سی ایس ایم ایس ایس کے طالب علم کی آئی آئی ٹی روڑکی میں بھارت کے پہلے ڈیجیٹل مٹیریل پاسپورٹ منصوبے میں اہم شراکت
چھترپتی سمبھاجی نگر: (راست) ایک قابلِ فخر تعلیمی کامیابی کے موقع پر سی ایس ایم ایس ایس چھترپتی شاہو کالج آف انجینئرنگ کے تیسرے سال کے سول انجینئرنگ کے طالب علم شیخ عبدالملک، جو سابق آزاد کالج کے لیکچرر شیخ عبدالصمد ندوی کے فرزند ہیں، کو آج کالج انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز انہیں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، روڑکی میں شعبۂ فنِ تعمیر و منصوبہ بندی کے پروفیسر پی۔ ایس۔ چانی کی نگرانی میں کامیاب تحقیقی خدمات انجام دینے پر دیا گیا۔
شیخ عبدالملک نے ایک تاریخی اور گوگل کے تعاون سے جاری تحقیقی منصوبے AMP-GEN میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تعمیراتی شعبے کے لیے بھارت کا پہلا خودکار تعمیراتی مواد شناختی نظام تیار کیا جا رہا ہے۔
اس منفرد منصوبے کے ذریعے عمارتوں کو تعمیراتی مواد کے ذخیرے کے طور پر دیکھنے کے تصور کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس نظام میں عمارتوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی مواد کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے ان مواد کے کاربن اخراج کا حساب لگانے، عمارت کو ازسرِنو جدا کیے جانے کے امکانات کا جائزہ لینے اور تعمیراتی مواد کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے میں مدد حاصل ہوگی۔
یہ منصوبہ بھارت میں کم کاربن اخراج والی اور پائیدار، قابلِ تدویر تعمیرات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
کالج کے پرنسپل، وائس پرنسپل، مرکزی رابطہ کار، شعبۂ تربیت و تقرری کے سربراہ اور سینئر فیکلٹی ارکان نے شیخ عبدالملک کی اس نمایاں کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے قومی سطح کی پائیدار انجینئرنگ تحقیق کے میدان میں اپنے ادارے کی نمائندگی کرنے پر شیخ عبدالملک کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
Comments
Post a Comment