سعودی عرب - حائل ریجن کا " جبلِ ابوالھول " منفرد چٹانی ساخت کا شاہکار۔



کے این واصف :  سعودی عرب کے علاقے حائل ریجن کے جنوب مغربی سمت میں واقع ایک گاؤں “اباالحیران” سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر سلسلہِ “کوہ اجا” میں موجود “ابوالھول” پہاڑ اپنی منفرد چٹانی ساخت کی وجہ سے نمایاں قدرتی و سیاحتی مقام بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ ابوالہول (Sphinx) مصر میں واقع دینا کا ایک قدیم، مشہور اور پر اسرار ترین مجسمہ بھی ہے۔ جو مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے قریب کیزہ کے میدان میں عظیم اہرامِ مصر (Pyramids of Jiza) کے ساتھ واقع ہے۔ باعتبارِ بناوٹ اس کا سر انسان اور جسم شیر کی طرح ہے۔ مگر متذکرہ سعودی کا پہاڑ قدرتی طور پر وجود میں آیا ہے۔ جو مصر کے مجسمہِ ابوالہول کے مشابہ ہے۔ 
سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق سعودی کا یہ پہاڑ ہزاروں برس کے دوران ہوا کے قدرتی کانٹ چھانٹ اور موسمی اثرات کے باعث وجود میں آیا۔ 
ماہ و سال کے ان قدرتی عوامل نے چٹان کو اس انداز میں تراشا کہ اسے دیکھنے پر بہت بڑے انسانی سر کا گمان ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس پہاڑ کا نام “جبل ابوالھول” پڑ گیا۔
پہاڑ کے اطراف مختلف جسامت کی چٹانی تشکیلات موجود ہیں، جو طویل عرصے تک طبعی و کیمیائی موسمی اثرات، بارشوں اور نمی کے باہمی عمل سے تشکیل پائیں۔
“ابوالھول” پہاڑ اپنی منفرد ساخت کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ دیکھنے کے زاویے اور فاصلے کی تبدیلی کے ساتھ ان کی شکل و شباہت مختلف محسوس ہونے لگتی ہے۔
 یہ علاقہ متنوعی ارضیاتی مظاہر سے مالا مال ہے، جو اس کی قدرتی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جبل ابوالھول منفرد چٹانی تشکیلوں میں دلچسپی رکھنے والوں اور حائل آنے والے سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش کا مرکز بن گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔