طلاق - رشیدہ یاسمین، سکلیس پور حاسن، کرناٹک


طلاق - 
رشیدہ یاسمین، 
سکلیس پور حاسن، کرناٹک

صوفیہ بہت کم عمر تھی جب اس کے سر سے شوہر کا سایہ اٹھ گیا۔
لوگوں نے اسے بیوہ کہا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ دنیا نے اسے کبھی سکون سے بیوہ رہنے بھی نہیں دیا۔
شوہر کی موت کے بعد صوفیہ کی پوری دنیا اس کے دو بچے بن گئے تھے۔ وہ خود ٹوٹ چکی تھی، مگر بچوں کے سامنے ہمیشہ مسکرانے کی کوشش کرتی۔

مگر معاشرہ کب کسی عورت کو اس کی خاموشی کے ساتھ جینے دیتا ہے؟
کبھی کوئی کہتا:
“صوفیہ، تم دوبارہ شادی کیوں نہیں کر لیتیں؟”
کبھی کوئی سمجھاتا:
“ابھی عمر ہی کیا ہے، ساری زندگی اکیلی کیسے گزارو گی؟”
صوفیہ ہر بار خاموش ہوجاتی۔
وہ کیسے سمجھاتی کہ اسے اپنی تنہائی سے زیادہ اپنے بچوں کا خوف ہے؟
ایک دن اس نے اپنی ایک جاننے والی سے کہا:
“اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو میرے بچوں کو بھی دل سے اپنا لے، تو میں نکاح کرلوں گی۔ مجھے اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے۔ بس میرے بچوں کو کوئی بوجھ نہ سمجھے۔”
یہ اس کی ایک ہی شرط تھی۔
مگر اس شرط کے سامنے ہر رشتہ پیچھے ہٹ جاتا۔
کسی کو صوفیہ پسند تھی، مگر اس کے بچے نہیں۔
کسی کو شادی چاہیے تھی، مگر بچوں کی ذمہ داری نہیں۔
پھر ایک دن زبین صوفیہ کی زندگی میں آیا۔
وہ تعلیم یافتہ، باتوں میں سلجھا ہوا اور بظاہر سمجھدار آدمی تھا۔
اس نے صوفیہ سے کہا:
“مجھے تمہارے ماضی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ تمہارے بچے بھی میرے بچے ہیں۔ میں انہیں دل سے قبول کروں گا۔”
صوفیہ نے پہلی بار محسوس کیا جیسے شاید اللہ نے اس کی دعائیں سن لی ہیں۔
اسے لگا شاید اب اس کے بچوں کو ایک باپ مل جائے گا اور اسے زندگی کا ایک ساتھی۔
نکاح ہوگیا۔
لیکن نکاح کی پہلی رات ہی صوفیہ کے خوابوں کا شیش محل ٹوٹ گیا۔
زبین اپنے موبائل پر کسی سے پیغامات کر رہا تھا۔
صوفیہ کی نظر بے اختیار اسکرین پر پڑی۔
وہ اس کی پہلی بیوی تھی۔
پیغام تھا:
“میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں صرف تمہارا ہوں۔”
صوفیہ کی آنکھیں چند لمحوں کے لیے اسکرین پر جم گئیں۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
نہ سوال کیا، نہ شکایت۔
بس خاموشی سے دوسری طرف منہ کرلیا۔
رات بھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔
صبح ہوئی تو اس نے اپنے آنسو پونچھے اور خود کو سمجھایا:
“شاید یہی میرے نصیب میں ہے۔ میں اپنا فرض نبھاؤں گی۔”
صوفیہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر حال میں زبین کو خوش رکھے گی۔
وہ اس کے لیے کھانا بناتی، اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتی، اس کے غصے کو برداشت کرتی اور ہر بات پر سمجھوتہ کرتی۔
مگر کچھ ہی عرصے میں اسے ایک تلخ حقیقت کا اندازہ ہوگیا۔
زبین کو صوفیہ کی محبت نہیں، اس کے پیسے چاہیے تھے۔
وہ جب بھی صوفیہ کے پاس آتا، کسی نہ کسی ضرورت کا ذکر کرتا۔
اور جب پیسے مل جاتے، تو وہ اپنی پہلی بیوی اور اپنی بیٹی پر خرچ کرنے لگتا۔
صوفیہ خاموش رہتی۔
اسے اپنے پیسوں کا دکھ نہیں تھا۔
دکھ اس بات کا تھا کہ جس شخص نے نکاح کے وقت اس کے بچوں کو اپنا کہا تھا، وہ دراصل اس کے گھر میں محبت نہیں بلکہ اپنا مفاد لے کر آیا تھا۔
رفتہ رفتہ زبین نے صوفیہ کی زندگی کی ہر چیز پر اپنا حق جتانا شروع کردیا۔
صوفیہ کو تب احساس ہوا کہ اس نے نکاح ایک عورت سے نہیں کیا تھا۔
اس نے نکاح ایک ایسے شخص سے کیا تھا جو اس کے اعتماد کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا جانتا تھا۔
ایک دن صوفیہ بہت دیر تک آئینے کے سامنے کھڑی رہی۔
وہ خود کو دیکھتی رہی۔
اس چہرے پر وہ عورت کہاں تھی جو کبھی خواب دیکھا کرتی تھی؟
اس نے آہستہ سے خود سے پوچھا:
“میں کب سے صرف دوسروں کو خوش کرنے کے لیے جی رہی ہوں؟”
اسی دن اس نے فیصلہ کیا۔
وہ زبین سے طلاق لے گی۔
اگلے دن صوفیہ کاغذات ہاتھ میں لیے قاضی کے دفتر پہنچ گئی۔
دل میں خوف تھا، مگر اس خوف سے بڑا اس کا درد تھا۔
وہ اندر جانے لگی تو اسے روک دیا گیا۔
“تمہارے ساتھ کوئی محرم نہیں ہے۔ تم اندر نہیں آسکتیں۔”
صوفیہ وہیں رک گئی۔
کچھ لمحے وہ خاموش رہی۔
پھر بہت دھیمی آواز میں بولی:
“میرے ساتھ کوئی نہیں ہے…”
اس کے والد دنیا سے جا چکے تھے۔
بھائی بیرونِ ملک رہتا تھا۔
اور جس شخص کو اس نے اپنا سہارا سمجھا تھا، وہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ بن چکا تھا۔
صوفیہ نے کاغذات سینے سے لگائے اور واپس گھر آگئی۔
راستے بھر اس کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرتا رہا:
“ایک عورت جب شوہر کھو دیتی ہے تو اسے بیوہ کہا جاتا ہے۔
جب دوبارہ شادی کرے تو اس کے فیصلے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
جب شوہر ظلم کرے تو اسے صبر کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اور جب وہ اس ظلم سے نکلنے کی کوشش کرے تو پوچھا جاتا ہے—تمہارے ساتھ کون ہے؟”
گھر پہنچ کر صوفیہ نے اپنے بچوں کو دیکھا۔
وہ معصومیت سے سو رہے تھے۔
صوفیہ ان کے پاس بیٹھ گئی۔
اس نے دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔
اس رات اس نے پہلی بار اللہ سے اپنے لیے دعا کی۔
“یا اللہ… مجھے کسی انسان کا محتاج نہ کرنا۔ میرے بچوں کے لیے مجھے مضبوط بنا دے۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
مگر اس بار ان آنسوؤں میں صرف درد نہیں تھا۔
ان میں ایک فیصلہ بھی تھا۔
صوفیہ جانتی تھی کہ طلاق کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔
مگر اب وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ صرف اس لیے کسی رشتے میں قید رہنا کہ دنیا کیا کہے گی، زندگی نہیں ہوتی۔
اس کی طلاق ابھی ہوئی نہیں تھی۔
مگر اس رات صوفیہ کے اندر ایک طلاق ضرور ہوچکی تھی—
خوف سے طلاق۔
لوگوں کی باتوں سے طلاق۔
اور اس خاموش سمجھوتے سے طلاق، جس نے برسوں سے اس کی روح کو قید کر رکھا تھا۔
صوفیہ نے اپنے بچوں کو دیکھا اور پہلی بار دل سے مسکرائی۔
وہ اکیلی ضرور تھی…
مگر بے سہارا نہیں۔
کیونکہ کبھی کبھی ایک عورت کو کسی مرد کے سہارے کی نہیں،
صرف اپنے اندر چھپی ہوئی ہمت کو پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Rasheeda Yasmeen 
Saklespur Hassan 
Karnataka

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔