علم بانٹنے سے کم نہیں، بڑھتا ہے - بسلسلہ یومترغیپ مطالعہ - ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں
علم بانٹنے سے کم نہیں، بڑھتا ہے -
بسلسلہ یومترغیپ مطالعہ -
ازقلم : عقیل خان بیاولی جلگاؤں
اللہ کی عطا کو دوسروں تک پہنچانا ہی علم کی حقیقی برکت ہے.
جنت کے بارے میں روایات و کتبِ دینیہ میں ایسے ایمان افروز مضامین ملتے ہیں جو انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جنت کے پھل اس طرح ہوں گے کہ جب کوئی پھل توڑا جائے گا تو اس کی جگہ فوراً دوسرا پھل نمودار ہوجائے گا۔ اسی سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک خوب صورت مثال بیان کی جاتی ہے کہ جنت نور سے بنی ہے اور نور کی خاصیت یہ ہے کہ وہ تقسیم ہونے سے کم نہیں ہوتا۔ جیسے ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن کیا جائے تو پہلے چراغ کی روشنی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، بلکہ ایک اور چراغ بھی روشن ہوجاتا ہے؛ اسی طرح جنت کی نعمتیں ختم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی اور تازہ ہوتی رہتی ہیں۔ یہ مثال ہمیں زندگی کا ایک نہایت اہم سبق دیتی ہے: علم بھی نور ہے۔ اللہ تعالیٰ جس انسان کو علم عطا فرماتا ہے، وہ دراصل اسے ایک امانت سونپتا ہے۔ علم کو صرف اپنے تک محدود رکھنا اس نعمت کی روح کے خلاف ہے۔ علم کی اصل خوب صورتی یہ ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے، کسی طالب علم کی رہنمائی کی جائے، کسی الجھن میں مبتلا شخص کو صحیح راستہ دکھایا جائے، کسی بچے کے ذہن میں شعور کا چراغ روشن کیا جائے اور کسی ضرورت مند کو ایسی بات سکھائی جائے جو اس کی زندگی بدل دے۔ ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم اپنا علم دوسروں کو سکھائیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ علم بانٹنے سے علم کم نہیں ہوتا، اس کی برکت بڑھتی ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو کچھ سکھاتا ہے تو استاد کا علم ختم نہیں ہوتا؛ بلکہ وہی علم شاگرد کے ذریعے مزید ذہنوں تک پہنچتا ہے۔ ایک اچھی بات جب ایک شخص سے دوسرے تک پہنچتی ہے تو اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ علم دولت کی طرح نہیں کہ خرچ کرنے سے مقدار کم ہوجائے۔ علم تو چراغ کی مانند ہے؛ ایک چراغ سے ہزار چراغ روشن ہوسکتے ہیں، مگر پہلے چراغ کی روشنی میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اسی لیے ہمیں اپنے علم کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور امانت سمجھنا چاہیے۔ جو کچھ ہم جانتے ہیں، اس میں ہماری اپنی کاوش ضرور شامل ہوسکتی ہے، مگر علم کی بنیادی نعمت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لہٰذا اس عطا کا شکر یہ ہے کہ اسے دوسروں تک پہنچایا جائے۔ خصوصاً اہلِ علم، اساتذہ، علماء، دانش وروں اور قلم کاروں کی ذمہ داری اس حوالے سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کے الفاظ کسی کے لیے راستہ بن سکتے ہیں، ان کی تحریر کسی کے لیے فکر کا دروازہ کھول سکتی ہے اور ان کی رہنمائی کسی کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
علم چھپانے سے نہیں، بانٹنے سے زندہ رہتا ہے۔
آئیے ہم یوم ترغیب مطالعہ پرعہد کریں کہ جو علم، تجربہ اور شعور اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے، اسے اخلاص کے ساتھ دوسروں تک پہنچائیں گے۔ کسی کو کمتر سمجھ کر نہیں، احسان جتا کر نہیں، بلکہ اللہ کی عطا سمجھ کر۔
کیونکہ ممکن ہے ہماری بتائی ہوئی ایک بات کسی کے لیے علم کا چراغ بن جائے، اور وہ چراغ آگے کئی چراغ روشن کردے۔ یہی ہمارے میزائل مین عالمی شہرت یافتہ سائنسدان آنجہانی صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام بھی چاہتے تھے اسی لیے ان کے یوم پیدائش کو یومِ ترغیب مطالعہ کے طور پر منعقد کیا جاتا ہے ۔
علم بانٹتے جائیے؛ چراغ جلاتے جائیے۔
چراغ جتنا بانٹتا ہے، اتنا ہی اس کا اجالا بڑھتا ہے۔ تو آئیں عہد کریں کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی جتنا بھی علم ہے ہم اسے اوروں کو بانٹیں گے۔ یہی دین و دنیا کی بھلائی کا راستہ ہے
Comments
Post a Comment