غزل - میرؔبیدری
غزل -
میرؔبیدری
میرؔکچھ کام کرکے اٹھ جائیں
خود کو بدنام کرکے اٹھ جائیں
اپنے دل پر بھروسہ رکھتے ہو
دل سے اقدام کرکے اٹھ جائیں
سامنے ہی وزیراعظم ہیں
خود کو بے دام کرکے اٹھ جائیں
یہ تو دارالعمل ہے میرے دوست
کیسے آرام کرکے اٹھ جائیں
بیٹھنے کے لئے ملی ہے نشست
اس کااِکرام کرکے اٹھ جائیں
کوئی اپنا وہیں پہ رہتاہے
ہاں سرِ شام کرکے اٹھ جائیں
وہ نظر آئے شرط یہ ہے نہیں
بس لب ِ بام کرکے اٹھ جائیں
اب کہ مولانا سے کہاسب سے
کوئی الہام کرکے اٹھ جائیں
وہ نہایت ہی نیک لوگ ہیں میرؔ
مجھ پہ دشنام کر کے اٹھ جائیں
Comments
Post a Comment