بے حیائی و فحاشی کا سیلِ رواں لمحہ فکریہ !از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی - (ترجمان تنظیم علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں)
بے حیائی و فحاشی کا سیلِ رواں لمحہ فکریہ !
از قلم : مفتی محمد اسلم جامعی -
(ترجمان تنظیم علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں)
موجودہ دور میں موبائل انٹرنیٹ اور شوشل میڈیا کے غلط اور کثرتِ استعمال سے بے حیائی اور فحاشی کا ایک سیلِ رواں ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے نت نئے گناہ مختلف طریقوں اور ناموں سے لوگوں کے درمیان میں رواج پارہے ہے بعض مہلک قسم کے گناہ جن کی سنگینی کا احساس ہر ایک کے دل میں مضبوط و پختہ تھا مگر رفتہ رفتہ ان کی قباحت و شناعت اور سنگینی کا احساس دلوں سے نکل رہا ہے جس کی بناء پر انسان دھڑلے سے بے حیائی اور فحاشی کا مرتکب ہورہا ہے حالاں کہ حدیث شریف میں ہے کہ جس قوم میں بے حیائی اور زنا عام ہوجائے ان میں موتیں کثرت کے ساتھ واقع ہوتیں ہیں اور بعض اوقات لا علاج بیماری اور ایمان سے محرومی کثرتِ معصیت کا سبب ہوتی ہے اسی لیے مذہبِ اسلام نے بے حیائی اور فحاشی کے تمام راستوں پر روک لگا کر حیا و پاکدامنی کا درس دیا چناں چہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لاسْتَحْیُوا مِنَ اللّهِ حَقَّ الْحَیَاءِ قُلْنَا یَا نَبِیَّ اللّٰهِ اِنَّا لَنَسْتَحِیْ وَ الْحَمْدُ اللّٰهِ! قَالَ لَیْسَ ذاك وَ لَکِنَّ الاِسْتَحْیَاءَ مِنَ اللّهِ حَقَّ الْحَیَاءِ اَنْ تَحْفَظَ الرَّاسِ وَمَا وَعَی وَ تَحْفَظَ الْبَطَنَ وَمَا حوی ( ترمذی شریف جلد٢ ص ٧٢ ابواب صفة القیامة) اس روایت میں خداوند قدوس سے حیا کرنے کا حق یہ بیان کیا گیا کہ انسان سر اور اس کے ساتھ کان ناک آنکھ اور افکار کی نگہداشت کریں اور پیٹ کے ساتھ شرمگاہ، پاؤں ہاتھ اور دل کی حفاظت کریں اُنھیں معاصی سے بچایا جائے اور بے حیائی و فحاشی سے روکا جائے، یعنی اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ بے حیائی اور فحاشی سے مکمل طور سے اجتناب کریں رسمی طور پر نہیں اور حقیقی حیا کو اختیار کیا جائے کیوں کہ شرم و حیا ایک بنیادی وصف ہے جس کا انسان کی سیرت سازی اور معاشرہ کو سنوارنے میں بہت زیادہ دخل ہے اسی سے انسان بُرے کاموں اور بُری باتوں سے رکتا ہے فواحش و منکرات سے بچتا ہے اور اچھے و شریفانہ کاموں پر آمادہ ہوتا ہے بل کہ شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ اور بنیاد ہے ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الْحَیَاءُ مِنَ الاِیْمَانِ وَ الْایمانُ فی الْجَنَّةِ وَ الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَ الْجَفَاءُ مِنَ النَّارِ (ترمذی شریف جلد٢ ص٢١ ابواب البر والصلہ) حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے، اور ایمان جنت میں ہے، بے حیائی اور فحاشی ظلم کا ایک حصہ ہے اور ظلم جہنم میں لے جانے کا سبب ہے، ایک اور روایت میں ارشادِ نبوی ہے کہ الْحَیَاءُ وَ الْعِیُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الاِیْمَانِ وَ الْبَذَاءُ وَ الْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ ( ترمذی شریف جلد٢ ص٢١ ابواب البر والصلہ) حیاء اور شرم ایمان کے دو شعبے ہیں بے حیائی اور بیہودہ گفتگو نفاق کے دو شعبے ہیں " ایک اور روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مَا کَانَ الْفُحْشُ فی شَیْءٍ قَطُّ اِلّا شَانَهُ وَلَا کَانَ الْحَیَاءُ فی شَیْءٍ قَطُّ اِلّا زَانَه (سنن ابن ماجہ ص٣١٨ کتاب الزھد ) بے حیائی جس چیز میں آئے گی، اُسے عیب دار کرکے رہے گی اور حیاء جس چیز میں ہوگی اُسے خوبصورت اور مزین ہی بنائے گی " گویا بے حیائی اور فحاشی کا سیلِ رواں ہر عمل کو عیب دار اور خراب کردیتا ہے ، بل کہ بعض گناہ ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسان کے نیک اعمال بھی بے اثر اور ختم ہوجاتے ہیں اور معصیت و بے حیائی کے ساتھ آدمی عبادت گزار بھی نہیں بن سکتا، اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اِتّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ اَعْبُدَ النَّاسِ (ترمذی شریف جلد ٢ص ٥٦ ابواب الزھذ) اس روایت میں منہیّات سے اجتناب کا حکم دیا گیا اب ظاہر سی بات ہے جو شخص منہیّات سے بچے گا وہ بدرجہ اولی مامورات پر عمل کریں گا، شہرِ عزیز مالیگاؤں میں بھی پیچھلے چند سالوں سے بے حیائی اور فحاشی کا سیلِ رواں ہے جس کی وجہ سے بدکاری و فحاشی اور دیگر بُرائیاں کا کثرت سے ظہور ہورہا ہے حالاں کہ شہر کاروباری مندی اور بارش کی کمی سے جُوجھ رہا ہے ایسے حالات میں رجوع الی اللہ اور انابت الی اللہ ہونا چاہیے مگر پھر بھی وقتاً فوقتاً بے حیائی و فحاشی کی خبریں گردش کررہی ہیں اس لیے ان پر مضبوط قدغن لگانے کے لیے حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ العالی کی صدارت میں تمام علماء کرام کی مشترکہ کاوشات سے ایک مضبوط پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے، الحمدللہ! اس تنظیم کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں میں ان بُرائیوں کے خلاف پروگرام کا تسلسل جاری ہے اہلیانِ شہر سے مودبانہ اپیل و گزارش ہے کہ ان پروگرام میں ضرور شرکت کریں اور اس تنظیم کا حصہ بن کر بُرائیوں کے سدِّ باب کے لیے اپنے اپنے علاقوں میں بھی پروگرام کو منعقد کروائے کیوں کہ منکرات پر نکیر کے بغیر اصلاح کا تصور ممکن ہی نہیں بعض اوقات مہذب انداز میں منکرات پر نکیر نہ کرنے کی وجہ سے دیندار آدمی بھی اس کا اثر قبول کرلیتا ہے اور اجتماعی بُرائیوں میں انفرادی محنتیں کافی نہیں ہوتیں بل کہ اجتماعی محنت ضروری ہوتیں اس لیے پروگرام کے انعقاد کے لیے تنظیم کے ذمہ داران سے رابطہ کریں
تنظیم علماء ائمہ اور حفاظ شہر مالیگاؤں
Comments
Post a Comment