تماپور میں عظیم الشان یادگار تاریخی مشاعرہ کا کامیاب انعقاد
( نامہ نگار ۔۔ کلیم فریدی ۔شوراپور ضلع یادگیر)
شوراپور ۔۔۔ کرناٹکا اردو اکیڈمی بنگلور کے زیر اہتمام تماپور تعلقہ شوراپور ضلع یادگیر میں 03/ اکتوبر 2026 کو ایک عظیم الشان کل ہند مشاعرہ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔پروگرام دو نشستوں پر مشتمل رہا پہلی نشست افتتاحی رہی جس کی صدارت کرناٹک اردو اکیڈمی کے صدر عالی جناب مفتی محمد علی قاضی صاحب نے فرمایا مہمان خصوصی کی حیثیت سے الحاج خالد احمد تالیکوٹی صاحب سابقہ رکن سی ایم سی شوراپور ،جناب عبدالغفار صاحب نگنوری سابقہ صدر مجلس بلدیہ شورا پور، پرکاش جین، عقیل ذاکر ملا، ڈاکٹر انیس صدیقی رکن اردو اکیڈمی بنگلورو، اعزاز و افتخار حاصل کرنے والے معزز اقبال راہی تما پوری وہ دیگر شہ نشین پر موجود رہے، شیخ داؤد ونٹی نے قرأت کلام پاک پیش کیا، محترم مفتی محمد علی قاضی صاحب کے بدست پودے کی اب بیاری انجام پائی ان کے ہمراہ دیگر مہمان کرام شامل رہے اس کے فوری بعد بڑی ہی ادب و احترام کے ساتھ تمام حضرات معہ سامعین کھڑے رہ کر ناڈگیت گنگنائے،کرناٹکا اردو اکیڈمی کے چیئرمین مفتی محمد علی قاضی صاحب نے اپنے صدراتی خطاب میں بتلایا کہ ہمارے سابق وزیراعظم آنجہانی شری واجپائی جی بھی اردو کی شعر و شاعری کو حوالہ بنا کر پارلیمنٹ میں اپنے بحث کے دوران پڑھا کرتے تھے اور شعر و شاعری بولا کرتے تھے ۔ اس وقت کے دور میں پارلیمنٹ میں وچپائی جی اور من موہن سنگھ کے درمیان اردو میں ہونے والی گفتگو کا تذکرہ کیا۔
اور انہوں نے اس وقت کی سابق وزیر خارجہ آنجہانی شریمتی سشما سوراج پڑوسی ملک گئیں اسٹیٹ گیسٹ حیثیت سے وہاں فصیح و بلیغ اردو زبان میں گفتگو کرنے لگی تو پڑوسی ملک کے لوگوں نے یہ کہا کہ یہ زبان تو ہمارے دیش کی ہمارے ملک کی ہے تو سشما سوراج جی نے برجستہ طور پر کہا نہیں یہ ہمارے دیش بھارت کی زبان ہے یہ ہندوستان کی زبان ہے اس لیے اج اس تما پور کے عظیم الشان مشاعرے میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس بات کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اردو زبان مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اردو زبان عرب کی زبان نہیں ہے اردو زبان iہندوستان کی زبان ھے بھارت کی زبان ھے انڈیا کی زبان ھے۔
موجودہ مرکزی حکومت کے یونین منسٹر کرن رجویجی
ایک اردو کی محفل میں الانیا اس بات کا اعلان کیا کہ اردو لینگویج پیورلی ہندوستانی لینگویج ھے
یہ زبان ییاں ہی پیدا ہوئی ہے اور یہیں اس کی نشونما ہوئی ہے اور گنگا جمنی تہذیب یعنی ہندو مسلمان آپس میں جو مل جل کر رہتے ہیں جس طرح تما پور میں رہتے ہیں اور اج کے مشاعرے میں نظر آرہے ہیں یہ وہ زبان ہے جو گنگا جمنی تہذیب ھے اردو زبان جمہوری تہذیب کو فروغ دینے والی زبان ھے
صدر موصوف نے اپنے خطاب میں فرماتے ہوئے بہت ہی عمدہ شعر کہا۔
" اسے اہل وطن دیکھیں نا ہرگز بدگمانی سے۔
کہ دھل کر ائی ہے یہ زم زم و گنگا کے پانی سے "
یہ وہ ہماری شیریں زبان ہے یہ وہ ہماری پیاری زبان ہے لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی زبان ہے تو اپ انند ناراین ملا ، پنڈی دیا شنکر نسیم، منشی رام موجی، رگھوبت، فرات گورکپوری، کرشن بہار نور یہ ہندو ہی تھے مگر شاعری اردو ؟ تو ہندو اور مسلمانوں کو ہندوؤں کو سکھوں کو عیسائیوں کو پورے ہندوستانیوں میں پیار و محبت کے بھائی چارہ اخوت کو فروغ دینے والی کوئی زبان ہے تو وہ اردو زبان ہے وہ ہماری ہمارے دیش کی زبان ہے ہمارے ملک کی زبان ہے۔ کرناٹکا اردو اکاڈمی کے چیئرمین صاحب نے مزید، بجٹ کے لانح عمل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کرناٹک میں اردو تحفظ ہو اور اردو کی خدمت ہو اس کے لیے کرناٹک حکومت نے ہمیں ایک بجٹ دیا ہے ایکشن پلان موجود ھےسابقہ میں اکیڈمی صرف شعرا اور ادبا کی حد تک محدود تھی ہم نے اس کو وسیع کرتے ہوئے محب اردو داں کو اردو بولنے والے اور مزید اردو کو فروغ کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے چند اسکیمیں اور منصوبے تیار کیے ہیں جس پر عملی کام جاری ہے کرناٹکا کا اردو اکیڈمی کی جانب سے ہر سہ ماہ ہی کا ایک ترجمان شائع کیا جاتا ہے جس میں کرناٹک کا اردو اکیڈمی کی سرگرمیوں کی تفصیلات کو پیش کیا جاتا ہے اردو کی خدمت گزاروں کو ان کے علاج معالجے کے لیے امداد فراہم کرنے کا ذکر کیا اخر میں بتایا کہ ہماری ریاست میں کم و بیش ایک کروڑ سے زیادہ لوگ اردو زبان کا استعمال کرتے ہیں جس میں ہمارے برادر وطن ہندو بھائی بھی شامل ہیں میری تجویز ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان پڑھنے پڑھانے کی طرف ترغیب کریں، " وہ کرے بات تو خوشبو ائے ایسی بولی وہی بولے جسے اردو ائے ۔ صدر موصوف نے اپنے خطاب میں معزز فعال وہ حرکیاتی رکن ڈاکٹر انیس صدیقی صاحب کرناٹکا اردو اکیڈمی کے خدمت وہ علاقے کی نمائندگی خوب ستائش کی۔۔
اعزاز حاصل کرنے والے اقبال راہی تما پوری نے مختصراً خطاب میں یہ تجویز رکھی کے اردو زبان کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے ذکر کر کے عوام کو بتایا جائے جو حق ھے ۔کلیم فریدی نامہ نگار نے کرناٹکا اردو اکیڈمی کی جانب سے اعزاز حاصل کرنے والے اقبال راہی تما پوری کے تعارفی کلمات پیش کیے، ڈاکٹر انیس صدیقی صاحب نے تمام کا استقبال کیا توفیق اسد تما پوری نے بہ حسن خوبی نظامات کے فرائض انجام دینے، اسی کے ساتھ پہلی اختتام پذیر ہوا ۔ باضابطہ دوسری نشست مشاعرے کا اغاز ہوا توفیق اسد تماپوری نے تمام شعرائے کرام کو اسٹیج پر مدعو کرتے ہوئے استقبال کیا ۔
ڈاکٹرا کرم نقاش ( گلیر کہ )ڈاکٹر افتخار شکیل ( رائچور)جناب عقیق عابدی (بنگلور)جناب متین شہزاد ( مالیگاؤں)ڈاکٹر رفیق سوداگر (یادگیر)جناب وحید پاشاہ قادری (حیدر آباد)جناب فضل تما پوری ( تماپور )ڈاکٹر قمر سرور (احمد نگر )محترمہ شیریں دلوی (ممبئی)
ڈاکٹر فرزانہ فرح بھٹکل
جناب صادق کرمانی ( گلبرگہ )
محترمہ مہک کیرانوی (حیدر آباد)جناب شریف احمد شریف (بلگام) جناب جاوید اقبال صدیقی ( گلبرگہ )جناب خادم اظہر (یادگیر)جناب توفیق اسد ( تما پور )جناب اوصاف مجاہد ( تماپور ) تمام شعرائے کرام نے اپنے اپنے منتخبہ کلام پیش کیے سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی سامعین سے بھرا یوسف یہ میدان رات دیر گئے تک مشاعرے کا لطف اٹھاتے رہے اور مذکرہ مشاعرے کی نظامت بین الاقوامی کے ممتاز شاعر و سابقہ رکن اکیڈمی شفیق عابدی بنگلور نے بڑی ہی نظم و ضبط کے ساتھ چلائی رات کے دو بج کر 30 منٹ پر مشاعرہ کا اختتام ہوا شریف احمد شریف رکن کرناٹکا اردو اکیڈمی نے اظہارِ تشکر پیش کیا ۔
منتظمین جلسہ،کلیم فریدی توفیق اسد تماپوری،توقیر آفاق تماپوری، مظہر الاسلام، محمد سلیم منصوری، وہ دیگر نوجوان شامل ہیں شرکہ مشاعرہ میں ادب نواز معززین عمائدین شہر علماء کرام اساتذہ کرام نوجوان تما پور شوراپور رنگم پیٹ او سگر شاہ پور یا گیر گلبرگہ اور سانگلی کے علاوہ خواتین و حضرات کی کثیر تعداد موجود رہی اخر تک عوام پرجوش و جذبے کے ساتھ ذوق و شوق کے ساتھ بیٹھے رہے اور اس مشاعرے کو ایک تاریخ ساز مشاعرہ قرار دیا۔
Comments
Post a Comment