خودداری کی قیمت - تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
خودداری کی قیمت -
تحریر : عارف محمد خان، جلگاؤں۔
ایک اسٹیشنری کی دکان سے سامان لے کر میں زینے سے اتر رہا تھا کہ ایک شخص نے سلام کرکے بڑی دھیمی آواز میں کہا:
"بھائی... ستر روپے مل جائیں گے؟"
اس کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھی، جس میں کارڈ شیٹ، رنگین چارٹ اور گوٹیلے پیپر تھے۔ ساتھ اس کی ننھی سی بچی کھڑی تھی۔
وہ بولا:
"بچی کا اسکول پروجیکٹ ہے۔ جتنے پیسے تھے، سامان لے لیا... بس ستر روپے کم پڑ گئے۔ میں پاور لوم کا مزدور ہوں۔ پندرہ دن سے کام بند ہے، گھر میں فاقے کی نوبت ہے۔ مگر بچی کل سے رو رہی ہے کہ پروجیکٹ جمع نہیں کیا تو میڈم ڈانٹیں گی، مارکس کم ہو جائیں گے۔"
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"ڈیڑھ گھنٹے سے سوچ رہا تھا کس سے مانگوں۔ آپ کو مسجد میں دیکھا تھا، پہچان تھی، اس لیے ہمت کر لی۔ اگلے ہفتے واپس کر دوں گا۔"
میں نے ستر روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔
اس نے نوٹوں کو دیکھا، پھر اپنی بچی کو۔ بچی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ دعائیں دیتا ہوا آگے بڑھ گیا، مگر میں دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
ایک تھیلی میں رنگین کاغذ تھے اور میرے ذہن میں ایک بے رنگ سوال۔
ہم بچوں کو گوند، قیچی اور چارٹ سے پروجیکٹ بنانا تو سکھا رہے ہیں، مگر زندگی، غربت اور انسان کی عزتِ نفس سمجھانا بھول گئے ہیں۔
جس تعلیم کے ایک پروجیکٹ کے لیے باپ کو اپنی خودداری کے ستر روپے خرچ کرنے پڑیں، وہ تعلیم آخر کس چیز کا پروجیکٹ ہے؟
Comments
Post a Comment