ہمارے بزرگ:گھر اور معاشرے کا بہترین سرمایہ - فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)


ہمارے بزرگ:گھر اور معاشرے کا بہترین سرمایہ - 
فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)

انسانی زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو محبت، تجربے، خلوص اور دعاؤں کا حسین امتزاج ہوتے ہیں۔ بزرگ بھی ہماری زندگی کا ایسا ہی قیمتی حصہ ہیں۔ وہ خاندان کی بنیاد، معاشرے کا تجربہ اور نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ہمارے گھروں اور معاشرے میں موجود بزرگ محض عمر رسیدہ افراد نہیں ہیں، بلکہ وہ حکمت، دانائی، تہذیب اور برکت کا وہ بہتا ہوا دریا ہیں جس سے آنے والی نسلیں سیراب ہوتی ہیں۔
بزرگ وہ افراد ہیں جنہوں نے زندگی کے مختلف نشیب و فراز دیکھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے خوشی، غم، کامیابی، ناکامی، مشکلات اور حالات کی تبدیلیوں کا سامنا کیا ہوتا ہے۔ یہی تجربات انہیں زندگی کو سمجھنے کی وہ خاص بصیرت عطا کرتے ہیں جو کسی کتاب یا جامعہ سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ نسلِ نو کے پاس علم اور جدید ٹیکنالوجی تو ہے، لیکن بزرگوں کے پاس زندگی کا عملی تجربہ ہے۔ ان کے مشورے ہمارے لیے ہمیشہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔
بزرگ خاندان کو جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک گھر میں مختلف مزاج اور مختلف سوچ رکھنے والے افراد ہوتے ہیں، ایسے میں بزرگ محبت، صبر اور سمجھ داری کے ذریعے سب کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی خاندان کے افراد میں تعلق، احترام اور اپنائیت پیدا کرتی ہے۔ تہواروں، شادی بیاہ اور دیگر خاندانی مواقع پر بزرگوں کی موجودگی بہت اہم ہوتی ہے۔
بزرگ ہماری تہذیب اور روایات کے محافظ بھی ہوتے ہیں۔ ہر معاشرے کی اپنی روایات، اقدار، زبان، رسم و رواج اور ثقافتی ورثہ ہوتا ہے۔ بزرگ ان روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنے خاندان کی تاریخ، ماضی کے حالات اور اسلاف کے کارناموں سے آگاہ کرتے ہیں۔ آج کے اس تیز ترین اور تکنیکی دور میں، جہاں مادہ پرستی بڑھ رہی ہے اور خاندانی روایات دم توڑ رہی ہیں، یہ بزرگ ہی ہیں جو ہمیں ہماری جڑوں سے جوڑے رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو سچی کہانیاں سنا کر خاندانی تاریخ سے روشناس کراتے ہیں اور دینی و اخلاقی آداب سکھا کر ان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ اگر بزرگ نہ ہوں تو قومیں اپنی شناخت اور تہذیبی پس منظر سے محروم ہو جائیں۔
بزرگوں کے تجربات نئی نسل کے لیے ایک غیر معمولی درس گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کی کہانیاں ہمیں صبر، محنت، قناعت، برداشت اور مستقل مزاجی کا سبق دیتی ہیں۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حوصلے اور محنت کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ان کے تجربات کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں آزمائے ہوئے ہوتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں مشترکہ خاندانی نظام کم ہوتا جا رہا ہے۔ مصروف زندگی، ملازمت، تعلیم اور دیگر مسائل کے باعث خاندان کے افراد ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے بعض اوقات بزرگ خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جن بزرگوں نے ہماری پرورش، تعلیم اور زندگی کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا بڑھاپے میں ان کی خدمت اور دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے۔
اس کام میں خواتین بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کیونکہ اکثر گھریلو امور پر ان کی توجہ ہوتی ہے۔ خواتین نہ صرف خود اپنے بزرگوں کی خدمت کریں بلکہ بچوں کو بھی ان کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔ خود ان باتوں پر عمل کریں اور گھر کے دیگر افراد کو بھی اس کی تلقین کریں۔
۱. انہیں وقت دیں: گھر کے بزرگوں کے پاس کچھ وقت لازمی بیٹھیں، ان کا حال احوال دریافت کریں اور ان کی پرانی یادوں اور تجربات کو توجہ اور احترام سے سنیں۔ مجھے اس کا ذاتی تجربہ رہا ہے۔ میری نانی کے پاس جب بھی بیٹھتی ہوں، وہ اپنے دور کی کہانیاں، رسمیں اور اس وقت کے ماحول سے متعلق بہت مفید اور دلچسپ باتیں بتاتی ہیں۔ مجھے تو معلومات ملتی ہی ہیں لیکن یہ سب بتاتے ہوئے ان کی خوشی بھی دیدنی ہوتی ہے۔
۲. احترام اور عزت سے پیش آئیں: ان کی باتوں اور مشوروں کو اہمیت دیں، اور اگر کسی بات سے اختلاف بھی ہو تو انتہائی ادب اور نرمی سے اپنا موقف پیش کریں۔
۳. دیکھ بھال کریں: ان کی صحت، جسمانی اور نفسیاتی ضرورتوں کا خیال رکھیں۔ ان کی ادویات، خوراک اور آرام پر خاص توجہ دیں۔
۴. فیصلوں میں شمولیت: گھر کے اہم فیصلوں میں ان سے مشورہ لیں تاکہ انہیں یہ احساس رہے کہ وہ اب بھی گھر کا ایک اہم اور فعال حصہ ہیں۔
اسلام اور ہماری مشرقی تہذیب میں بزرگوں کے احترام کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآنِ کریم میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی سے پیش آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑوں کے احترام اور چھوٹوں سے محبت کی تعلیم دی۔ اس لیے بزرگوں کی خدمت اور عزت صرف معاشرتی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی فریضہ بھی ہے۔
بزرگوں کو صرف مالی یا جسمانی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ انہیں محبت، توجہ اور عزت بھی چاہیے۔ ان کے ساتھ چند لمحے بیٹھ کر بات کرنا، ان کا احوال پوچھنا، ان کے تجربات سننا اور ان کی رائے کو اہمیت دینا ان کے لیے بہت خوشی کا باعث بنتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کو بوجھ نہ سمجھیں بلکہ انہیں اپنے گھر کی برکت اور قیمتی سرمایہ سمجھیں۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی بات سنیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی دعائیں حاصل کریں۔ جہاں بزرگوں کی عزت ہو، وہاں انسانیت، محبت اور اخلاقی اقدار ہمیشہ محفوظ اور مضبوط رہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔