مسعود علی تمنا تماپوری کا مدرسہ احیاء العلوم و مریم للبنات کا دورہ، طلبہ کی حوصلہ افزائی اور تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ
شوراپور، 18 اکتوبر 2026ء: معروف شاعر، ادیب اور مفکر مسعود علی تمنا تماپوری نے دیوکیرہ روڈ، رنگم پیٹ، شوراپور میں واقع طیبہ ٹرسٹ کے زیرِ انتظام مدرسہ احیاء العلوم و مریم للبنات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مدرسے کے تعلیمی ماحول، تدریسی سرگرمیوں، طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور بنیادی نصابی مواد کا جائزہ لیا۔ ان کی آمد سے مدرسے کے طلبہ، معلمین و معلمات اور ذمہ داران میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
دورے کے آغاز میں مسعود علی تمنا تماپوری نے مدرسے کے مختلف شعبوں کا مشاہدہ کیا اور معلمین و معلمات سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے ان کے تدریسی تجربات، تعلیمی مسائل اور روزمرہ سرگرمیوں کے بارے میں گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مفید مشورے بھی دیے۔ مقامی اساتذہ اور احباب سے ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے وطن تماپور سے وابستہ یادوں، اپنے تعلیمی سفر اور ادبی و سماجی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے اساتذہ، دوستوں اور ادبی شخصیات، بالخصوص شاعر تنہا تماپوری اور عظمت مولوی صاحب، سے وابستہ یادیں بھی تازہ کیں۔ ان گفتگوؤں میں وطن سے تعلق، اساتذہ کی رہنمائی اور علمی و ادبی ماحول کی اہمیت نمایاں رہی۔
بعد ازاں ان کی آمد کے موقع پر ایک مختصر نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کا آغاز ایک طالب علم کی جانب سے تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ نے مختصر نظمیں پیش کیں۔ پھر مسعود علی تمنا تماپوری نے نہایت جامع، مؤثر اور دل نشیں انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے طلبہ کی ذہنی کیفیت، خوداعتمادی، تعلیمی ماحول اور شخصیت سازی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بعض طلبہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کے باعث اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ نہیں کر پاتے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ خوف اور دباؤ سے آزاد ہوکر اطمینان کے ساتھ سیکھ سکیں۔
انہوں نے طلبہ کو احساس دلایا کہ وہ ایک سازگار ماحول اور قدرتی آب و ہوا میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لہٰذا انہیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کے مطابق، تعلیم محض نصاب مکمل کرنے یا سند حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لانا، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا اور معاشرے کے لیے مفید انسان بننا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ نصابی تعلیم کے ساتھ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور عملی مہارتوں کو بھی پہچانیں اور انہیں پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔
مسعود علی تمنا تماپوری نے اپنے تعلیمی سفر، ملازمت اور زندگی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو محنت، مستقل مزاجی اور خوداعتمادی کا پیغام دیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی کو اپنی زندگی میں اہم مقام دیتے ہوئے بتایا کہ استاد کی تربیت اور حوصلہ افزائی طالب علم کی شخصیت سازی اور مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
خطاب کے بعد طلبہ نے اپنا مختصر تعارف پیش کیا۔ انہوں نے اپنے نام، والد کے نام، آبائی علاقوں اور تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتایا۔ طلبہ نے بلا جھجک اور پُراعتماد انداز میں اپنا تعارف پیش کیا، جس پر مہمانِ خصوصی نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔
اس کے بعد چند طلبہ نے مدرسے کے روزمرہ معمولات اور تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے نماز، عربی تعلیم، عصری مضامین، کھیل کود، آرام اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مقررہ اوقات سے مہمان کو واقف کروایا۔ طلبہ نے بتایا کہ مدرسے میں دینی تعلیم کے ساتھ کنڑا، انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس جیسے عصری مضامین کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ انہوں نے نظم و ضبط، صفائی، کھانے کے انتظام اور روزمرہ معمولات کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے سے ان کی علمی استعداد کے ساتھ تہذیب، اخلاق اور خوداعتمادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بعض طلبہ نے اپنے علاقوں میں تعلیمی مواقع کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسے نے انہیں تعلیم کے ساتھ بہتر طرزِ زندگی اختیار کرنے کا شعور بھی دیا ہے۔
طالبات نے بھی اپنے تعلیمی معمولات اور روزمرہ مشاغل کے بارے میں مختصر گفتگو کی اور بتایا کہ وہ کس طرح اپنی دینی و عصری تعلیم کے ساتھ دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔ اس طرح مہمان کو مدرسے کے طلبہ و طالبات کی تعلیمی زندگی اور تربیتی نظام کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔
طلبہ کی گفتگو اور تعارف کے بعد مدرسے کے مہتمم حافظ اصغر حسین صاحب نے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں، مقاصد، انتظامی امور اور طلبہ کی تربیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں مسعود علی تمنا تماپوری کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے ادارے میں جاری مختلف تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ اس موقع پر مدرسے کے دیگر ذمہ داران اور معلمین نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔ آخر میں حافظ اصغر حسین صاحب نے دعا فرمائی، جس کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
بعد ازاں نمازِ ظہر باجماعت ادا کی گئی، جس کی امامت حافظ اصغر حسین صاحب نے کی۔ نماز کے بعد مسعود علی تمنا تماپوری نے مدرسے کی لائبریری کا تفصیلی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے وہاں موجود کتابوں کو باریک بینی سے دیکھا اور علمی، ادبی، دینی اور تدریسی موضوعات پر دستیاب مواد کا جائزہ لیا۔ انہوں نے لائبریری میں موجود کتابوں اور علمی وسائل کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔
اس کے بعد انہوں نے کرناٹک حکومت کے محکمۂ اقلیتی بہبود، بنگلورو، اور عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے فراہم کردہ بنیادی نصابی کتابوں، ورک شیٹس اور تدریسی مواد کا مطالعہ کیا۔ یہ مواد بنیادی خواندگی و عددشناسی (FLN) اور طلبہ کی بنیادی تعلیمی استعداد کو بہتر بنانے کے مقصد سے فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے نصابی کتابوں اور ورک شیٹس کے معیار، افادیت اور تعلیمی مقاصد کا جائزہ لیتے ہوئے اس نوعیت کی کوششوں کو اہم قرار دیا۔ ان کا مشاہدہ اس بات پر مرکوز رہا کہ فراہم کردہ مواد طلبہ کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کس حد تک معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
دورے کے اختتام پر مسعود علی تمنا تماپوری نے مدرسے کے تعلیمی ماحول، تدریسی سرگرمیوں اور طلبہ کی تربیت کے لیے کی جانے والی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مدرسے کے معلمین و معلمات، بالخصوص مہتمم حافظ اصغر حسین صاحب، نے ان کی آمد، قیمتی وقت اور حوصلہ افزا گفتگو کے لیے دلی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ علم و ادب کی ایسی ملاقاتیں طلبہ میں نئی سوچ، خوداعتمادی اور زبان و ادب سے دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مسعود علی تمنا تماپوری کا یہ دورہ محض ایک تعلیمی ادارے کا مشاہدہ نہیں تھا، بلکہ اپنے وطن سے وابستگی، اساتذہ اور احباب سے تعلق کی تجدید اور نئی نسل کی تعلیمی و فکری ترقی کے لیے تعاون کے جذبے کا اظہار بھی تھا۔ ان کی گفتگو، تجربات اور مشوروں نے طلبہ کو محنت، عملی قابلیت اور بہتر شخصیت کی تعمیر کے حوالے سے نئی تحریک دی۔
نامہ نگار: اَطہر مبین ملا (رہبر تماپوری)
مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم
جامعہ نگر، تماپور، تعلقہ شوراپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
Comments
Post a Comment