افسانچہ - خواب فروش - ازقلم: رہبر تماپوری
افسانچہ -
خواب فروش -
ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
فجر کی اذان ختم ہوئی تو مالن نانی نے نماز پڑھی، جھونپڑی سے باہر آئیں اور نیم کے پیڑ تلے جھاڑو دینے لگیں۔ چبوترہ صاف کیا، چارپائی بچھائی اور لاٹھی ایک طرف رکھ دی۔
محلے میں بچے گلی ڈنڈا کھیل رئے تھے۔
نانی نے عینک ناک پر جما کر آواز دی،
’’ارے او بچے لوگاں! کائیکو ایڈا شور مچا رئے؟ سویر کا ٹائم ہے رے! جاؤ، مولوی صاحب کے پاس سبق پڑھو، پھر اسکول کو جاؤ۔ پڑھ لکھ لئیے تو کل کو کسی کے آگے ہاتھ نئیں پھیلانا پڑے گا، سمجھے؟‘‘
ایک بچہ بستہ اٹھاتے ہوئے بولا،
’’نانی، آج کھیلنے دو نا!‘‘
’’کھیلنا ہے تو شام کو کھیلو۔ پہلے دماغ کو چلاؤ!‘‘
بچے ہنستے ہوئے نکل گئے۔
تھوڑی دیر بعد رحیم اپنی پھٹی ہوئی قمیص پہنے آیا۔ نانی نے اسے غور سے دیکھا۔
’’کیا رے رحیم، آج پھر بستہ نئیں لایا؟‘‘
’’نانی، ابا بولے، پڑھائی سے کیا ملنا؟ دکان پہ بیٹھ۔‘‘
نانی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر انگلیاں دیکھیں۔
’’اے! یہ انگلیاں ترازو پکڑنے کے واسطے نئیں، کتاب پکڑنے کے واسطے بنی ہیں۔ جا، اپنے ابا کو میری طرف سے بول، رحیم کو دکان پہ بٹھایا تو نانی خواب میں آکے ڈانٹے گی! اور سن رے، خواب کو سونے مت دینا!‘‘
رحیم ہنس پڑا۔
شام کو زینب آنکھوں میں آنسو لیے نانی کے پاس آ بیٹھی۔
’’کائیکو رو ریئں بی؟‘‘ نانی نے پوچھا۔
زینب نے شوہر سے جھگڑے کی بات بتائی۔
نانی نے اس کے آنسو پونچھے۔
’’ارے بی، اتنی سی بات کو دل میں پتھر بنا کو کائیکو رکھتی؟ نماز پڑھ، قرآن کھول، پھر ٹھنڈے دماغ سے بات کر۔ گھر غصے سے نئیں، سوجھ بوجھ سے چلتا۔‘‘
زینب خاموش ہو گئی۔
محلے والے ہنستے ہوئے نانی کو خواب فروش کہتے تھے۔ پن نانی خواب بیچتی نئیں تھیں، سوئے ہوئے خواب جگاتی تھیں۔
ایک رات نانی کی طبیعت بگڑ گئی۔ صبح نیم کے نیچے چارپائی خالی تھی۔ لاٹھی وہیں پڑی تھی۔
رحیم دوڑتا ہوا آیا۔ اس کے ہاتھ میں نئی کتاب تھی۔ اس نے کتاب نانی کی چارپائی پر رکھی اور آہستہ سے بولا:
’’نانی! تم بولتی تھیں نا، خواب کو سونے مت دینا۔۔۔ دیکھو، ہم جاگ گئے!‘‘
نیم سے ایک پتّا ٹوٹ کر کتاب پر آ گرا۔
کتاب کھلی تھی۔ پہلے صفحے پر رحیم نے ٹیڑھے میڑھے حروف میں لکھا تھا:
’’مالن نانی کا خواب، اب ہمارا ہے۔‘‘
Comments
Post a Comment