کائنات، زمین، انسان اور زلزلہ - تاریخِ حیات کی روشنی میں ایک جائزہ - ازقلم : شیخ محمود علی لیکچرر۔


کائنات، زمین، انسان اور زلزلہ - 
تاریخِ حیات کی روشنی میں ایک جائزہ - 
ازقلم : شیخ محمود علی لیکچرر۔
8055402819

انسان جب کسی بڑے قدرتی واقعے، خصوصاً زلزلے سیلاب یا آتش فشاں کے سامنے آتا ہے تو اس کے ذہن میں مذہبی فلسفیانہ اور سائنسی سوالات بیک وقت پیدا ہوتے ہیں۔ بعض لوگ فوراً اسے انسانی گناہوں کا نتیجہ قرار دے دیتے ہیں، مگر اگر ہم کائنات، زمین اور حیات کی پوری تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو تصویر کہیں زیادہ وسیع دکھائی دیتی ہے۔

سائنسی اندازوں کے مطابق کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے۔ ہمارا سورج اور شمسی نظام اس کے بہت بعد، تقریباً 4.6 ارب سال قبل وجود میں آئے۔ زمین بھی تقریباً 4.5 سے 4.6 ارب سال پہلے تشکیل پائی۔ گویا کائنات کی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا تھا جب نہ زمین موجود تھی، نہ انسان اور نہ انسانی تہذیب۔

ابتدائی زمین آج کی زمین جیسی پُرسکون نہ تھی۔ اس پر شہابی اجسام گرتے تھے، آتش فشانی سرگرمیاں شدید تھیں، زمین کی پرتیں بنتی، ٹوٹتی اور حرکت کرتی تھیں۔ کروڑوں اور اربوں برس کے دوران یہی ارضیاتی عمل پہاڑوں، سمندروں براعظموں اور زمین کی موجودہ ساخت کی تشکیل کا سبب بنے۔

زمین پر حیات کے ابتدائی آثار تقریباً 3.5 سے 3.7 ارب سال پرانے ملتے ہیں۔ یہ حیات ابتدا میں نہایت سادہ اور یک خلوی جانداروں کی شکل میں تھی۔ بعد میں زندگی نے بتدریج پیچیدہ صورتیں اختیار کیں اور مختلف انواع وجود میں آتی گئیں۔

تقریباً 23 کروڑ سال پہلے ابتدائی ڈائنوسار نمودار ہوئے۔ انہوں نے کروڑوں سال تک زمین کے مختلف حصوں پر غلبہ قائم رکھا۔ تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے بیشتر غیر پرندہ ڈائنوسار معدوم ہوگئے۔ اس وقت بھی جدید انسان کا کوئی وجود نہیں تھا۔

انسانی ارتقا کی کہانی اس کے مقابلے میں انتہائی نئی ہے۔ انسان کے قدیم ترین ارتقائی رشتہ داروں کی تاریخ تقریباً 60 لاکھ سال یا اس سے زیادہ پیچھے جاتی ہے، جبکہ جنس Homo کے قدیم فوسل تقریباً 28 لاکھ سال پرانے ہیں۔ جدید انسان، یعنی Homo sapiens، تقریباً 3 لاکھ سال پہلے افریقہ میں ظاہر ہوا۔

اگر زمین کی تقریباً ساڑھے چار ارب سالہ تاریخ کو ایک دن تصور کیا جائے تو جدید انسان اس دن کے بالکل آخری لمحوں میں نمودار ہوتا ہے۔ ہماری تہذیب، شہر، سلطنتیں، صنعت، جدید سائنس اور موجودہ سماجی زندگی تو اس طویل تاریخ میں گویا چند لمحوں کی داستان ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ زلزلے کب سے آ رہے ہیں؟

زلزلہ زمین کی پرتوں اور فالٹس میں جمع ہونے والے دباؤ کے اچانک اخراج کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی رہتی ہیں۔ جب چٹانوں پر دباؤ ان کی برداشت سے بڑھ جاتا ہے تو اچانک حرکت پیدا ہوتی ہے اور توانائی زلزلہ جاتی لہروں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ یہ ارضیاتی عمل انسان کی پیدائش سے بہت پہلے سے جاری ہے۔

اس لیے یہ کہنا تاریخی اور سائنسی اعتبار سے درست نہیں کہ زلزلوں کا وجود صرف انسانی گناہوں کے بعد شروع ہوا۔ زمین اس وقت بھی لرزتی تھی جب انسان موجود نہیں تھا، ڈائنوسار کے زمانے میں بھی زمین کی پرتیں متحرک تھیں اور اس سے بھی کروڑوں سال پہلے آتش فشانی اور ارضیاتی سرگرمیاں جاری تھیں۔
یہاں مذہب اور سائنس کے درمیان غیر ضروری تصادم پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔
سائنس یہ سوال پوچھتی ہے
زلزلہ کیسے آیا؟
اور مذہبی و اخلاقی فکر انسان سے یہ پوچھ سکتی ہے:

اس حادثے سے ہم کیا سبق حاصل کریں؟

قدرتی حادثہ انسان کو اپنی کمزوری، زندگی کی ناپائیداری اور کائنات کی وسعت کا احساس دلا سکتا ہے۔ وہ دعا، توبہ، احتسابِ نفس اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے۔ لیکن کسی مخصوص زلزلے کے بارے میں قطعیت سے یہ کہنا کہ یہ فلاں لوگوں کے فلاں گناہ کی سزا ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے انسان کے پاس یقینی علم نہیں ہوتا۔

علمِ ارضیات کو سمجھنا ایمان سے بغاوت نہیں۔ زمین کی ساخت، حیات کی تاریخ اور کائنات کی وسعت پر غور کرنا انسان کے شعور کو وسیع کرتا ہے۔

شاید اصل سوال یہ نہیں کہ زمین کیوں لرزی؟
یہ سوال سائنس بڑی حد تک سمجھا سکتی ہے۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ:

زمین کے لرزنے کے بعد ہمارا شعور کتنا بیدار ہوا؟

زمین اربوں سال سے اپنے فطری قوانین کے تحت متحرک ہے۔ انسان اس طویل تاریخ میں بہت دیر سے آیا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک انسان میں تکبر نہیں، بلکہ عاجزی پیدا کرنا چاہیے۔

زمین کا لرزنا ایک قدرتی واقعہ ہے، مگر اس واقعے سے سبق لینا انسان کا شعوری اور اخلاقی عمل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔