غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
غزل -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
تیرے کوچے سے اگر جاتے ہیں
چھوڑ کر زیست سفر جاتے ہیں
آپ کے ساتھ اگر جاتے ہیں
دیکھئے رقص وشرر جاتے ہیں
روشنی پھیلتی ہے ہرسووہاں
جب کہیں اہل ِ نظر جاتے ہیں
جانے والے کی سخاوت دیکھیں
دے کے اپنی ہی خبر جاتے ہیں
خوب صورت سے جہاں میں رہ کر
کون جاتا ہے مگر جاتے ہیں
آکے AIدکھایا ہے کمال
ہاتھ سے اپنے ہنر جاتے ہیں
چل چلاؤ سالگاہے یارب
تیری دنیا سے بشر جاتے ہیں
وہ تو لپٹے ہوئے ہیں دامن سے
کون سے میرؔنگر جاتے ہیں
Comments
Post a Comment