا، امانت داری کا مہمان نوازی کا قربانی کا اور ممتا کا۔ آج سعید پٹیل کے گھر میں سب کچھ ہے، اولاد ہے، پوتا پوتی نواسے ہیں،کامیابیاں ہیں، امیدیں ہیں، مگر اس گھر کی وہ شبنم نہیں جو ہر دکھ کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔ باغ میں پھول ہیں، کلیاں ہیں، شاخوں پر چہچہاہٹ ہے، مگر باغ کی آنکھیں اس شبنم کو تلاش کر رہی ہیں جو ہمیشہ کے لیے افقِ آخرت کی طرف چلی گئی۔
شاید واقعی بہار آنے کو تھی۔۔۔ مگر شبنم ٹھہر نہ سکیں۔ اس موقع پر سعید بھائی سے یہی کہوں گا کہ تمام فیصلے اللہ کی مرضی سے ہوتے ہیں اور اس کی حکمت کو ہم نہیں جانتے آج تم جن تکالیف کا سامنا کر رہے ہوں اس کے لئے تمہاری ڈھال نہیں رہی عمر کے اس پڑاؤ میں جس کی سخت ضرورت ہوتی ہے وہ نہ رہی مگر تمہیں ماضی کا حوصلہ برقرار رکھتے ہوئے شبنم کے بغیر سبزہ قائم رکھنا ہے ۔
اللہ رب العزت شبنم بھابی کی تمام عبادات، خدمات، صبر، قربانیوں اور حسنِ سلوک کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سعید بھائی کو بھی حوصلہ دے کہ وہ خود ایک بڑے مرض کے ساتھ شبنم بھابی کے تحفظ کے لئے اپنے دامن کو پھیلاۓ رکھے اپنی شدید زخموں کو پیٹ میں لیۓ ان کے لئے رات رات جاگتے رہے عبادات ذکر الٰہی کرتے رہے ان کے لیے خصوصی ڈائیٹ و ادویات بیرونِ شہر سے منگواۓ، اسی طرح اولاد نے بھی خدمت کو کوئی کمی نہ رکھیں اللہ ان تمام کی خدمات کو بھی قبول کرے اور تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
غم گسار۔
عقیل خان بیاولی جلگاؤں
مورخہ۔ ٢٤ اکتوبر ٢٠٢٦ء
سنیچر ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔