کرناٹک میں اردو اور دو لسانی سرکاری اسکولوں کے فوری اصلاحات کی ضرورت: قاضی علی الدین
بیدر۔ 8/اکٹوبر (نامہ نگارمحمد عبد الصمد) اردوروزنامہ ”سرخ زمین“بیدرکے چیف ایڈیٹر قاضی علی الدین المعروف علی بابا نے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اردو اور دو لسانی (bilingual) سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار پر فوری جامع جائزہ لے اور اساتذہ کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی خامیوں اور تعلیمی نگرانی کے فقدان جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ انہوں نے کرناٹک اقلیتی ایم ایل ایز فورم کے چیئرمین جناب این اے حارث کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں ریاست کے اسکولوں، بالخصوص بیدر ضلع کے تعلیمی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت، محکمہ اسکول ایجوکیشن اور اقلیتی بہبود کے محکمے کو حرکت میں لانے کی اپیل کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے اردو اسکولوں میں باقاعدہ اساتذہ کی قلت ہے اور وہ طویل عرصے سے عارضی مہمان اساتذہ (گیسٹ ٹیچرس)کے سہارے چل رہے ہیں۔قاضی علی الدین کا کہنا ہے کہ مہمان اساتذہ ہنگامی بندوبست تو ہو سکتے ہیں مگر وہ کسی بھی سرکاری اسکول کی مستقل بنیاد نہیں بن سکتے۔ اسکولوں میں کلاس رومز، عمارتیں، پینے کا پانی، بیت الخلا، بجلی، لیبارٹریز، کمپیوٹرز اور ڈیجیٹل لرننگ کی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے تمام اسکولوں کا جامع آڈٹ کرانے اور اسکول وار طلبہ کی تعداد و اساتذہ کا جائزہ لینے پر زور دیا۔اس موقع پر ایک کرناٹک اردو اینڈ bilingual اسکول ایجوکیشن مشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے،مبینہ طورپروہ محکمہ اقلیتی بہبود اور اردو اکادمی کے اشتراک سے اسکولوں کی میپنگ، اساتذہ کی تربیت، معیاری نصاب کی فراہمی اور طلبہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے سے متعلق ہے۔
Comments
Post a Comment