خودکشی ایک سنگین گناہ اور جرم ہے! - از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - (ترجمان تنظیمِ علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں)
خودکشی ایک سنگین گناہ اور جرم ہے! -
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی -
(ترجمان تنظیمِ علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں)
زندگی خالقِ کائنات کی عظیم ترین نعمت ہے یہ انسان کے پاس بطورِ امانت ہے اور انسان اس کا امین ہے اس لیے اس میں مالکانہ طور پر تصرف کرنے کا اختیار کسی صورت میں بھی انسان کو حاصل نہیں،اسی وجہ سے مذہبِ اسلام نے ہر ایسے عمل یا حرکت کو حرام قرار دیا جس سے اس خدائی نعمت میں نقص یا کمی واقع ہو، چاہیے وہ خودکشی ہو یا اعضاءِ انسانی کا دان کرنا یا پیوند کاری ہو سب کو شریعتِ مطہرہ نے ناجائز و حرام قرار دیا، مگر آج کل بہت سے لوگ دین سے دوری کی وجہ سے ذہنی الجھنوں کا شکار ہوکر خودکشی کرلیتے ہیں حالاں کہ اس اقدام کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً کوئی امتحان میں فیل ہوگیا، کوئی قرض کے بوجھ تلے دب گیا اور ادائیگی کے اسباب مہیّا نہیں، کوئی جھوٹی محبت میں ناکام ہوگیا، کوئی معمولی پریشانی اور گھریلو مسائل و تنازعات سے دل برداشتہ ہوگیا یا کسی نے معاشرہ میں بدنامی کے ڈر سے خودکشی کی مذموم راہ اختیار کی اور اپنی زندگی کو ختم کرلیا وجوہات جو بھی ہو مگر خودکشی کی اصل وجہ بد دینی، اللہ اور اس کے رسول سے دوری اور فِکرِ آخرت سے غفلت کے سوا کچھ نہیں ہے کیوں کہ جس کا ایمان تقدیر اور یومِ آخرت پر ہوگا جو خداوند قدوس کے ہر فیصلہ کو برضا و رغبت قبول کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گا اور جس کے ذہن و دماغ میں آخرت کے عذاب سے بچنے کی فکر ہوگی، وہ کبھی بھی حرام موت مرنا پسند نہیں کرے گا، چناں چہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے دنیا میں اپنے آپ کو جس چیز سے قتل کیا اُسی چیز سے اُس کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا (بخاری شریف جلد١ ص ١٨٣ کتاب الجنائز )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی پہاڑ سے گِر کر خودکشی کرے گا وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گِرتا رہے گا، اور جو شخص زہر پی کر خودکشی کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں زہر پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کی ہوگی وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اِسی ہتھیار کو اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اور کبھی بھی اس کو رہائی نصیب نہیں ہوگی، ( بخاری شریف جلد٢ ص ٨٦٠ کتاب الطب )
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اپنا گلہ گھونٹ کر خودکشی کی وہ آتشِ دوزخ میں بھی اپنا گلہ گھونٹتا رہے گا اور جس نے چھرا گھونپ کر خودکشی کی وہ دوزخ کی آگ میں بھی گھونپتا رہے گا اور جو کوئی اوپر سے گِرا ہوگا وہ جھنم میں بھی اسی طرح گِرتا رہے گا (بخاری شریف جلد ١ ص ١٨٣ کتاب الجنائز ) ایمان و عمل سے سرشار ہونے کی وجہ سے مسلمان میں اس کا تصور بھی نہیں تھا مغربی اقوام اور دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والوں میں ہی خودکشی کا رجحان زیادہ تھا مگر اب ناجائز اور حرام فعل کو بعض مسلمان، مسائل و مشکلات میں پھنس کر اختیار کررہے ہیں حالاں کہ معلوم ہونا چاہیے کہ مشکل حالات اور مصائب ہمیشہ نہیں ہوتے چناں چہ امام شافعی رح فرماتے ہیں کہ وَ لَا حَزَنٌ یَدُوْمُ وَ لَا سُرُوْرُ_ وَ لَا بُؤْسٌ عَلَیْك وَ لَا رَخَاءٌ _ وَلَا تَجْزَعْ لِحَادِثَةِ اللّیَالِیْ _ فَمَا لِحَوَادِثِ الدُّنْیَا بَقَاءٌ اور خوشی و غمی ہمیشہ نہیں رہتی _ اور نہ تنگ دستی اور فراخی دائمی ہے _ اور زمانے کے حوادثات سے بے قرار نہ ہو _ اس لیے کہ حوادثاتِ دنیا ہمیشہ نہیں رہتے (دیوانِ امام شافعی رح ص ٣٥ دَعِ الْاَیَّامِ ) مسلمانوں کے اندر اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیوں کہ خودکشی بزدلی اور کم ہمتی کی دلیل ہے، زندگی کے مسائل مشکلات، آزمائشیں اور ذمہ داریوں سے بھاگنے اور راہِ فرار اختیار کرنے کی ایک غیر شرعی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی تدبیر ہے جب کہ مسائل و مشکلات اور آلام زندگی کے ساتھ وابستہ ہیں اہلِ ایمان کا اس پر یقین ہے، چناں چہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَاِنَّ اللّهَ اِذَا اَحَبَّ قَوْماً ابْتَلَاھُمْ فَمَنْ رَضِیَ فَلَهُ الرِّضَا وَ مَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ (سنن ابن ماجہ جلف٢ ص ٢٩٢ باب الصبر علی البلاء) "ثواب کے زیادہ ہونے کا مدار آزمائش کی سختی پر ہے جس قدر سخت آزمائش ہوگی اسی قدر زیادہ ثواب ہوگا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اس کو آزمائشوں میں مبتلا کردیتے ہیں جو شخص اللہ کے اس فیصلے پر (صبر کرکے) راضی رہا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراض ہوا تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر ناراض ہوجاتے ہیں'' روایتِ بالا پر غور کریں کہ مصائب و آلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور مصائب میں مبتلا ہونے پر صبر و استقامت کا درس دیا گیا اب خودکشی کی راہ اختیار کرنا ناراضی الٰہی کا سبب ہے اس لیے مصائب اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا افراد نیک اعمال میں مصروف رہے اور اس مذموم فعل کا خیال بھی دل میں نہ لائیں، کیوں کہ خودکشی کرنے والا خودکشی کرتا ہے مگر اپنے اہلِ خانہ اور متعلقین کو مصائب و آلام اور مشکلات میں تنہا چھوڑ دیتا ہے" ماضی میں ہمارے شہر میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے تھے اور اب بھی کئی کئی سے اس طرح کی روح فرسا خبریں ملتی رہتی ہے کہ فلاں نے خودکشی کرلی! اس مذموم فعل سے اہلِ شہر کی کافی بدنامی ہورہی ہے علاوہ ازیں دیگر گناہ اور معصیت بھی نئے نئے نام عروج پر ہے جس پر قدغن لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے الحمد اللہ! ان جمیع بُرائیوں کے سدِّ باب کے لیے حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ العالی کی قیادت میں تمام اہلِ علم کی مشترکہ علمی و فکری توانائی سے ایک مضبوط و مستحکم پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے جس کے ذریعے پورے شہر میں دینی فضا بنائی جائے گی ان شاءاللہ فی الحال اس تنظیم کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کے پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے اہلیانِ شہر سے دردمندانہ اپیل و گزارش ہے کہ جس مسجد یا کسی چوک چوراہے پر تنظیم کے زیر اہتمام پروگرام ہورہا ہے اس میں خود بھی شرکت کریں اور اپنے متعلقین کو بھی شریک کریں اور نیکی کے اس کام میں تعاون کرتے ہوئے تنظیم کے زیر اہتمام اپنے علاقوں اور محلوں میں بھی اس طرح کے پروگراموں کو منعقد کروائیں اور مَنْ دَلَّ علٰی خَیْرٍ فَلَهُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِهِ، ( مسلم شریف جلد ٢ ص ١٣٧کتاب الإمارة) اور الدَّالُّ علٰی الْخَیْرِ کَفَاعِلِهِ ( ترمذی شریف جلد ٢ص ٩٥ أبواب العلم) کا مصداق بنے،
تنظیم علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں
Comments
Post a Comment