نثری نظم - ہجرت - از قلم : رہبر تماپوری۔
نثری نظم -
ہجرت -
از قلم: رہبر تماپوری۔
گھر چھوٹ گیا،
مگر گھر میرے اندر رہ گیا۔
وہی دہلیز،
جہاں رخصت ہوتے وقت
ماں کی آنکھوں میں
کچھ دعائیں تھیں، کچھ سوال۔
وہ گلیاں،
جہاں میرا بچپن دوڑتا تھا،
وہ آنگن، وہ شجر،
بھائی بہنوں کی ہنسی اور شرارتیں،
اور صبح کی پہلی بانگ پر
بیدار ہوتا ہوا گاؤں—
سب کچھ پیچھے رہ گیا۔
روزگار نے پکارا
اور میں چل پڑا؛
کچے پکے راستے
آہستہ آہستہ
میرے گاؤں کو مجھ سے دور کرتے گئے۔
شہر پہنچا تو
آسمان کو چھوتی عمارتیں بھی دیکھیں،
اور انہی کے سائے میں
نالیوں کے کنارے سمٹی ہوئی بستیاں بھی۔
تب امی کی بات یاد آئی:
’’گھر کچھ نہیں ہوتا،
چار دیواریوں پر چھت ہوتی ہے۔‘‘
مگر دور آ کر سمجھا
کہ گھر صرف دیواریں نہیں ہوتا؛
گھر تو وہ آواز ہے
جو بھیڑ میں بھی
اپنا نام لے کر پکارے۔
ملازمت کی تھکن
رات کے سناٹے میں اترتی ہے
تو تاروں کے بیچ
مجھے پھر وہی گلی دکھائی دیتی ہے،
وہی راستہ،
وہی دروازہ،
اور ماں کی آنکھیں۔
یہاں چہرے بہت ہیں،
مگر اپنے کم۔
تب سمجھ آیا
کہ ہجرت صرف شہر چھوڑنے کا نام نہیں؛
یہ اپنے اندر بسے ہوئے
ایک پورے جہان سے
دور ہونے کا نام بھی ہے۔
یہ ایک عمر سے دوسری عمر کا سفر ہے،
اور اپنے ہی اندر
ایک نئے انسان سے ملاقات کا نام ہے۔
میں جہاں بھی رہوں،
میری مٹی میرے ساتھ رہے گی؛
کیونکہ کچھ گھر
چھوڑے نہیں جاتے،
صرف ان سے دور ہوا جاتا ہے۔اس
Comments
Post a Comment