دوہے- امن اور محبت کی زبان‘‘ - لان کان بنجارہ ہلز میں ایک منفرد ادبی نشست کا انعقاد
حیدرآباد، 15 اکتوبر: سی ڈی پی پی (CDPP) بزمِ سخن کے زیرِ اہتمام 14 اکتوبر کو لامکاں، بنجارہ ہلز میں ’’دوہے، امن اور محبت کی زبان‘‘ کے عنوان سے ایک ادبی نشست منعقد ہوئی۔ پروگرام کے آغاز میں پروگرام کی کنوینر اور ناظمِ اجلاس رفیعہ نوشین نے کہا کہ اس نشست کا مقصد نئی نسل کو دوہے کی صدیوں پرانی روایت اور اس میں پوشیدہ محبت، امن اور انسانی اقدار کے پیغام سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے نظامت کے فرائض انجام دیے اور اپنی مربوط و دل نشیں پیش کش کے ذریعے شرکاء کو آغاز سے اختتام تک پروگرام سے وابستہ رکھا۔
معروف ہندی و سندھی شاعرہ محترمہ سنیتا للا نے دوہوں کی تاریخ، روایت اور فنی خصوصیات پر بصیرت افروز گفتگو کی۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز فرخ لودھی، نکہت پروین، رادھیکا اور محمد آصف کے علاوہ نوجوان مصنفہ آمنہ سحر نے مختلف شعراء کے دوہے ان کے مفاہیم کے ساتھ پیش کیے، جنہیں حاضرین نے سراہا۔
بزم کی سرپرست محترمہ انیس عائشہ نے نوجوانوں کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادبی سرگرمیوں میں نئی نسل کی شمولیت نہایت اہم ہے۔ انہوں نے صدر شعبۂ اردو، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، پروفیسر عرشیہ جبین کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا۔
نشست میں سماجی کارکن محترمہ جسوین جیرتھ، معروف شاعرہ الیزبتھ کورین مونا، مزاحیہ شاعر نجیب احمد نجیب، پرویز حسنین، حمیدہ بیگم، محترمہ رحیم النساء اور مجیب النساء سمیت متعدد اہلِ ذوق کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام وقت کی پابندی کی عمدہ مثال ثابت ہوا اور شام ساڑھے چھ بجے شروع ہو کر ساڑھے آٹھ بجے اختتام پذیر ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment