افسانہ: تسلسل و شدت - از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)


افسانہ: تسلسل و شدت - 
از قلم: تحسینہ ماوینکٹی (تاشہ رانی بنوری)
مہمان لیکچرر، شعبۂ اردو، گورنمنٹ کالج برائے خواتین، چنتامنی٬ چکبلاپور ضلع کرناٹک۔

انسان کی زندگی میں کامیابی کا تعلق ہمیشہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ کتنا زیادہ کام کرتا ہے، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لیے کتنی پابندی، مستقل مزاجی اور تسلسل کے ساتھ کوشش کرتا ہے۔ بعض اوقات شدت سے کی جانے والی کوشش بھی بے نتیجہ رہ جاتی ہے، جب کہ چھوٹی چھوٹی مگر مسلسل کوششیں زندگی میں بڑی تبدیلی پیدا کر دیتی ہیں۔

صبح کا وقت تھا۔ گاؤں کے ایک پرانے مکان کے صحن میں دو گملے رکھے ہوئے تھے۔ ایک گملے میں ننھا سا پودا مرجھایا ہوا تھا، جب کہ دوسرے میں ہری بھری کونپلیں نکل رہی تھیں۔ دونوں گملوں کے سامنے رحیم چاچا کھڑے تھے۔ ان کے چہرے پر عمر بھر کے تجربات کی جھریاں تھیں اور آنکھوں میں زندگی کو سمجھنے والی گہری بصیرت۔ ان کا پوتا احمد کئی دنوں سے اپنے امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ کبھی ایک ہی دن میں دس دس گھنٹے پڑھتا، کبھی کئی دن کتابوں کو ہاتھ تک نہ لگاتا۔ جب امتحان قریب آتا تو رات بھر جاگ کر نصاب ختم کرنے کی کوشش کرتا۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ امتحان کے دن اس کا ذہن تھکا ہوا ہوتا اور یاد کیا ہوا سبق بھی بھول جاتا۔
اس روز احمد مایوس ہو کر صحن میں آیا۔
"دادا جان! میں اتنی محنت کرتا ہوں، پھر بھی کامیابی مجھ سے دور کیوں رہتی ہے؟"

رحیم چاچا نے اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا، "ذرا ان دونوں پودوں کو غور سے دیکھو۔ تمہیں کیا فرق نظر آتا ہے؟"
احمد نے پہلے گملے کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی مٹی پانی سے بھری ہوئی تھی اور پودے کے پتے جھکے ہوئے تھے۔ دوسرے گملے میں پودا تروتازہ تھا۔

"دادا جان! اس پودے کو شاید کسی نے بہت زیادہ پانی دے دیا ہے، اسی لیے یہ خراب ہو گیا ہے۔ دوسرے کو روز تھوڑا تھوڑا پانی ملتا ہوگا۔"

"بالکل درست!" دادا جان نے جواب دیا۔ "یہی فرق شدت اور تسلسل میں ہے۔ پہلے پودے کو ایک ہی بار اتنا پانی دیا گیا کہ اس کی جڑیں ہی کمزور پڑ گئیں، جب کہ دوسرے کو ضرورت کے مطابق روزانہ پانی ملا۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کیں اور آج دیکھو، کتنا سرسبز ہے۔"

احمد خاموشی سے سنتا رہا۔

دادا جان نے بات آگے بڑھائی، "بیٹا! زندگی بھی ان پودوں کی طرح ہے۔ تم ایک ہی دن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیتے ہو، پھر کئی دن سستی اور غفلت میں گزار دیتے ہو۔ تمہیں لگتا ہے کہ زیادہ محنت کا مطلب جلد کامیابی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کو صرف محنت کی شدت نہیں، اس کا تسلسل بھی درکار ہوتا ہے۔"

احمد نے دھیمی آواز میں پوچھا، "تو کیا مجھے کم پڑھنا چاہیے؟"
دادا جان مسکرائے۔ "نہیں بیٹا! محنت کم نہیں، اسے منظم کرنا چاہیے۔ روزانہ چند گھنٹے پوری توجہ سے پڑھو۔ آج ایک سبق، کل دوسرا سبق، روزانہ تھوڑی سی پیش رفت۔ یاد رکھو، قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔"

اس دن احمد نے ایک نیا معمول بنایا۔ اس نے اپنے لیے وقت مقرر کیا، روزانہ پڑھنے کا ہدف طے کیا اور ہر دن کی محنت کا جائزہ لینے لگا۔ ابتدا میں اسے دشواری محسوس ہوئی، مگر آہستہ آہستہ مطالعہ اس کی عادت بن گیا۔ اب وہ امتحان سے چند دن پہلے گھبراتا نہیں تھا، کیونکہ اس نے پورے سال اپنے علم کی بنیاد مضبوط کی تھی۔

چند ماہ بعد نتیجہ آیا۔ احمد نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ خوشی سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ دوڑتا ہوا دادا جان کے پاس پہنچا اور نتیجہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔
رحیم چاچا نے کاغذ دیکھا، پھر احمد کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "آج تم نے صرف امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کی، بلکہ زندگی کا ایک بڑا سبق بھی سیکھ لیا ہے۔"

احمد نے مسکراتے ہوئے کہا، "دادا جان! اب میں سمجھ گیا ہوں کہ ایک دن کی غیر معمولی محنت سے زیادہ قیمتی روزانہ کی معمولی کوشش ہے۔"

دادا جان نے صحن میں لگے دونوں پودوں کی طرف دیکھا۔ پہلا پودا اب بھی مرجھایا ہوا تھا، جب کہ دوسرا اپنی شاخیں پھیلا رہا تھا۔

زندگی کی شام قریب آ رہی تھی، مگر رحیم چاچا کے تجربات کی روشنی ابھی باقی تھی۔ انہوں نے آخری بات کہی:

"بیٹا! شدت انسان کو وقتی طور پر تھکا سکتی ہے، مگر تسلسل اسے منزل تک پہنچاتا ہے۔ جو لوگ ہر روز اپنے مقصد کے لیے ایک قدم اٹھاتے ہیں، وہ ایک دن وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں پہنچنے کا خواب دیکھنے والے اکثر راستے ہی میں تھک کر بیٹھ جاتے ہیں۔"

احمد نے اس دن سے ایک اصول اپنا لیا: نہ کامیابی پر غرور، نہ ناکامی پر مایوسی، نہ محنت میں بے جا شدت اور نہ کوشش میں وقفہ٬ کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ زندگی میں اصل ترقی اچانک آنے والے جوش سے نہیں، بلکہ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی کوششوں سے جنم لیتی ہے۔

شدت کبھی کبھی اثر دکھاتی ہے، مگر تسلسل ہمیشہ اپنا راستہ بناتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔