سر سید احمد خاں کی تعلیمی تحریک آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے - انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں یومِ سر سید کا اہتمام؛ اردو نثری اصناف پر خصوصی علمی و ادبی لیکچر


سر سید احمد خاں کی تعلیمی تحریک آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے - 
انجمن ڈگری کالج دھارواڑ میں یومِ سر سید کا اہتمام؛ اردو نثری اصناف پر خصوصی علمی و ادبی لیکچر

دھارواڑ، 17 اکتوبر 2026ء: انجمن اسلام دھارواڑ کے زیرِ اہتمام انجمن آرٹس، سائنس، کامرس کالج و پی جی اسٹڈیز، دھارواڑ کے شعبۂ اردو نے آئی کیو اے سی (IQAC) کے اشتراک سے یومِ سر سید احمد خاں کے موقع پر ایک علمی و ادبی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ’’اردو نثری اصناف کا مطالعہ‘‘ کے عنوان سے خصوصی لیکچر بھی منعقد ہوا جس میں سر سید احمد خاں کی تعلیمی، ادبی اور اصلاحی خدمات کے ساتھ اردو نثر کی اہم اصناف پر روشنی ڈالی گئی۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نسیم بانو، لکچرار، نہرو پی یو کالج ہبلی نے اپنے خطاب میں انجمن اسلام دھارواڑ کے صدر و اراکین، کالج کے پرنسپل، اساتذہ اور بالخصوص شعبۂ اردو کو یومِ سر سید کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے سر سید احمد خاں کی علمی، ادبی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے افسانہ، ناول، مضمون، انشائیہ، خاکہ اور صحافت جیسی اہم نثری اصناف کی خصوصیات اور ادبی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے طلبہ و طالبات کو اردو ادب کے وسیع مطالعے اور صحافت سمیت مختلف ادبی میدانوں سے واقفیت حاصل کرنے کی ترغیب دی۔اس موقع پر انجمن اسلام دھارواڑ کےاعزازی سیکریٹری اور کرناٹک اردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر سید قدیر ناظم سرگروہ نے سر سید احمد خاں کی تعلیمی تحریک کے تاریخی پس منظر اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سر سید نے قوم کی تعلیمی پسماندگی کو محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کو جدید تعلیم، سائنسی علوم اور مغربی علوم کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور سماجی مخالفت کے باوجود اس مقصد کے لیے عزم و استقامت کے ساتھ جدوجہد کی۔ ڈاکٹر سرگروہ نے علی گڑھ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سر سید کی تعلیمی کوششوں نے مسلمانوں میں علمی بیداری پیدا کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ملک و قوم کو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات فراہم کیں۔ ان کے مطابق سر سید کے افکار آج بھی نئی نسل کو علم، تحقیق اور ترقی کی راہ دکھاتے ہیں۔کالج کے پرنسپل ڈاکٹر این۔ بی۔ نالتواڑ نے اپنے خطاب میں مولانا الطاف حسین حالی کی شہرۂ آفاق نظم "مدّ و جزرِ اسلام"المعروف بہ "مسدسِ حالی"کے چند اشعار پیش کیے۔ انہوں نے سر سید احمد خاں اور حالی کے علمی و ادبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حالی نے سر سید کی اصلاحی فکر اور تحریک سے متاثر ہوکر مسلمانوں کے عروج و زوال، تعلیمی بیداری اور قومی اصلاح کے موضوعات کو اپنی شاعری میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔تقریب کا آغاز سید عظمٰی فاطمہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مہمانوں، انجمن اسلام کے عہدیداران، پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ سر سید منانے کا حقیقی مقصد ان کے تعلیمی مشن، علمی بیداری، جدید علوم کے حصول اور عملی جدوجہد کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ سر سید کے افکار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے تعلیم و تحقیق کے میدان میں آگے بڑھیں۔بی اے سالِ آخر کے طلبہ احمد رضا اور انیشا نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ محترمہ گلناز قاضی نے مہمانِ خصوصی کا تعارف پیش کیااورڈاکٹر فاطمہ داروغہ نے اظہارِ تشکر ادا کیا۔اس موقع پر جناب عبدالرشیدشاد،آئی کیو اے سی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سید تاج النساء، جشنِ یوم کمیٹی کے صدر مبارک ملا، کالج کے اساتذہ اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے۔یومِ سر سید کی یہ تقریب ان کی تعلیمی و اصلاحی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ نئی نسل میں علمی بیداری، مطالعے کا ذوق اور اردو ادب سے وابستگی پیدا کرنے کی ایک اہم کوشش ثابت ہوئی۔(رپورٹ: ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی، انجمن ڈگری کالج دھارواڑ)

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔