اقبال فہمی - (قسط شانزدهم) - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
اقبال فہمی -
(قسط شانزدهم) -
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔
گزشتہ اشعار میں اقبال نے غالب کی عظمت کو انسانی فکر کی وسعت اور اس نگاہ کے حوالے سے بیان کیا تھا جو ہر شے کے اندر پوشیدہ حسن اور سوز زندگی کو محسوس کرسکتی ہے۔ اب وہ اسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے غالب کی شاعری کے اثر کو ایک وسیع تر دائرے میں دیکھتے ہیں۔ یہاں غالب صرف ایک صاحب فکر شاعر نہیں رہتے بلکہ ان کی شاعری ایسی قوت بن جاتی ہے جو خاموش زندگی کو آواز عطا کرتی ہے اور انسانی تخیل کے ذریعے کائنات کے حسن کو ایک نئی معنویت بخشتی ہے۔ اقبال کے نزدیک بڑا فنکار وہ نہیں جو صرف خوب صورت الفاظ جمع کردے بلکہ وہ ہے جو اپنے فن کے ذریعے زندگی کے اندر پوشیدہ حرکت کو نمایاں کردے اور انسان کو یہ احساس دلائے کہ خاموش نظر آنے والی دنیا بھی اپنے اندر ایک گہری داستان رکھتی ہے۔
محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
غالب کی شاعری کو اقبال نے "بربط" سے تشبیہ دی ہے۔ بربط ایک ساز ہے اور ساز کا کام خاموش فضا میں نغمہ پیدا کرنا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ محفل ہستی تیرے بربط سے سرمایہ دار ہے یعنی غالب کی شاعری نے زندگی کی اس محفل کو ایک ایسی آواز عطا کی جس سے اس کے اندر چھپے ہوئے احساسات نمایاں ہوگئے۔
اس شعر کا حسن دوسرے مصرعے میں اور زیادہ کھلتا ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ خاموش کھڑا ہے مگر جب اس کی وادیوں سے ندی بہتی ہے تو اس خاموشی میں ایک نغمہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ندی پہاڑ کو آواز نہیں دیتی بلکہ اس کی خاموشی کو معنی عطا کرتی ہے۔ اسی طرح غالب کی شاعری بھی انسانی زندگی کی خاموش حقیقتوں کو زبان دیتی ہے۔ عشق موجود تھا مگر غالب نے اس کی بے قراری کو لفظ عطا کیے۔ انسان حیران تھا مگر غالب نے اس حیرت کو شعر میں ڈھالا۔ زندگی سوال بن کر سامنے تھی مگر غالب نے اس سوال کو ایسی زبان دی کہ وہ صرف ایک شخص کا سوال نہ رہا بلکہ ایک عہد کے انسان کا سوال بن گیا۔
یہاں اقبال دراصل شاعری کی اصل ذمہ داری بیان کررہے ہیں۔ شاعر کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ دنیا کی خوب صورت چیزوں کا ذکر کرے بلکہ وہ ان خاموش حقیقتوں کو آواز دے جنہیں عام نگاہ محسوس تو کرتی ہے مگر بیان نہیں کرسکتی۔ جس طرح ندی پہاڑ کی خاموشی کو توڑ کر اس کے دامن میں زندگی کی آواز پیدا کرتی ہے اسی طرح غالب کی شاعری نے انسانی باطن کی خاموشیوں کو نغمہ بنا دیا۔
تیرے فردوسِ تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
یہاں اقبال غالب کے تخیل کو "فردوس" اور ان کی فکر کو "کشت" سے تعبیر کرتے ہیں۔ فردوس ایسی سرسبز اور دل آویز دنیا کا تصور ہے جہاں حسن اپنے کمال پر ہو۔ اقبال کہتے ہیں کہ قدرت کی بہار بھی تیرے فردوس تخیل سے وابستہ معلوم ہوتی ہے۔ یعنی غالب کی تخلیقی نگاہ نے قدرت کے مناظر کو صرف دیکھا نہیں بلکہ انہیں ایک نئی معنوی تازگی عطا کردی۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کے نزدیک تخیل حقیقت سے فرار کا نام نہیں بلکہ حقیقت کے نئے پہلو دریافت کرنے کا ذریعہ ہے۔ کمزور تخیل انسان کو خیالی دنیا میں لے جاتا ہے لیکن بڑا تخیل اسی دنیا کو ایک نئے معنی کے ساتھ واپس دکھاتا ہے۔ غالب کا تخیل بھی یہی کرتا ہے۔ وہ زندگی سے دور نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے اندر داخل ہوکر اس کے پوشیدہ رنگ دریافت کرتا ہے۔
پھر "کشت فکر" کا استعارہ آتا ہے۔ فکر کو زمین اور خیالات کو اس زمین سے اگنے والی فصل قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غالب کی شاعری میں خیالات اچانک آسمان سے نہیں اترتے بلکہ ان کی فکر کی زمین میں پرورش پاتے ہیں۔ اس زمین میں تجربہ بھی ہے مشاہدہ بھی ہے حیرت بھی ہے اور انسانی زندگی کی گہری آگہی بھی۔ اسی لیے اس کشت سے "عالم سبزہ وار" اگتے ہیں۔ یعنی ایک خیال سے صرف ایک شعر پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس سے پوری فکری دنیا آباد ہوسکتی ہے۔
یہاں اقبال کے اپنے تصورِ خودی سے بھی ایک گہرا تعلق پیدا ہوجاتا ہے۔ خودی وہ قوت ہے جو انسان کے اندر موجود امکانات کو بیدار کرکے انہیں تخلیق اور عمل میں تبدیل کرتی ہے۔ جس طرح زرخیز زمین میں بیج سے پوری فصل پیدا ہوسکتی ہے اسی طرح زندہ فکر سے نئی دنیائیں پیدا ہوتی ہیں۔ اقبال غالب کی فکر میں اسی تخلیقی قوت کو دیکھتے ہیں۔ غالب کا ذہن صرف موجود دنیا کو قبول نہیں کرتا بلکہ اپنی فکر کے ذریعے اس کے اندر نئے معنی پیدا کرتا ہے۔
زندگی مضمر ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جنبش ہے لبِ تصویر میں
یہاں اقبال غالب کے فن کے اثر کو اپنی انتہا تک پہنچاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تیری تحریر کی شوخی میں زندگی چھپی ہوئی ہے۔ یہ "شوخی" محض ظرافت یا خوش مزاجی نہیں بلکہ اظہار کی وہ تازگی ہے جو مردہ الفاظ کو زندہ کردیتی ہے۔ غالب کا شعر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ صرف معنی نہیں دے رہے بلکہ حرکت کررہے ہیں۔ ان میں ایک ایسی زندگی ہے جو قاری کے اندر بھی حرکت پیدا کرتی ہے۔
دوسرے مصرعے میں تصویر کے لبوں میں جنبش پیدا ہونے کا تصور نہایت معنی خیز ہے۔ تصویر خاموش ہوتی ہے مگر اگر شاعر کی زبان میں اتنی قوت ہو کہ وہ خاموش تصویر کو بھی گویا کردے تو یہ شاعری کا کمال ہے۔ غالب کی تحریر میں یہی قوت اقبال کو نظر آتی ہے۔ وہ بے جان منظر کو زبان دے سکتے ہیں اور خاموش احساس کو بولنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔
یہاں "تابِ گویائی" محض الفاظ کی روانی نہیں بلکہ اس داخلی توانائی کا نام ہے جو اظہار کو زندگی بخشتی ہے۔ بعض اشعار پڑھ کر معنی سمجھ میں آجاتا ہے مگر دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور بعض شعر ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ لفظوں کے پیچھے کوئی زندہ تجربہ موجود ہے۔ اقبال غالب کے کلام میں اسی زندہ تجربے کو دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے غالب کی شاعری اس لیے اہم نہیں کہ وہ مشکل اور نادر ہے بلکہ اس لیے کہ اس میں زندگی کی حرارت موجود ہے۔
یہاں سے اقبال کا تصور فن پوری طرح سامنے آتا ہے۔ ان کے نزدیک شاعری محض الفاظ کی آرائش نہیں بلکہ زندگی کی پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ شاعر اگر صرف حسن بیان کا ماہر ہو مگر اس کے الفاظ انسان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہ کریں تو اس کا فن محدود رہ جاتا ہے۔ بڑا شاعر وہ ہے جس کے الفاظ پڑھ کر انسان سوچنے لگے محسوس کرنے لگے اور اپنے وجود کے اندر کسی نئی حرکت کو دریافت کرے۔
غالب کے بارے میں اقبال کا یہ اعتراف اسی لیے معمولی خراج تحسین نہیں۔ وہ غالب کے اندر اس تخلیقی روح کو دیکھ رہے ہیں جو خاموشی کو نغمہ بنا سکتی ہے خیال کو سبزہ زار بنا سکتی ہے اور تصویر کے لبوں میں بھی جنبش پیدا کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال غالب کو محض ماضی کے ایک بڑے شاعر کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ انسانی فکر کی ایک ایسی زندہ قوت کے طور پر دیکھتے ہیں جس کا اثر آنے والے ذہنوں پر بھی پڑتا ہے۔
اور یہی بات اقبال فہمی کے اصل منہج سے بھی جڑتی ہے۔ اقبال جب کسی شاعر یا مفکر کو اپنے کلام میں یاد کرتے ہیں تو صرف اس کی تعریف نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر موجود اس فکری قوت کو دریافت کرتے ہیں جو خود اقبال کی اپنی فکر سے کسی نہ کسی مقام پر جڑتی ہے۔ غالب کی عظمت اقبال کے نزدیک اسی تخلیقی زندگی میں ہے جو فکر کو حرکت دیتی ہے تخیل کو وسعت دیتی ہے اور خاموش حقیقتوں کو زبان عطا کرتی ہے۔ یوں غالب کا شعر محض محفل کی زینت نہیں رہتا بلکہ انسانی شعور کی بیداری کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment