اساتذہ کو کمرہ جماعت میں اپنے طالب علموں کو پڑھانے دیجیے۔ حکومت سے دست بستہ اپیل : ایوب احمد نلامندو - انّ دان سیوا سوسائٹی کی جانب سے ساوتری بائی پھلے مثالی معلم اعزازات کی تقریب؛ عالمی شہرت یافتہ ڈیسلے گروجی کے ہاتھوں اساتذہ کی عزت افزائی۔
اساتذہ کو کمرہ جماعت میں اپنے طالب علموں کو پڑھانے دیجیے۔ حکومت سے دست بستہ اپیل : ایوب احمد نلاماندو -
انّ دان سیوا سوسائٹی کی جانب سے ساوتری بائی پھلے مثالی معلم اعزازات کی تقریب؛ عالمی شہرت یافتہ ڈیسلے گروجی کے ہاتھوں اساتذہ کی عزت افزائی۔
سولاپور (اقبال باغبان) انّ دان سیوا سوسائٹی، سولاپور کے زیرِ اہتمام ’’ساوتری بائی پھلے مثالی معلم اعزازات‘‘ کی ایک پُروقار تقریب شہر کے شیوشمارک آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز اردو و مراٹھی ادیب ایوب احمد نلّامندو نے کی، جبکہ عالمی شہرت یافتہ معلم ڈیسلے گروجی کے ہاتھوں اساتذہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مختلف تعلیمی و سماجی شخصیات کی موجودگی نے تقریب کو وقار بخشا۔
تقریب میں شری راشٹر سنت تُکڈوجی مہاراج کالج کی صدر مدرسہ اشونی چوہان، ٹوئنٹی ٹوئنٹی شوگر، لاتور کے نائب صدر سمیر بھاگوت سلگر، پروفیسر پی۔ پی۔ کلکرنی، سکھوبائی ہیراچند نیم چند ادارے کی صدر مدرسہ نیتا یرمالکر، سابق رکنِ اسمبلی دلیپ مانے اور سماجی ادارے کے صدر سیفان شیخ بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تقریب کا آغاز کرانتی جیوتی ساوتری بائی پھلے کی تصویر پر گلہائے عقیدت پیش کرنے اور شمع روشن کرنے سے ہوا۔
ابتداء میں ادارے کے رکن ڈاکٹر زین الدین پٹیل نے تنظیم کے اعراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی خدمات کا اعتراف اور ان کی عزت افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر واحد جمعدار، عرفان لالکوٹ، ڈاکٹر ہارون باغبان اور ڈاکٹر آصف اقبال نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور ان کی گل پوشی کی۔ اس موقع پر شاعرہ شاہین صدف نے ساوتری بائی پھلے کی تعلیمی و سماجی خدمات کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کی۔
بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیجیے: ڈیسلے گروجی -
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ معلم ڈیسلے گروجی نے انّ دان سیوا سوسائٹی کی کاوشوں کو سراہا اور اس کے تعلیمی و سماجی کاموں کو قابلِ تقلید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزازاتی تقریب ترقی پسند فکر کی عکاس ہے اور انہیں اس بات پر بے حد خوشی ہے کہ منتظمین نے علم اور تعلیم و تدریس سے وابستہ افراد کی خدمات کے اعتراف کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی مسرت کا اظہار کیا کہ تقریب کے ذریعے سماج میں علم دوستی اور تعلیمی قدروں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کے اس دور میں محض تدریسی سرگرمیاں انجام دینا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بچے حقیقتاً کیا سیکھ رہے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی تعلیمی پیش رفت پر گہری نظر رکھیں، ان کے ساتھ شفقت و اپنائیت کا برتاؤ کریں اور والدین سے مسلسل خوش گوار رابطہ قائم رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو جدید اور مؤثر طریقوں سے پڑھانے کے ساتھ انہیں سیکھنے کے لیے مناسب مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ بچے کوشش کرتے، غلطیاں کرتے اور ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں؛ اس لیے اساتذہ کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ڈیسلے گروجی نے جاپان سمیت مختلف ممالک کے تعلیمی نظام اور جدید تدریسی طریقوں کی مثالیں پیش کرتے ہوئے حاضرین کی رہنمائی کی۔
بعد ازاں صدر مدرسہ اشونی موہن چوہان، صدر مدرسہ نیتا شری پد یرمالکر اور پروفیسر پی۔ پی۔ کلکرنی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اعزاز یافتہ اساتذہ کو مبارک باد پیش کی۔
اساتذہ کو تدریسی فرائض انجام دینے دیجیے: ایوب احمد نلّامندو
تقریب کے صدارتی خطاب میں ممتاز ادیب اور سینئر صحافی ایوب احمد نلّامندو نے اساتذہ کے مقام و مرتبے، ان کی ذمہ داریوں اور انہیں درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ تدریس دنیا کے مقدس ترین پیشوں میں سے ایک ہے، لیکن افسوس کہ اس پیشے سے وابستہ افراد کو آج بھی وہ مقام اور احترام حاصل نہیں ہو سکا جس کے وہ مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال یومِ اساتذہ کے موقع پر معلمین کی عزت افزائی کرکے ہم اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں، لیکن ان کے حقیقی مسائل اور انتظامی مشکلات کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اساتذہ کو تدریسی ذمہ داریوں کے علاوہ بی ایل او سمیت مختلف غیر تدریسی کاموں اور اضافی ذمہ داریوں میں بھی مصروف رکھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ہر ذمہ داری نبھاتے ہوئے انتظامیہ کا تعاون کرتے ہیں، جو ان کے فرض شناسانہ جذبے کا ثبوت ہے۔
انہوں نے حکومت سے دست بستہ اپیل کرتے ہوئے کہا، کہ : ’’اساتذہ کو کمرہ جماعت میں اپنے طالب علموں کو پڑھانے دیجیے، انہیں بچوں کا مستقبل سنوارنے کا موقع دیجیے!‘'
انہوں نے مزید کہا کہ مخلص، باصلاحیت اور محنتی اساتذہ ہی نئی نسل کی تعمیر کرتے ہیں۔ انہی کی بدولت معاشرے میں تہذیب، شعور اور اخلاقی اقدار فروغ پاتے ہیں۔ اس لیے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرنے کے ساتھ ان کے مسائل حل کرنا اور انہیں تدریسی فرائض کی ادائیگی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
تقریب کی نظامت ڈاکٹر اے۔ اے۔ بیجاپورے نے انجام دی، جبکہ ڈاکٹر واحد جمعدار نے اظہارِ تشکر کیا۔
مثالی اسکول، صدر مدرسین اور اساتذہ کی عزت افزائی :
تقریب میں سوشل اردو ہائی اسکول گھرکل کو مثالی اسکول کے اعزاز سے نوازا گیا۔ مثالی صدر مدرسین کے ضمرے میں ڈاکٹر ہارون رشید باغبان، ڈاکٹر آصف اقبال اور مسرت بیجاپورے کو اعزازات پیش کیے گئے۔
اسی طرح مثالی معلمین کے اعزازات سے شافیہ کوثر شوکت علی شیخ، شبانہ شاہ بھائی، فرحان نلّامندو، تحسین کوٹ کنڈے، شاہین شکیل نلّامندو، آفرین پٹیل، تنویر اے۔ منان بیجاپورے، عرشیہ ہوٹگی، شاہین شیخ، رضوانہ پیارے، شمشاد شملک، فوزیہ شیخ، اسرار ابوبکر نلّامندو، نسیمہ شیخ، باسط بگل کوٹے، عرفان بانکری، آسیہ کوثر بیجاپورے، مشیرہ پانگل، فرحانہ پٹھان، فوزیہ باغبان، سیام سید، انیسہ شیخ، عمر فاروق بدری، بی بی عائشہ منیار، راحت ڈونگاؤں کر، نجمہ چاندہ، اسماء پٹھان، نیلوفر شیخ، ماجد بڑے گھر، بی بی شبنم نداف، رضوانہ بیلیف، عارفہ شیخ، تسکین ماجد چاندہ، حنا کوثر دیشمکھ، عالیہ پروین شیخ، فیروزہ جمعدار، وقارالنساء کوٹی، عمران قاضی، حمیدہ باغبان، اسحاق باٹگر، پروین سید، صبیحہ مجاور، ریاض سید اور بدرالنساء دفعدار کو نوازا گیا۔ تمام اعزاز یافتگان کو مومینٹو، شال اور گلدستے پیش کرکے ان کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
تقریب کے منتظمین ڈاکٹر اے۔ اے۔ وجاپورے اور ڈاکٹر وی۔ ایس۔ جمعدار تھے، جبکہ اہتمام انّ دان سیوا سوسائٹی، سولاپور کی جانب سے کیا گیا۔
Comments
Post a Comment