غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
غزل -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
میرے سارے بچے غیرت مند ہیں
میرؔان کے آگے غیرت مند ہیں
جس طرف ہم دیکھے غیرت مند ہیں
دبلے پتلے موٹے غیرت مند ہیں
اب کہاں ہنگامہ ہوگا اور فساد
دیکھئے گا، شوشے غیرت مند ہیں
چھوڑ کر رب کو کہاں ہوتے ہیں یہ
تیرے میرے سجدے غیرت مند ہیں
سچ کا وہ اعلان اچھا تھا میاں
ہاں پرائے اپنے غیرت مند ہیں
اس لئے بننے لگی ہے زندگی
الٹے سیدھے لوچے غیرت مند ہیں
چلنامشکل ہے بہت سوں کویہاں
جو پڑے ہیں جادے غیرت مند ہیں
جن سے ملنے کومکان ِ دہر میں
ترسے جتنا ترسے غیرت مند ہیں
ہاں ترقی ہورہی ہے کیوں کہ میرؔ
گھر کے سارے نقشے غیرت مند ہیں
Comments
Post a Comment