نام نہیں، اپنے کردار کے نقوش چھوڑ جائیے! - بقلم : محمود علی لیکچرر


نام نہیں، اپنے کردار کے نقوش چھوڑ جائیے! - 
بقلم : محمود علی لیکچرر
8055402819

انسان کی اصل میراث اس کا نام نہیں، وہ اچھائیاں ہیں جو اس کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔

ذرا سوچیے! ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن سے اگر اپنے پردادا کا نام پوچھا جائے تو وہ فوراً بتا سکیں گے؟ شاید بہت کم لوگ اس سوال کا جواب دے پائیں گے۔ ہم میں سے بیشتر کو اپنے ہی خاندان کی تین چار نسلیں پیچھے جانے پر نام، چہرے اور واقعات یاد نہیں رہتے۔

حالاں کہ وہ لوگ بھی ہماری ہی طرح انسان تھے۔ ان کی بھی خواہشات تھیں، خواب تھے، امیدیں تھیں۔ انہیں بھی اپنی عزت پیاری تھی، وہ بھی ہنستے تھے، روتے تھے، خوش ہوتے تھے اور غمگین بھی۔ انہیں بھی اپنے بچوں سے محبت ہوگی، اپنے مستقبل کی فکر ہوگی اور شاید وہ بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ دنیا انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔

مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ جن لوگوں کے خون سے ہمارا وجود جڑا ہوا ہے، ان میں سے بہت سوں کا نام تک ہمیں معلوم نہیں۔ وقت نے ان کی یادوں کو دھندلا دیا، ان کے قصے خاموش ہوگئے اور ان کی زندگیاں تاریخ کے ان گنت اوراق میں کہیں گم ہوگئیں۔

اب یہی احساس اپنے اوپر آزما کر دیکھیے۔

آج ہم جن ناموں سے پہچانے جاتے ہیں، جن عہدوں پر فخر کرتے ہیں، جن کامیابیوں کو اپنی شناخت سمجھتے ہیں، کیا سو یا ڈیڑھ سو سال بعد کوئی ہمیں یاد رکھے گا؟ ہماری اولاد کی اولاد بھی کیا ہمارے نام، ہماری عادتوں اور ہماری زندگی کے واقعات سے واقف ہوگی؟ اور اگر واقف ہوگی بھی تو کیا ہماری زندگی اس کے لیے کوئی معنی رکھتی ہوگی؟

کہتے ہیں کہ انسان دو مرتبہ مرتا ہے۔ پہلی مرتبہ جب اس کی سانسیں تھم جاتی ہیں اور اس کا جسم مٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ دوسری مرتبہ اس وقت، جب اسے یاد کرنے والا آخری شخص بھی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور اس کی یاد کسی دل میں باقی نہیں رہتی۔

یہ ایک گہرا خیال ہے، جو ہمیں اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

شاید اسی لیے کچھ لوگ کتابیں لکھتے ہیں، کچھ عمارتیں تعمیر کرواتے ہیں، کچھ ادارے قائم کرتے ہیں اور کچھ اپنی نسل کو آگے بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہر انسان اپنے انداز میں چاہتا ہے کہ اس کے گزر جانے کے بعد بھی اس کا کوئی نشان باقی رہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف نام چھوڑ جانا ہی زندگی کی کامیابی ہے؟

کتابیں وقت کے ساتھ فراموش ہوسکتی ہیں، عمارتیں کھنڈر بن سکتی ہیں، ادارے اپنی شناخت کھو سکتے ہیں اور نسلیں بھی اپنے بزرگوں کو بھول سکتی ہیں۔ نام محفوظ رکھنے کی ہماری بہت سی کوششیں وقت کے سامنے بے بس ہوجاتی ہیں۔

لیکن ایک چیز ایسی ہے جو نام سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتی ہے، اور وہ ہے ہمارا کردار، ہماری تربیت اور ہماری اچھائیاں۔

اگر آپ نے کسی غم زدہ انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی، اگر آپ نے کسی مایوس شخص کو امید دی، اگر آپ نے کسی بھوکے کو کھانا کھلایا، کسی کمزور کا ہاتھ تھاما، کسی بچے کو علم دیا یا کسی پریشان انسان کی بات توجہ سے سن لی، تو ممکن ہے دنیا آپ کا نام بھول جائے، لیکن آپ کے عمل کا اثر کسی دوسرے انسان کی زندگی میں باقی رہے۔

زندگی کا اصل حسن یہی ہے کہ ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کریں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بعد بھی آپ کا وجود کسی نہ کسی صورت میں زندہ رہے تو ضروری نہیں کہ آپ کوئی بڑی کتاب لکھیں، کوئی عظیم الشان عمارت بنوائیں یا کوئی بڑا عہدہ حاصل کریں۔ آپ ایک اچھی عادت اپنا لیجیے اور اسے دوسروں تک منتقل کردیجیے۔

مثلاً، آپ فیصلہ کریں کہ آپ کسی روتے ہوئے انسان کو ہنسانے کی کوشش کریں گے۔ کسی پریشان شخص کو حوصلہ دیں گے۔ کسی کی غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سمجھائیں گے۔ کسی کی کامیابی پر حسد کرنے کے بجائے خوش ہوں گے۔ کسی غریب کو حقارت سے نہیں دیکھیں گے۔ کسی کی بات سننے کے لیے اپنے مصروف وقت میں سے چند لمحے ضرور نکالیں گے۔

یہ چھوٹے چھوٹے اعمال بظاہر معمولی ہیں، مگر انسانی معاشرے کی اصل خوب صورتی انہی سے تشکیل پاتی ہے۔

سوچیے، اگر آپ کی ایک اچھی عادت آپ کے بچے نے سیکھ لی، پھر اس نے اپنے بچے کو سکھا دی اور اس نے آگے کسی دوسرے انسان تک پہنچا دی، تو آپ کا اثر کتنی نسلوں تک سفر کرسکتا ہے! ممکن ہے اس سلسلے میں کہیں آپ کا نام باقی نہ رہے، لیکن آپ کی سکھائی ہوئی نیکی کسی نامعلوم شخص کے کردار کا حصہ بن جائے۔

یہی تو اصل وراثت ہے!

ہم اکثر اپنی اولاد کو جائیداد، دولت، کاروبار اور خاندانی نام کی حفاظت کرنا سکھاتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ کسی کا دل کیسے رکھا جاتا ہے؟ اختلاف کے باوجود احترام کیسے کیا جاتا ہے؟ طاقت ملنے پر عاجزی کیسے اختیار کی جاتی ہے؟ اور زندگی کی تلخیوں کے باوجود دوسروں کے لیے آسانی کیسے پیدا کی جاتی ہے؟

اگر ہم اپنی اولاد کو صرف اپنا نام آگے بڑھانے کی فکر دیں گے تو شاید وہ ہمارا نام تو آگے لے جائے، لیکن اگر ہم اسے اپنے کردار کی خوب صورتی بھی سکھا دیں تو وہ ہمارے نام کے بغیر بھی ہماری تربیت کی نمائندگی کرے گی۔

نام چھوڑنے کی کوشش مت کیجیے، ایسا کردار چھوڑیے جس سے دوسروں کو سیکھنے کا موقع ملے۔

کیوں کہ نام وراثت میں مل سکتا ہے، مگر کردار محنت سے بنتا ہے۔ نام لوگوں کو آپ کی شناخت بتاتا ہے، مگر کردار انہیں بتاتا ہے کہ آپ کیسے انسان تھے۔

زندگی بہت مختصر ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے بعد کتنے لوگ ہمیں یاد رکھیں گے، ہماری تصویریں کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گی اور ہمارا نام تاریخ کے کس گوشے میں گم ہوجائے گا۔ لیکن ہمارے پاس آج کا دن موجود ہے، آج کسی کے کام آنے کا موقع ہے، آج کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا امکان ہے۔

تو کیوں نہ ہم اپنی زندگی میں کم از کم ایک ایسی اچھی عادت پیدا کریں جس سے دوسرے لوگ ترغیب حاصل کریں؟ کیوں نہ ہم اپنے غصے کو برداشت میں، اپنی خودغرضی کو ایثار میں اور اپنی تلخی کو محبت میں بدلنے کی کوشش کریں؟

شاید کل ہماری قبر پر کوئی نام کی تختی بھی نہ پڑھے، شاید ہمارے قصے سنانے والا کوئی باقی نہ رہے، لیکن اگر ہم نے کسی کو جینے کا حوصلہ دیا، کسی کو علم کی روشنی دی، کسی کے دکھ میں اس کا ساتھ دیا یا کسی بچے کو انسانیت کا سبق سکھایا، تو ہماری زندگی بے معنی نہیں ہوگی۔

آخر میں بس اتنا یاد رکھیے:

دنیا آپ کو کتنے عرصے تک یاد رکھے گی، یہ آپ کے اختیار میں نہیں؛ لیکن آپ کی موجودگی میں کتنے لوگوں کو سکون ملا، کتنے چہروں پر مسکراہٹ آئی اور کتنے لوگوں نے آپ سے کوئی اچھی بات سیکھی، اس میں آپ کا اختیار ضرور ہے۔

اپنا نام زندہ رکھنے کی فکر چھوڑ دیجیے۔

ایسے انسان بن جائیے کہ آپ کو یاد رکھنے والے کم بھی ہوں، تو آپ سے سیکھنے والے بہت ہوں۔

کیوں کہ انسان کی سب سے خوب صورت یادگار اس کا نام نہیں، بلکہ وہ نیکی ہے جو اس کے بعد بھی دنیا میں اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔