بچے کو قابو نہیں، بچپن سے سنوارنے کی ضرورت ہے - از قلم: عالمہ مبین پالیگار - پرنسپل، ماؤنٹ سینائی پی یو کالج، بیلگام


بچے کو قابو نہیں، بچپن سے سنوارنے کی ضرورت ہے - 
از قلم: عالمہ مبین پالیگار - 
پرنسپل، ماؤنٹ سینائی پی یو کالج، بیلگام
 8904317986

 بچپن کی تربیت، مستقبل کی ضمانت
آج بہت سے والدین ایک ہی شکایت کرتے نظر آتے ہیں:
’’ہمارا بچہ ہماری بات نہیں مانتا، جواب دیتا ہے، اپنی مرضی کرتا ہے اور دوستوں و ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔‘‘
لیکن ذرا غور کیجیے! کیا بچہ 15 یا 16 سال کی عمر میں اچانک ایسا ہوگیا؟ یا اس رویے کی بنیاد کہیں نہ کہیں اس کے بچپن میں ہی رکھ دی گئی تھی؟
ہم نے بچپن میں بچے کی ہر ضد پوری کی، ہر خواہش کو ترجیح دی، ہر بات میں اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اسے ’’نہیں‘‘ سننے کی عادت نہیں ڈالی۔ پھر جب وہ 15، 16 سال کا ہوا تو اچانک ہم نے اس پر پابندیاں لگانا شروع کردیں:
’’موبائل چھوڑ دو۔‘‘
’’دوستوں کے ساتھ باہر نہیں جانا۔‘‘
’’یہ کام نہیں کرنا۔‘‘
’’اب ہماری ہر بات ماننی ہوگی۔‘‘
بچہ سوچتا ہے: جو باتیں میرے والدین کل تک مان رہے تھے، آج اچانک غلط کیسے ہوگئیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔
محبت کا مطلب ہر بات مان لینا نہیں
بچے سے محبت ضرور کیجیے، لیکن محبت کے نام پر اس کی ہر خواہش پوری کرنا تربیت نہیں۔
بچے کو بچپن ہی سے سکھانا ہوگا کہ ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، ہر بات درست نہیں ہوتی، ہر دوست اچھا نہیں ہوتا اور ہر آزادی فائدہ مند نہیں ہوتی۔
بچپن میں مناسب حدود قائم نہ کی جائیں تو نوجوانی میں حدود قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہم تعلیم دے رہے ہیں، تربیت نہیں
آج والدین بچوں کی تعلیم کے لیے بہت فکر مند ہیں۔ اچھا اسکول، کالج، کوچنگ، ٹیوشن، کمپیوٹر اور مختلف کورسز—سب کچھ فراہم کیا جا رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا ہم انہیں ادب بھی سکھا رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں ذمہ داری بھی سکھا رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں صحیح اور غلط کی پہچان بھی دے رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں حیا، اخلاق، احترام اور خود احتسابی بھی سکھا رہے ہیں؟
تعلیم انسان کو قابل بنا سکتی ہے، مگر تربیت اسے قابلِ اعتماد انسان بناتی ہے۔
بچے ہماری بات سے کم، ہمارے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے، لیکن کیا گھر میں سچائی کا ماحول ہے؟
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ غصے میں بدتمیزی نہ کرے، لیکن کیا ہم خود غصے میں اپنی زبان پر قابو رکھتے ہیں؟
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ موبائل کا غلط استعمال نہ کرے، لیکن کیا ہم خود موبائل کے استعمال میں اعتدال رکھتے ہیں؟
بچے ہماری نصیحت سے زیادہ ہمارا کردار دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
اس لیے اگر ہمیں آنے والی نسل کی اصلاح کرنی ہے تو سب سے پہلے ہمیں اپنے گھر کے ماحول کو درست کرنا ہوگا۔
والدین کو بھی تربیت سیکھنی ہوگی
ہم بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہیں تربیت کی ضرورت ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اچھے والدین بننا بھی ایک ذمہ داری ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہے۔
بچے کو صرف کھانا، کپڑا، اسکول اور فیس دینا والدین کی ذمہ داری پوری کرنا نہیں ہے۔
والدین کو بچے کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، اس کی بات سننی ہوگی، اس کے سوالات کا جواب دینا ہوگا، اس کے دوستوں اور ماحول سے باخبر رہنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اسے اپنے عمل سے اچھائی کا نمونہ دکھانا ہوگا۔
بچے سے رشتہ مضبوط کریں
والدین کا رعب ایسا نہ ہو کہ بچہ اپنی پریشانی کسی دوست سے بیان کرے مگر والدین سے بات کرنے سے ڈرے۔/
اسے یہ اعتماد دیجیے کہ:
’’تم اپنی بات ہم سے کہہ سکتے ہو، ہم تمہیں سنیں گے؛ لیکن صحیح اور غلط کا فیصلہ بھی مل کر سمجھیں گے۔‘‘
محبت کے ساتھ نگرانی، اعتماد کے ساتھ حدود اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری—یہی متوازن تربیت ہے۔
آج کا بچہ، کل کا معاشرہ ہے
ہم اگر آج بچوں کی تربیت کو نظر انداز کریں گے تو کل صرف اپنے بچے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ:
’’بڑا ہوگا تو خود سمجھ جائے گا۔‘‘
بلکہ ہمیں سوچنا چاہیے:
’’جو سمجھ ہم چاہتے ہیں کہ اسے کل آئے، وہ آج سے اسے کیوں نہ سکھائیں؟‘‘
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾
’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
(سورۃ التحریم: 6)
یہ آیت ہمیں اپنے گھر والوں کی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔
آخر میں ایک سوال
ہم اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر اور افسر بنانے کے لیے سالہا سال محنت کرتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں اچھا انسان بنانے کے لیے بھی اتنی ہی محنت کرتے ہیں؟
یاد رکھیے:
بچے کو بڑا ہونے کے بعد قابو کرنے کی کوشش نہ کریں؛ اسے بچپن ہی سے سنواریں۔
تربیت کا وقت 15 یا 16 سال کی عمر نہیں، تربیت کا وقت بچپن ہے۔
آج بچے کے ساتھ وقت گزاریں، اسے سنیں، سمجھائیں، حدود سکھائیں، ذمہ داری دیں اور خود اچھا نمونہ بنیں۔
کیونکہ آج کی تربیت ہی کل کی نسل کا کردار بنے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔