عنا دل باغ کےغافل نہ بیٹھے آشیانوں میں - محمد ناظم ملی تونڈاپوری، جامعہ اکلکواں
عنا دل باغ کےغافل نہ بیٹھے آشیانوں میں -
محمد ناظم ملی تونڈاپوری،
جامعہ اکلکواں
بغیر کسی ابہام کے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ تمام انسانیت کی بھلائی کامیابی و کامرانی نہ صرف اس جہان کی بلکہ دونوں جہان کی صرف اور صرف عبدیت اور خدا کی بندگی ہی میں ہے مطلق العنانی اور بے راہ روی میں نہیں ہاں مگر اج کھلے بندوں اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ خدائے واحد کی بندگی کو چھوڑ کر دنیا کسی اور کی بندگی میں مصروف ہے بلکہ اس بابت لوگ پراگندہ افکار اور منتشرخیالات کا شکار ہے اور اس ضمن میں بلا تردد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مغربی افکار و خیالات نے جو ستم ڈھایا ہے وہ ناقابل بیان ہے مغربی فلسفہ اور اس کی فکر گستاخ سے لوگ اس قدر متاثر ہین کہ بنا سوچے سمجھے اس کے پیچھے سر پٹ دوڑنے میں مصروف ہے جاھل بھی ان پڑھ اور گنوار بھی۔ پڑھا لکھا جانکار اور سمجھدار بھی۔ واضح ہوگی بعضے افراد تواسکے ایسے اسیر اوردیوانےہیں اور مغربی عطا کے ایسے شائق ہیں کہ جو کچھ ان کو مغرب کی طرف سے ملتا ہے اسی کو نجات دہندہ تصور کرتے ہوئے بلا کسی تردد کے لے لیتے ہیں نہ اس پر غور و فکر کرنا ہے نہ ہی تدبر و تفکر اور بغیر سوچے سمجھے اسی کی ثنا خوانی اور منقبت بیان کرنے پر مصر ہوتے ہیں اور بعض دو قدم اگے اس کی نشر و اشاعت اور تبلیغ پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہیں اور اب تو بہت واضح ہو چکا ہے کہ مغربی فکر و فلسفہ اور اس کے تمام نظریات نہ صرف ایک فتنہ ہے بلکہ فتنوں کو جنم دینے والے نظریات ہیں اس لیے کہ مغربی فکر و فلسفے کی پوری بنیاد صرف عیش طلبی اور نفس پرستی پر منحصر ہے جس کو بجا طور پر یوں کہا جا سکتا ہے کہ مغربی فکر و فلسفے کی پوری بنیاد ریت پر دیوار کے مصداق ہے اہل مغرب جب ان کے فکر و خیالات کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کو مآل و معاد سے کوئی سروکار نہیں یہی وہ عنصر ہے جو مختلف فتنوں کی پرورش کرتا ہے اور اوہام و خرافات کو جنم دیتا ہے خدا رسول قبر و حشر ونشر اخرت جیسے عقائد اور حقائق سے وہ بالکل بے پرواہ کر دیتا ہے اور یہی عیش طلبی اور نفس پرستی کا نظریہ انہیں حقائق و صداقت سے بہت دور لے جا چکا ہے اور سچے عقائد و حقائق سے پہلو تہی کرنے پر ان کو ابھارتاہےبنا بریں وہ اپنے خالق و مالک سے باغی ہو گئے ایک اچھے سچے اور پاکیزہ اصول و دستور سے کوسو نے دور جا پڑےہیں مزید غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ مغربی فکر و فلسفے کا یہ فسو ں اور جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور دنیا کسی بحث و تمحیص اور تدبر و تفکر کے دیوانہ وار اسی کی طرف دوڑ لگا رہی ہے اس کے اس گھناونے جال کی اسیر ہوئی جا رہی ہے عہد حاضر میں اگر مغربی افکار کو فروغ دینے والے عناصر اور اس کے حاملین اور بے سوچے سمجھے اس کے فسوں کا شکار ہونے والے افراد کو اگر دیکھا جائے تو ہمیں یقینا یہ نظر ائے گا کہ انھیں خیالات کے حامل تھےوہ لوگ جو ما سبق قوموں میں اپنے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کے بالمقابل یہ کہا کرتے تھے . ان هي الا حياتنا الدنيا۔ کہ بس جو کچھ ہے وہ یہی دنیاوی زندگی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔سادے لفظوں میں کہا جائے تو بس مفہوم یہی ہوگا۔ کہ دنیا میں ائے۔ جیے۔کھائے پیے۔ اؤر مرے۔
بابر با عیش کوش کے عالم دوبارہ نیست
اور اج کا مغربی معاشرہ اسی فساد قلب و نظر کا شکار ہے اور یہ فرنگی تہذیب کس طرح قلب و دماغ اور ذہن کو متاثر کرتی ہے اخلاقی اور روحانی اقدار کے ساتھ کس طرح کھلواڑ کرتی ہے ظاہر بات ہے جہاں مآل و معاد کا کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں کیا کسی پاکیزہ ماحول اور معاشرے کا امکان ہو سکتا ہے اقبال جو فرنگی تہذیب اور مغربی معاشرے سے اچھی طرح واقف تھےاور انہوں نے وہاں رہ کر خودمشاھدہ کیاتھاوہ فرماتے ہیں اور بڑے وثوق سے فرماتے ہیں
فساد قلب نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفیف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ناپید
ضمیر پاک و خیال بلند و ذوق لطیف
اگر سابقہ اقوام کے ان خیالات اور فکر و فلسفے کو بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک اور چیز ابھر کر ہمارے روبرو اتی ہے کہ وہاں لوگ فردا فردا اس مفروضہ ۔یعنی۔ ان هي الا حياتنا الدنيا کے قائل تھے مگر بحیثیت قوم اج مغربی دنیا اس نظریہ حیات کو قبول کر چکی ہے یہ نظریہ اور اس کے خد و خال بظاہر جازب نظر خوبصورت اور بڑے پرکشش اور پر جمال ہیں مگر اس میں تب وتاب اور سوز و ساز نہیں اور معادو مآل کے لیے کوئی کمال نہیں اس کی حقیقت بس اتنی ہی نظر اتی ہے۔ ع
نہ جا ظاہر پرستی پر اگر کچھ عقل و دانش ہے
چمکتا جو نظر اتا ہے سب سونا نہیں ہوتا
یہ حقیقت ہے کہ اج مغربی افکار و نظریات اور فکر و فلسفے کی دھاڑ جس سے دنیا مرعوب ہو رہی ہے اور اس سے بھی زیادہ سچ یہ ہے کہ عہد حاضر میں مسلمان کہلانے والی وہ قوم جس کے یہاں مرعوبیت بڑا نقص اور عیب تصور کیا جاتا ہے وہاں اسی فکر کی پیروکار بنی جا رہی ہے بقول علامہ ندوی رحمۃ اللہ علیہ"اسی فکر و فلسفے نے مسلم نوجوانوں کی معنوی روح کو کچلنے کی پوری کوشش کی ہے اور انہیں مردان کار کے بجائے مرد بیمار بنا دیا ہے اور بانکا سجیلا صباحت پسند بن کر رہنا سکھا دیا ہے ان میں نزا کت ملاحت نرمی تخنث اور نسائیت پیدا کر کے جہد و جہاد کی سرگرمیوں سے بہت دور کر دیا ہے ( نقوش اقبال صفحہ ٩٥)
مغربی فکر و فلسفہ اور اس کا فسو ں اتنا موثر ہوا جا رہا ہے کہ اگر اسلامیان ھنداور دانا و بینا افراد نے اس پر توجہ نہ کی تو پھر نتائج کیا ہوں گے اس کا اندازہ اجکے مغربی معاشرے کی زبوں حالی سے لگایا جا سکتا ہے جہاں اب رشتے ناطے تک محفوظ نہیں جہاں والدین کا تصور بھی کوئی معنی نہیں رکھتا ان تمام وارداتوں اور احوال و کوائف کا کھلے بند وں مشاہدہ کرنے کے بعد بھی امت مسلمہ کا شعور بیدار نہیں ہوتا اور وہ بلا سوچے سمجھے کاسہ گدائی ہاتھ میں لیے اسی فلسفے کے پیچھے پیچھے چلتے رہیں تو پھر انجام سے نہیں بچا جا سکتا اقبال نے اس فکر و فلسفے کہ زہر کے لیے جو تریاق دیا ہے وہ یہی عقیدہ توحید ہے جہاں انسان کو صحیح اور سچے عقائد مقدرہوتے ہیں وہ فرماتے ہیں ع
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری انکھ کا خاک مدینہ وہ نجف
ایک زمانہ تھا قدیم فلسفہ یونان جس نے ایک عرصے تک لوگوں کو متاثر کیا ان کے دلوں میں الجھنیں پیدا کی جس کا نتیجہ یہ رہا تھا کہ لوگ اسلام اور احکام اسلام اور اس کے ارکان پر اعتراضات کیا کرتے تھے اور پروپیگنڈا کر کے انسانیت کو گمراہ کرتے تھے مگر اسی زمانے میں اللہ رب العزت نے حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کو کھڑا کیا ان کو وہ شعور اور حوصلہ بخشا کہ جنہوں نے فلسفہ یونان اور اس کے فکر وفلسفہ کو انہی کے ہتھیار سے روند ڈالا روز ازل سے اللہ کا یہ دستور قائم ہے اس نے ہر زمانے میں اپنے دین کی پاسبانی کے لیے اسلام کے مردان کار کو بروقت کھڑا کر کے وقت کے تمام دجالوں عفریتوں اور ان کی پہیلائی ہوئی خرافات کا جواب دیا ہے اور گمراہ عقائد سے لوگوں کی حفاظت کی ہے اج جب کہ یونانی فلسفہ دم توڑ چکا ہے مگر مغربی فکر و فلسفہ شباب پر ہے اس کے لیے علمائے اسلام کو بہت سنجیدہ ہونا ہوم چاہیے اور اج کے اس مغربی فکر و فلسفے کے خدوخال کو سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کو اس کے سبوتاژ کرنے میں لگانا چاہیے۔ ع
چھپا کر بجلیاں رکھی ہیں گردو ں نے استینوں میں
عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھے اشیانوں میں
Comments
Post a Comment