صحافت میں تجزیہ، تحمل اور آزادانہ فکر اہم ہیں: سشیل کمار شندے - مہاراشٹر ایڈیٹرس کونسل کی جانب سے وکرم کھیلبڑے کو آنجہانی یشونت پادھیے میموریل ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا
سولاپور : (راست) صحافت کا بنیادی فریضہ محض خبریں فراہم کرنا نہیں، بلکہ رونما ہونے والے واقعات کا تجزیہ کرکے ان کے مختلف پہلوؤں کو عوام کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔ صحافیوں کو سیاسی اور سماجی حالات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو غیر جانب داری کے ساتھ اجاگر کرنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ شخصیات کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت ان کی خوبیوں اور خامیوں، دونوں کا تجزیہ ضروری ہے۔ صحافت کے میدان میں تحمل، مطالعہ اور آزادانہ فکر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے کیا۔
مہاراشٹر ایڈیٹرس کونسل، ممبئی کے زیرِ اہتمام آنجہانی یشونت پادھیے میموریل ریاستی سطح کے ایوارڈز کی تقریب جمعہ کے روز سولاپور شریْمک پترکار سنگھ کے ہال میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے ہاتھوں شریْمک پترکار سنگھ کے صدر اور روزنامہ ’’سنچار‘‘ کے نائب مدیر وکرم کھیلبڑے کو مذکورہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے شندے نے صحافت کی ذمہ داریوں اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
تقریب میں اسٹیج پر ناگنسور بملنگیشور مٹھ کے مٹھادھیش شری کنٹھ شیواچاریہ مہاسوامی جی، معروف قانون داں ایڈوکیٹ دھننجے مانے، مہاراشٹر اسٹیٹ مراٹھی پترکار سنگھ کے ریاستی صدر و کارپوریٹر منیش کیت، ریاستی ایکریڈیٹیشن کمیٹی کے رکن پرمود بوڈکے، مہاراشٹر ایڈیٹرس کونسل کے صدر سنجے ملَمے، کارگزار صدر پرکاش کلتھے اور ڈویژنل ایکریڈیٹیشن کمیٹی کے رکن گورکھ تاورے سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
صاحب اعزاز کو مومنٹو، توصیفی سند، پانچ ہزار روپے نقد، شال اور گلدستہ پیش کیا گیا۔
سشیل کمار شندے نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ صحافیوں کی سہولتوں اور فلاح و بہبود کے لیے عملی جذبے کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ محض صحافت کا نام استعمال کرکے آگے بڑھنے کے بجائے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے سولاپور میں صحافیوں کی رہائش کے لیے تعمیر کیے گئے رہائشی منصوبے کی خصوصی طور پر ستائش کی۔
انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے شہر میں رہائش اختیار کرنا اور مکان کا کرایہ برداشت کرنا دشوار ہوتا ہے۔ ایسے صحافیوں کے لیے رہائش کا انتظام کرنا ایک اہم اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ صحافت کا مثبت کردار یہ بھی ہے کہ معاشرے میں انجام دیے جانے والے اچھے کاموں کو منظرِ عام پر لایا جائے، انہیں مناسب تشہیر دی جائے اور متعلقہ افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ سیاسی اور سماجی افکار و نظریات کو سمجھنے کے لیے وسیع مطالعہ ناگزیر ہے۔
مہاراشٹر ایڈیٹرس کونسل کے صدر سنجے ملَمے نے اپنے صدارتی خطاب میں کونسل کی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا اور ماضی کی یادوں کو تازہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل یہ ایوارڈ آنجہانی بالاصاحب ٹھاکرے کو بھی دیا جا چکا ہے، جو اس اعزاز کی اہم روایت اور وقار کا مظہر ہے۔
اس موقع پر ایڈوکیٹ دھننجے مانے اور منیش کیت نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ کونسل کے کارگزار صدر پرکاش کلتھے نے تمہیدی کلمات ادا کیے، جبکہ شریْمک پترکار سنگھ کے خازن وجے گائیکواڑ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ سنگھ کے جنرل سکریٹری آفتاب شیخ نے اظہارِ تشکر کیا۔
خوبیوں کی بنیاد پر اعزاز دیا جاتا ہے، نہ کہ عمر یا جنس کی بنیاد پر: شری کنٹھ شیواچاریہ مہاسوامی جی :
شری کنٹھ شیواچاریہ مہاسوامی جی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی اچھا کام کرنے والی شخصیت کی عزت افزائی کا انحصار اس کی عمر یا دیگر ظاہری پہلوؤں پر نہیں، بلکہ اس کی خوبیوں اور خدمات پر ہوتا ہے۔ ’’بہوجن ہتائے، بہوجن سکھائے‘‘ یعنی عوام کی بھلائی اور عوام کی خوشی، نیز ’’پروپکارارتھم اِدم شریرم‘‘ یعنی یہ جسم دوسروں کی بھلائی کے لیے ہے، جیسی اعلیٰ اقدار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے معاشرے کے لیے خلوص اور لگن سے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وکرم کھیلبڑے گزشتہ 14 برسوں سے شریْمک پترکار سنگھ کے صدر کی حیثیت سے صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ انہیں حاصل ہونے والا یہ اعزاز دراصل ان کی صحافتی خدمات اور جدوجہد کا اعتراف ہے۔
ایوارڈ کی رقم خشک سالی سے متاثرہ افراد کے لیے وقف کرنے کا اعلان :
ایوارڈ یافتہ وکرم کھیلبڑے نے اپنی سماجی وابستگی اور انسانی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایوارڈ کے تحت حاصل ہونے والی پانچ ہزار روپے کی نقد رقم خشک سالی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے عطیہ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم جلد ہی ضلع کلکٹر، سولاپور کے حوالے کی جائے گی۔
یہ اعلان تقریب میں موجود حاضرین کے لیے باعثِ تحسین رہا اور اس کے ذریعے سماجی ذمہ داری کے جذبے کو بھی اجاگر کیا گیا۔
Comments
Post a Comment