عنوان: چکش اور موتی جیسے دانت - ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ اسکول اسسٹنٹ، اردو ضلع پریشد اردو ہائی اسکول ۱۴ کنڈیگا، چتور آندھرا پردیش، بھارت۔
عنوان: چکش اور موتی جیسے دانت -
ڈاکٹر آر۔ ایس۔ رحمت اللہ اسکول اسسٹنٹ، اردو ضلع پریشد اردو ہائی اسکول ۱۴ کنڈیگا، چتور آندھرا پردیش، بھارت۔
9440305218 :موبائل نمبر
پندرہ برس کا طویل عرصہ بیت گیا، لیکن ماضی کے دھندلکوں سے ابھرنے والی وہ تصویریں آج بھی اتنی ہی روشن ہیں جیسے کل ہی کی بات ہو۔ بائریڈی پلی کے اردو ہائی اسکول کا وہ چھوٹا سا برآمدہ، بچوں کی چہچہاہٹ اور ساتویں جماعت کا وہ پرنور ماحول۔ اس کلاس میں بچوں کا ایک میلہ سا لگا رہتا تھا، مگر دو طالبات ایسی تھیں جو تمام بچوں میں نمایاں اور استاد کے دل کے سب سے قریب تھیں۔
ایک تھی سمیہ—حسین و جمیل، نازک اور بلا کی ذہین۔ اور دوسری تھی شہستہ—سانولی رنگت، بظاہر خاموش لیکن محنت اور قابلیت میں کسی سے کم نہیں۔ شہستہ کا رنگ اگرچہ گہرا سانولا تھا، مگر قدرت نے اس کے چہرے پر ایک ایسا حسن بخشا تھا جو تبسم ریز ہوتے ہی دمک اٹھتا—اس کے دانت دودھ کی طرح سفید اور سچے موتیوں کی طرح چمکتے تھے۔ یہ دونوں طالبات اسکول کی آبرو تھیں اور جماعت میں ہر امتحان کے موقع پر دونوں کے درمیان علم و لیاقت کی ایک معصومانہ جنگ چھڑ جاتی۔
ایک روز ہفتہ وار امتحان کا نتیجہ آیا۔ سمیہ نے شہستہ سے صرف ایک نمبر زیادہ حاصل کیا تھا۔ وقفے کی گھنٹی بجتے ہی، جب تمام بچے کھیلنے میں مصروف ہو گئے، شہستہ سیدھی میرے پاس چلی آئی۔ اس کے معصوم چہرے پر شکوہ تھا، آنکھوں میں سچے آنسو اور ہونٹوں پر ایک معصومانہ تپش۔
”حضرت! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے ایک نمبر کیوں ملا؟“ اس نے شکوہ کرتے ہوئے پوچھا۔
میں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا، اس کی بے ساختہ محنت کو سراہا اور الفت سے سمجھایا:
”بہتر ہے بیٹی! آئندہ امتحانات میں تم اور زیادہ محنت کرنا، تمہیں اس سے بھی زیادہ نمبر ملیں گے۔“
استاد کی الفت اور محبت بھرے بول سنتے ہی اس کی تمام شکایتیں دھل گئیں۔ اس کا سانولا چہرہ کھل اٹھا اور جب وہ مسکرائی تو اس کے سفید شفاف دانت موتیوں کی طرح چمک اٹھے۔
کچھ دن بعد، یونہی شفقت اور طنز و مزاح کے پیرائے میں، میں نے شہستہ سے کہہ دیا:
”بیٹی! تمہارے یہ دانت دودھ سے بھی زیادہ سفید ہیں۔ کیا اپنے دو دانت مجھے دو گی؟“
شہستہ نے یہ بات سنی، بس ایک نظر مجھے دیکھا، ہلکا سا تبسم کیا اور خاموشی سے چلی گئی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ایک استاد کی مزاحاً کہی گئی بات کو اس پاکیزہ اور سچے دل والی بچی نے کتنے خلوص اور گہرائی سے اپنے دل پر نقش کر لیا ہے!
کچھ دنوں بعد، اسکول میں وقفے کا وقت تھا۔ میں دفتر میں اکیلا بیٹھا کچھ مطالعہ کر رہا تھا۔ اچانک شہستہ دبی زبان اور خاموش قدموں سے اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سچ اور جرات تھی۔ اس کا ایک ہاتھ پیٹھ کے پیچھے تھا، جیسے کوئی راز چھپا رکھا ہو۔
وہ بالکل میرے قریب آئی اور اپنی پیٹھ کے پیچھے سے وہ چیز نکال کر میرے سامنے میز پر رکھ دی۔
وہ لوہے کا ایک چھوٹا سا چکش تھا!
میں نے حیرت سے کبھی اس چکش کو دیکھا اور کبھی شہستہ کے چہرے کو۔ اس نے نہایت سنجیدگی اور سچائی سے کہا:
”حضرت! آپ کو کون سے دانت چاہیے؟ اس چکش سے نکال لیجیے۔“
میرا دل دھک سے رہ گیا۔ ایک لمحے کے لیے سکتہ سا چھا گیا۔ ایک استاد نے اپنی تدریسی زندگی میں ہزاروں طلبہ دیکھے ہوتے ہیں، لیکن اپنے استاد کے حرفِ آرزو کو پورا کرنے کے لیے چکش اٹھا لانے والی ایسی معصوم، بے باک اور سرشار طالبہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ دل کی جتنی پاکیزہ تھی، اخلاق کی بھی اتنی ہی شاہانہ تھی۔ اس کی اس معصومیت اور عقیدت کو دیکھ کر میری آنکھوں سے بے اختیار خوشی اور جذباتی لگاؤ کے آنسو چھلک پڑے۔ میں سوچتا ہی رہ گیا کہ اس مادیت پرست دور میں ایسے کھرے، سچے اور معصوم بچے بھلا کہاں ملتے ہیں!
شہستہ، جو اسکول سے پانچ کلومیٹر دور لکن پلی نامی بستی کی رہنے والی تھی، روزانہ پندرہ سے زائد بچوں کے ساتھ ایک مخصوص سواری میں بیٹھ کر اسکول آیا کرتی تھی۔ اس کی موجودگی سے کلاس روم میں ایک الگ ہی رونق رہتی تھی۔
لیکن تقدیر کا لکھا کچھ اور ہی تھا۔
چند ہی دن گزرے تھے کہ شہستہ کو ایک خطرناک اور شدید موسمی مرض آ گیا اور وہ اسکول نہ آ سکی۔ دو تین دن گزر گئے، ایک صبح جب میں نے دیکھا کہ لکن پلی سے آنے والی وہ سواری تو آئی ہے مگر اس میں سے شہستہ نہیں اتری، تو میرے دل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ میں نے فوراً اسکول کے ذریعے اس کا حال دریافت کیا۔
جب حقیقت کا علم ہوا اور جو خبر میرے کانوں میں پڑی، اس نے میرے پورے وجود کو لرزا کر رکھ دیا:
”حضرت... شہستہ اب اس دنیا میں نہیں رہی!“
یہ خبر سنتے ہی میرے ہاتھوں سے توازن بگڑ گیا، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور اشکوں کا ایک طوفان تھا جو روکے نہیں رکتا تھا۔ میں فوراً اسکول کے تمام بچوں کو ساتھ لے کر غم زدہ قدموں سے لکن پلی میں شہستہ کے گھر پہنچا۔
گھر میں ماتم برپا تھا۔ جب میں اس کے جسدِ خاکی کے قریب پہنچا تو اس کی نڈھال ماں گریہ کرتے ہوئے بولی:
”حضرت! وہ بسترِ مرگ پر آخری وقت تک آپ ہی کو یاد کر رہی تھی...“
میرے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔ میں خاموش تھا اور میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
آج اس بات کو نہ جانے کتنے سال بیت چکے ہیں۔ وقت کا دریا بہتا رہا، چہرے بدلتے رہے، لیکن آج بھی جب میں تنہائی میں بیٹھتا ہوں تو وہ سانولا معصوم چہرہ، وہ چکش اور موتیوں کی طرح چمکتے دودھ جیسے سفید دانت میری آنکھوں کے سامنے مجسم ہو جاتے ہیں۔
مجھے پورا یقین ہے کہ استاد کی عزت اور خلوص کا ایسا پیکر، میری وہ ہونہار شہستہ... آج بھی جنت کے سدابہار باغوں میں مسکراتی ہوئی ٹہل رہی ہوگی۔
Comments
Post a Comment