مسلمان اور سرکاری اسپتال - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
مسلمان اور سرکاری اسپتال -
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
ہر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ھیکہ وہ اپنے عوام کے صحت و تندرستی اور علاج و معالجے کی فکر کرے اسلئے حکومت کیجانب سے چھوٹے بڑے شہروں سے لیکر گاوں اور دیہات میں بھی سرکاری اسپتال کھولے گئے ہیں جہاں پر ماھر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کے ذریعے اعلی اور معیاری علاج و معالجہ بالکل مفت یا بہت کم خرچے کے ذریعے کیا جاتا ہے بلکہ بعض خاص امراض میں گھر سے اسپتال آنے جانے کے لئے اسپتال کی جانب سے ہی مریض کے لئے سواری کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان سرکاری اسپتالوں میں معمولی امراض سے لیکر بڑے اور مھلک امراض کا علاج اور آپریشن تک کیا جاتا ہے
لیکن آج عام عوام کے ذہنوں میں غلط فہمی پیدا ہوگئی ھیکہ سرکاری اسپتالوں میں معیاری علاج نہہں ہوتا اور ڈاکٹر بھی ماھر اور تجربہ کار نہیں ہوتے اسلئے یہاں پر صرف غریب لوگ ہی علاج کے لئے جاتے ہیں حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے بلکہ ان اسپتالوں میں معیاری علاج ہونیکے ساتھ یہاں کے ڈاکٹر بھی ماھر اور تجربہ کار ہوتے ہیں اور اسپتال کا پورا عملہ کمی بیشی اور سستی اور لاپرواہی کی صورت میں حکومت کو جوابدہ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات لاپرواہی کی صورت میں انکو معطل بھی کیا جاتا ہے اسلئے یہ عملہ ہمیشہ فکرمند رہتا ہے
لیکن آج یہ غلط فہمیاں اتنی عام ہوچکی ھیکہ متوسط درجہ کا آدمی بھی ان سرکاری اسپتالوں میں علاج کرانے کو اپنی عار اور بے عزتی سمجھتا ہے اور مالی استطاعت نہ ہوتے ہوئے بھی کسی سے قرض لیکر یا کسی ادارے سے تعاون لیکر پرائیوٹ اسپتال میں لاکھوں روپئے خرچ کرکے علاج کراتا ہے حالانکہ یہی علاج ان سرکاری اسپتالوں چند ہزار روپیوں میں کیا جاسکتا ہے تاکہ معاشرے اور اپنوں کے طعن و تشنیع سے بچے اسلئے کہ سب سے بڑا مسئلہ اسکے سامنے یہ ہوتا ھیکہ لوگ اور معاشرہ کیا کہیگا ?
آج پرائیوٹ اسپتال لوٹ مارکے اڈے بن چکے ہیں متوسط اور غریب طبقے کے لئے ان پرائیوٹ اسپتالوں میں علاج کرنا ممکن نہیں
زچگی اور ڈیلیوری کا نارمل ہونا ممکن ہونے کے باوجود بھی بسااوقات ڈر اور خوف دلاکر سیزر اور آپریشن کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے جسپر کم سے کم تیس چالیس ہزار روپئے سے لیکر ایک لاکھ روپئے سے زائد کا خرچہ آتا ہے جبکہ یہی سیزر اگر مجبوری ہوتو سرکاری اسپتال میں چند ہزاروں میں ہوجاتا ہے اب ایک غریب آدمی اتنا سارا خرچہ کیسے برداشت کرے
آج ہمارے معاشرے میں یہ غلط رسم عام ہوچکی ھیکہ بچے کی پہلی ولادت اور ڈیلیوری کا سارا خرچہ لڑکی کے والدین اٹھائینگے چاہے والدین کتنے ہی غریب کیوں نہ ہوں حالانکہ یہ شرعی اور اخلاقی اعتبارسے بالکل غلط ہے اسلئے کہ شریعت کے اعتبارسے جسکا بچہ ہے وہی یہ سارا خرچہ برادشت کریگا یعنی شوہر اور شوہر کے گھر والے لیکن یہ رسم اتنی عام اور پختہ ہوگئی ھیکہ شوہر اور شوہر کے گھر والے مالدار اور صاحب حیثیت ہونیکے باوجود ڈیلیوری کا سارا خرچہ لڑکی کے والدین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے چاہے اسکے والدین کتنے غریب اور تنگدست کیوں نہ ہوں تو یہ لڑکی کے والدین پر بوجھ اور انکے ساتھ ظلم و زیادتی بھی ہے اسلئے اس غلط رسم کو ختم کرنیکی سخت ضرورت ہے
اور سرکاری اسپتالوں میں علاج پر جو کم خرچہ آتا ہے وہ اسوجہ سے کہ سارا خرچہ حکومت اٹھاتی ہے نہ یہ کہ دوائیاں اور علاج معیاری نہیں ہوتا اسلئے خرچہ کم آتا ہے
اسلئے جو کچھ غلط فہمیاں ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوئی ہیں انکو دور کرنا چاہئے اور جہاں تک ہوسکے ان سرکاری اسپتالوں میں علاج کرنا چاہئے تاکہ قرض کے بوجھ اور لوگوں کے احسانات سے بچا جاسکے اور اسکو اپنی ناک اور عزت اور اپنی انانیت کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے اسلئے یہی پیسہ اپنی اولاد کی تعلیم اور قوم و ملت کے غریب اور ضرورتمند لوگوں پر خرچ کیا جاسکتا ہے
اللہ تعالی ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے
مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
Comments
Post a Comment