دنیائے علم وادب ایک عبقری شخصیت سے محروم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی نشست میں علماء کا اظہار خیال


 بیدر۔12/اکتوبر(نامہ نگارمحمد عبدالصمد)حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی (مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) کے انتقال سے دنیائے عربی علم وادب میں ایک ایسا خلا واقع ہوا ہے جس کو پرکرنا ناممکن نہیں بلکہ تقریباً محال ہے۔ مولانا نے ندوۃ العلماء میں 60/برسوں تک اپنی خدمات فراہم کیں، اس دوران مولانا فکر مونگیری، فکر ندوۃ العلماء، فکر علی میاں ندویؒکے امین وترجمان بنے رہے۔ ندوۃ العلماء کو بیرون ہند خصوصاً عالم عرب میں تعریف وتعارف میں نمایاں کردار اداکیا۔ندوۃ العلماء کے مالی تعاون کے لئے بیرون ملک سفارت کا کام کیا۔مولانا کو قرآن کریم کی تلاوت سے والہانہ تعلق وشغف تھا۔مولانا ندوۃ العلماء کی مسجد میں مستقل امامت کے فرائض انجام دیتے رہے اور وقت اتنے پابند کے لوگ ان کو دیکھ کر اپنی گڑھیوں میں اوقات درست کیا کرتے تھے۔طلبہ سے ان تعلقات انتہائی مربیانہ ومشفقانہ تھا، عربی ادب آپ کی گٹھی میں تھی، آپ نے شعراء رسول ﷺ پر اپنی کتاب ”شعراء الرسول“ کے ذریعہ کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مولانا بہت لطیف ونفیس طبیعت کے حامل تھے،درجات میں آمد کے دوران چیزوں کو بڑی باریکی سے دیکھتے اور ذرہ برابر بھی بے ترتیبی محسوس ہوتی اس طلبہ کی بہت شدید گرفت فرماتے تھے۔خطبات جمعہ کے ذریعہ طلبہ کو عربی خطبہ کی طرف راغب کیا، آپ کا کہنا تھا کہ عربی زبان وادب کی خصوصیت حدت (گرمی) ہے لہٰذا عربی زبان کو بلند وبانگ آواز میں پڑھا جانا اور سنا جانا چاہئے، اور اس طرح کی ڈھیروں خصوصیات کا علماء نے آج یہاں جمعیۃ علماء ہند شاخ ضلع بیدر کے دفتر میں مولانا تصدق حسین ندوی کی صدارت میں منعقدہ تعزیتی نشست میں اظہارکیااور مولانا کے لئے مغفرت اور درجات میں بلندی کے ساتھ جنت الفردو س میں داخلہ کی دعا کی گئی۔ اس مختصر سی تعزیتی نشست میں مولاناتصدق حسین ندوی، مفتی عبدالجلیل قاسمی، حافظ عمر رشادی، مفتی افسر علی نعیمی ندوی، حافظ ابراہیم، مولانا یحیٰ قادری ندوی، حافظ شبیر مدنی،مولانا سمیع اللہ ندوی اور راقم الحروف مولانا محمد شاہنواز عالم ندوی کے علاوہ دیگر علماء وحفاظ نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔نشست کا آغاز مولانا سمیع اللہ ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ اختتام مولانا تصدق ندوی کے صدارتی کلمات اور دعا پر ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔