سرسید احمد خاں جدید علوم و فنون اور مصنوعی ذہانت کا دور - تحریر : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی۔)صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج ۔دھارواڑ،کرناٹک)
سرسید احمد خاں جدید علوم و فنون اور مصنوعی ذہانت کا دور
تحریر : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی۔)صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج ۔دھارواڑ،کرناٹک)
عجب پائندگی ہے اس کی سوچ اور شخصیت میں
وہ صدیوں دور رہ کر بھی نیا معلوم ہوتا ہے
سر سید احمد خاں محض ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک روشن مستقبل کا خواب ہیں۔ انہوں نے اپنے زمانے میں قوم کی تعلیمی پسماندگی کو محسوس کیا اور مسلمانوں کو جدید علوم و فنون کی طرف متوجہ کیا۔ ان کا یقین تھا کہ قوموں کی ترقی محض ماضی کے کارناموں پر فخر کرنے سے نہیں بلکہ علم حاصل کرنے، حالات کو سمجھنے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے سے ہوتی ہے۔ علی گڑھ تحریک اسی فکر کا عملی اظہار تھی۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کے انداز بدل دیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تعلیم، تحقیق، ترجمہ، طب اور ابلاغ کے میدانوں میں نئی راہیں کھول رہی ہے۔ اب طلبہ چند لمحوں میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مشکل موضوعات کو سمجھ سکتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ معلومات حاصل کرنا اور علم حاصل کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ حقیقی علم وہ ہے جو انسان میں سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
عزیز طلبہ! مصنوعی ذہانت کو اپنا مددگار بنائیے، اپنی عقل و فکر کا متبادل نہیں۔ اس سے سیکھئےمگر خود بھی مطالعہ کیجیے؛ اس سے رہنمائی لیجیے مگر حقائق کی تصدیق کرنا نہ بھولیے۔ مشین معلومات فراہم کر سکتی ہےلیکن انسانی احساس، اخلاقی شعور، تجربے اور ذمہ داری کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔ مستقبل انہی نوجوانوں کا ہوگا جو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تخلیقی سوچ، تحقیق اور عملی مہارت کو بھی اپنائیں گے۔
علامہ اقبال کا یہ شعر نوجوانوں کے لیے حوصلے اور امید کا پیغام ہے:
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
یہی پیغام سر سید کی زندگی سے بھی ملتا ہے کہ مضبوط فکر اور مسلسل جدوجہد انسان کو مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں جدید تعلیم کی شمع روشن کی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم علم کے نئے امکانات سے فائدہ اٹھائیں، اردو زبان و ادب کو جدید ذرائع سے جوڑیں اور تعلیم کو روزگار، تحقیق اور سماجی ترقی کا وسیلہ بنائیں۔
سر سید کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کی فکر کو اپنی زندگی میں جگہ دیں، جدید علوم و فنون سے آراستہ ہوں اور اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار کی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر آگے بڑھیں۔ کیونکہ تعلیم صرف کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بہتر انسان اور بہتر معاشرہ تعمیر کرنے کی بنیاد بھی ہے۔
Comments
Post a Comment