عورت کی تعلیم صرف ملازمت نہیں، شعور اور تربیت کا ذریعہ - از قلم : عالمہ مبین پالیگار - پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام
عورت کی تعلیم صرف ملازمت نہیں، شعور اور تربیت کا ذریعہ -
از قلم : عالمہ مبین پالیگار -
پرنسپل ماؤنٹ سینائی پی یو کالج بیلگام
8904317986
معاشرے میں جب عورت کی تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو اکثر ایک سوال سامنے آتا ہے:
"اگر عورت نے تعلیم حاصل کرلی تو کیا اس کے لیے نوکری کرنا بھی ضروری ہے؟"یہ سوال دراصل تعلیم کے مقصد کو محدود کر دیتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم صرف ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسان کو باشعور، باکردار، باصلاحیت اور ذمہ دار بنانے کا وسیلہ ہے۔اگر تعلیم کا مقصد صرف نوکری ہوتا تو ہر وہ شخص جسے ملازمت نہ ملے، اس کی تعلیم بے فائدہ قرار پاتی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم انسان کی سوچ، گفتگو، کردار، فیصلوں اور زندگی گزارنے کے انداز کو بہتر بناتی ہے۔
عورت کے لیے تعلیم کیوں ضروری ہے؟
عورت معاشرے کا ایک اہم فرد ہے۔ وہ بیٹی بھی ہے، بہن بھی، بیوی بھی اور ماں بھی؛ اور ان تمام رشتوں کے ساتھ وہ اپنی مستقل شخصیت، عقل، صلاحیت اور ذمہ داری رکھنے والی ایک انسان بھی ہے۔اسلام نے علم کی اہمیت کو بہت واضح کیا ہے۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی ہی "اقرأ" یعنی "پڑھیے" کے لفظ سے شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾
"اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔"
(سورۂ طٰہٰ: 114)علم کی یہ طلب صرف مردوں کے لیے مخصوص نہیں۔ عورت بھی اپنے دین، اپنی زندگی، اپنے حقوق و فرائض اور اپنے معاشرے کو سمجھنے کے لیے علم کی محتاج ہے۔
1۔ دینی زندگی کو درست کرنے کے لیے
عورت کو نماز، روزہ، طہارت، حجاب، نکاح، طلاق، عدت، حقوقِ زوجین، اولاد کی تربیت اور دیگر ضروری مسائل کا علم ہونا چاہیے۔ کیونکہ جس عمل کے صحیح اور غلط طریقے کا علم نہ ہو، اس عمل کو درست طریقے سے انجام دینا مشکل ہو جاتا ہے۔اس لیے عورت کے لیے ضروری دینی علم حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔
2۔ ایک باشعور ماں بننے کے لیے
یہ حقیقت بہت اہم ہے کہ ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔بچہ دنیا کو سب سے پہلے اپنی ماں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اس کی زبان، عادات، اخلاق، گفتگو، صفائی، نظم و ضبط اور بہت سی بنیادی اقدار گھر ہی سے تشکیل پاتی ہیں۔اگر ماں تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باشعور ہو تو وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔اسی لیے عورت کی تعلیم صرف عورت کی ذات تک محدود نہیں رہتی؛ اس کے اثرات پورے خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
3۔ اپنے حقوق و فرائض سمجھنے کے لیے
تعلیم یافتہ عورت اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے۔ وہ جذبات کے بجائے شعور اور حکمت کے ساتھ معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔تعلیم اسے یہ سکھاتی ہے کہ کہاں خاموشی حکمت ہے، کہاں گفتگو ضروری ہے، کہاں اپنے حق کا مطالبہ کرنا چاہیے اور کہاں اپنے فرض کو ترجیح دینی چاہیے۔
4۔ بدلتے ہوئے زمانے کو سمجھنے کے لیے
آج کا دور ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کا دور ہے۔ ایسے ماحول میں عورت کا بنیادی تعلیم سے محروم رہنا اسے بہت سے معاملات میں دوسروں کا محتاج بنا سکتا ہے۔تعلیم عورت کو دنیا کو سمجھنے، معلومات کی جانچ کرنے اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔
5۔ مشکل حالات کے لیے خود کو تیار رکھنے کے لیے
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی حالات بدل جاتے ہیں، کبھی خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی انسان کو غیر متوقع ذمہ داریاں اٹھانی پڑتی ہیں۔ایسے حالات میں تعلیم یافتہ عورت اپنی صلاحیت کے مطابق خاندان کا سہارا بن سکتی ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے:تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کو لازماً ملازمت کرنی ہی ہوگی؛ بلکہ تعلیم اسے اس قابل بناتی ہے کہ اگر کبھی ضرورت پیش آئے تو وہ اپنے علم اور صلاحیت کو مثبت انداز میں استعمال کر سکے۔
کیا تعلیم حاصل کرنے کے بعد عورت کے لیے جاب کرنا ضروری ہے؟
ہرگز نہیں۔تعلیم اور ملازمت دو الگ چیزیں ہیں۔ایک عورت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی مرضی اور حالات کے مطابق گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کو ترجیح دے سکتی ہے۔ وہ اپنی اولاد کی تربیت، گھر کے انتظام، دینی و سماجی خدمت، مطالعہ، تحریر، تدریس یا دیگر مثبت سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکتی ہے۔اسی طرح اگر وہ اپنی تعلیم کو کسی جائز اور باوقار پیشے میں استعمال کرنا چاہے اور اس کے حالات، ذمہ داریاں اور شرعی تقاضے اس کی اجازت دیں تو وہ ملازمت یا کاروبار بھی اختیار کر سکتی ہے۔ملازمت ایک انتخاب ہو سکتی ہے، تعلیم کی لازمی منزل نہیں۔جس طرح ہر تعلیم یافتہ مرد کا لازماً کسی خاص ملازمت میں جانا ضروری نہیں، اسی طرح عورت کی تعلیم کو بھی صرف نوکری کے پیمانے سے نہیں ناپنا چاہیے۔
پھر عورت کو کس حد تک تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟
یہ سوال بھی بہت اہم ہے۔عورت کو اتنی تعلیم ضرور حاصل کرنی چاہیے جس سے وہ:اپنے دین کو سمجھ سکے،
اپنی زندگی کے ضروری معاملات جان سکے،
اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہو،
اپنی اولاد کی بہتر تربیت کر سکے،
معاشرے کو سمجھ سکے،
اور ضرورت کے وقت اپنے علم و صلاحیت کو استعمال کر سکے۔اس کے بعد اگر اس میں کسی خاص شعبے کی صلاحیت اور دلچسپی ہو تو وہ اس میدان میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر سکتی ہے۔ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کو صرف اس سوال سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ "اس تعلیم سے کتنی تنخواہ ملے گی؟"بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ:"اس تعلیم سے اس کی سوچ کتنی بہتر ہوگی؟
اس کا شعور کتنا بڑھے گا؟
وہ اپنی اولاد کی تربیت کتنی اچھی کر سکے گی؟
وہ معاشرے کے لیے کتنا مفید کردار ادا کر سکے گی؟"
تعلیم یافتہ عورت اور باحیا عورت
یہ تصور بھی درست نہیں کہ تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنی دینی اقدار، حیا، خاندان اور ذمہ داریوں سے دور ہوجائے۔تعلیم اور حیا ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ایک عورت بیک وقت تعلیم یافتہ بھی ہو سکتی ہے، باحیا بھی، باکردار بھی، دینی شعور رکھنے والی بھی اور اپنے خاندان کے لیے ذمہ دار بھی۔اصل ضرورت ایسی تعلیم کی ہے جو انسان کو صرف معلومات نہ دے بلکہ شعور، اخلاق، ذمہ داری اور کردار بھی عطا کرے۔
بیٹیوں کو تعلیم دیں، مگر مقصد بھی سمجھائیں
ہمیں اپنی بیٹیوں سے یہ نہیں کہنا چاہیے:"پڑھو تاکہ اچھی نوکری مل جائے۔"بلکہ انہیں یہ بھی سمجھانا چاہیے:"پڑھو تاکہ تمہیں علم ہو، شعور ہو، تم اپنے دین کو سمجھو، اپنی زندگی کو سمجھو، اپنے فیصلے سمجھ داری سے کرو، اپنے بچوں کی بہتر تربیت کر سکو اور جہاں ضرورت ہو وہاں اپنے علم کو انسانیت اور معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کر سکو۔"اور اسی طرح بیٹوں کو بھی یہ تعلیم دینی چاہیے کہ تعلیم صرف معاشی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ذمہ دار انسان بننے کا راستہ ہے۔
آخری بات
عورت کو تعلیم دینا اسے لازماً ملازمت کی طرف دھکیلنا نہیں ہے، بلکہ اسے علم، شعور، اعتماد، صلاحیت اور بہتر زندگی کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔عورت چاہے گھر سنبھالے یا کسی ادارے میں کام کرے، بچوں کی تربیت کرے یا تدریس و تحقیق سے وابستہ ہو، دینی خدمت کرے یا معاشرتی خدمت—اس کی تعلیم بہرحال اس کی شخصیت اور اس کے خاندان کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔اس لیے عورت کی تعلیم کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کمائے؛ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ سمجھے، سنوارے، تربیت کرے، خدمت کرے اور ضرورت پڑنے پر اپنے علم و صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے۔کیونکہ ایک تعلیم یافتہ عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی،
وہ ایک خاندان کی سوچ سنوار سکتی ہے،
ایک نسل کی تربیت کر سکتی ہے،
اور ایک بہتر معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
Comments
Post a Comment