استاد نہیں بدلا، ہم نے استاد کو بدل دیا!
استاد نہیں بدلا، ہم نے استاد کو بدل دیا!
کل ایک عزیز نے کہا:
"اب پہلے جیسے استاد ہی نہیں رہے۔"
یہ جملہ بظاہر ایک شکایت ہے، مگر ذرا ٹھہریے اور سوچیے کہ کیا واقعی استاد بدل گیا ہے؟ یا ہم نے اس کے گرد ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس نے اسے بدلنے پر مجبور کر دیا؟
ایک زمانہ تھا جب استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا تھا، بلکہ کردار بناتا، آداب سکھاتا اور زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا تھا۔ شاگرد استاد کی بات غور سے سنتا، اس کی ڈانٹ میں بھی خیر خواہی تلاش کرتا اور والدین بھی بچے کی اصلاح میں استاد کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔
آج صورتِ حال بڑی حد تک بدل چکی ہے۔
موبائل اور انٹرنیٹ نے علم تک رسائی آسان کر دی ہے۔ یہ ایک بڑی نعمت ہے، لیکن بعض اوقات اسی سہولت نے معلومات کو علم اور خود اعتمادی کو بدتمیزی میں بدل دیا ہے۔ آج بعض طلبہ استاد کی بات سمجھنے کے بجائے فوراً گوگل سے دلیل تلاش کرتے ہیں۔ مسئلہ سوال کرنے کا نہیں، سوال کے ساتھ ادب ختم ہونے کا ہے۔
دوسری طرف بعض والدین بھی بچے کی ہر غلطی کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ استاد اصلاح کرے تو شکایت، سختی کرے تو اعتراض اور نمبر کم دے تو الزام۔ یوں استاد کے ہاتھ میں ذمہ داری تو رہ جاتی ہے، مگر اختیار اور اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ استاد کبھی کبھی طالب علم کی اصلاح سے زیادہ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی فکر کرنے لگتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بڑھتا ہوا کام کا بوجھ، غیر تدریسی ذمہ داریاں، دفتری کارروائیاں اور بعض جگہ معاشی مسائل بھی ان کے جذبۂ تدریس کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم استاد سے بہترین نتائج، بہترین کردار اور بہترین تربیت کی توقع رکھتے ہیں، مگر کیا ہم اسے وہ عزت، اعتماد، سہولت اور مناسب ماحول بھی دیتے ہیں جس کا وہ حق دار ہے؟
آج تعلیم کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ کہیں کہیں کردار سے زیادہ رزلٹ، تربیت سے زیادہ نمبر اور انسان سے زیادہ اعداد و شمار اہم ہو گئے ہیں۔
ہمیں اچھا رزلٹ چاہیے، اچھی رینکنگ چاہیے، کامیاب طلبہ چاہیے؛ لیکن سوال یہ ہے:
کیا ہمیں اچھے انسان بھی چاہیے؟
اگر تعلیم سے ادب، دیانت، برداشت، احترام اور انسانیت نکل جائے تو صرف ڈگری معاشرے کو مہذب نہیں بنا سکتی۔
دین ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
اسلام نے علم کے ساتھ ادب کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید انسان کو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بڑوں کے احترام اور چھوٹوں پر شفقت کی تعلیم دی۔
استاد بھی انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے، لیکن اس کی اصلاح بھی احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسی طرح استاد کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا منصب صرف پڑھانا نہیں بلکہ رحمت، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے نسل کی تربیت کرنا ہے۔
حل کیا ہے؟
حل کسی ایک فریق کو موردِ الزام ٹھہرانے میں نہیں، بلکہ استاد، والدین، طالب علم اور تعلیمی ادارے کے باہمی تعاون میں ہے۔
والدین بچوں کو یہ سکھائیں کہ سوال ضرور کرو، اختلاف بھی کرو، مگر ادب کے دائرے میں رہ کر۔
اساتذہ بچوں کے ساتھ شفقت، صبر اور عدل کا معاملہ کریں۔ اصلاح کا مقصد بچے کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر انسان بنانا ہو۔
تعلیمی ادارے اساتذہ کو صرف نتائج کا ذمہ دار نہ سمجھیں، بلکہ انہیں مناسب اختیار، تحفظ، عزت اور تدریسی آزادی بھی دیں۔
اور طلبہ یہ سمجھیں کہ گوگل معلومات دے سکتا ہے، لیکن تربیت نہیں؛ موبائل جواب دے سکتا ہے، مگر استاد زندگی کا تجربہ نہیں دے سکتا۔
ہمیں استاد کو دوبارہ وہ مقام دینا ہوگا جہاں وہ خوف کے بغیر پڑھا سکے، والدین اعتماد کے ساتھ اس کا ساتھ دیں اور طالب علم ادب کے ساتھ اس سے سیکھے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ:
"آج کے استاد پہلے جیسے کیوں نہیں رہے؟"
بلکہ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
"ہم نے آج کے استاد کو پہلے جیسا رہنے کے لیے کیا دیا ہے؟"
استاد کو عزت دیں، شاگرد کو ادب دیں، والدین کو تربیت کا شریک بنائیں اور تعلیم کو صرف روزگار نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ بنائیں۔
کیونکہ استاد صرف ایک فرد نہیں، ایک نسل کا معمار ہوتا ہے۔
اور یاد رکھیے:
"استاد نہیں بدلا، ہم نے اسے بدل دیا ہے۔"
Comments
Post a Comment