صرف اچھی اردو بولنے اور شاعری کرنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
صرف اچھی اردو بولنے اور شاعری کرنے سے کوئ مسلمان نہیں ہوتا -
تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
9881836729
کہے دو کہ اللہ ایک ہے، اور وہ بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنم دیا، اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اسکا کوئ ساجھی یا ہمسر نہیں ہے۔ جو لوگ ( Does God existence) خدا کی موجودگی اور غیر موجودگی کو لے کر مسلسل بحث و مباحثہ کرتے تو جان لو کہ اللہ ایک ہے، لیکن جو لوگ اللہ کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور قدرت کی خوبصورت تخلیق اور اسکی کائنات کا مشاہدہ کرکے قدرت کی نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں اور اس سے بے وفائ، فبائ حدیث بعدہ یومنوں۔ فبائ آلائ ربکما تکذبان۔ اللہ کی عطا کردہ کن کن نعمتوں کو فراموش اور جھٹلاو گے۔ جس زبان سے آپ اللہ کی ناشکری اور اسکے وجود کا انکار کر رہے ہو، یہ وہی زبان ہے جس کو اللہ نے عطا کیا ہے۔ جس کے ذریعہ آپ یہ کہ رہے ہیں کہ Yes, Iam a) muslim and i like Eid, and speaking urdu, the food, I like all of that. But wd don't read namaz, we have no association with (religion as such اگر آپ کی قوت گویائ اللہ سلب کرلیتا تو آپ انگریزی یا اردو کا ایک لفظ بولنے سے بھی قاصر ہوتے۔ اگر اللہ آپ کی قوت گوئ سلب کرلے تو آپ کونگے اور بہرے ہوجاتے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان تو ضرور ہیں، سلیس اردو بولتے ہیں، بہترین شاعری کرتے ہیں۔ لیکن ہم نماز نہیں پڑھتے تو انہیں یہ حدیث کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ بین العبد و بین الکفر او الشرک ترک الصلات۔ بندے اور کفر کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہے۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔ جس نے جان بوجھکر نماز ترک کی اس نے کفر کیا اور اللہ کی نافرمانی کی۔ زبان بھی ایک اللہ عطا کردہ انسان کے لیے بہت بڑا عطیہ ہے۔ یہ زبان آپ کو اللہ کے ذکر اور اس کے شکر کے لیے عطا کی گئ۔ چناں چہ اسی زبان سے انسان ناشکری کرکے اللہ کے عذاب مستحق ہوتا ہے۔ یا پھر وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے اللہ کے قریب ترین ہوتا ہے۔ اور اس کے برعکس عمل کا مرتکب ہوناایک شرمناک عمل ہے اور اخرت کی تخریب کاری کا سبب۔ مسلمان نام رکھنے اچھی اردو اور شاعری کرنے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا ۔جب تک کہ خدا کے وجود کو اور اس کی وحدانیت کو تسلیم نہ کر لیں، خدا کے وجود اور اس کائنات کی تخلیق کا بین ثبوت کہ آپ کو اللہ نے قوت گویائ عطا کی کہ آپ بات کرتے، جاوید اختر صاحب کی ہر بات میں تضاد ہوتا ہے ۔مثلا وہ کہتے ہیں کہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد امن اور سکون حاصل کرنے کے لیے تالاب اور دریا پر جاتے ہیں کہ مچھلی پکڑے اور اور تالاب کے کنارے امن و سکون حاصل کریں۔ پانی میں گل ڈال کر موج اور مزے کریں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ مچھلی گل میں ا کر کتنی تکلیف محسوس کرتی ہے ۔اگر کمرے میں گلابی جامن گل میں ڈال کر رکھ دیا جائے اور انسان اسے نگل لے ، تو کیا ہم یہ تکلیف محسوس نہیں کر سکتے ۔ جاوید ڈاکٹر صاحب چکن یا مٹن تو ضرور کھاتے ہوں گے پھر انہیں ان جانوروں کی تکلیف اور اذیت محسوس کیوں نہیں ہوتی ۔انہوں نے ایک شاعری میں کہا کہ وقت ساکت ہے یا پھر ہم گزر رہے ہیں ۔جس خدا نے اس وقت کو اور انسان کی تخلیق کی ہے ،اس دور سے انسان بھی گزر رہا ہے اور وقت بھی گزر رہا ہے ۔فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا۔ اور خدا نے بھی اسے سنبھلنے کے بہت مواقع عطا کیے تھے لیکن وہ سنبھل نہیں سکا ۔ جب اس نے دیکھا کہ موسی علیہ السلام کی فوج کے لیے سمندر نے راستہ دے دیا ہے ۔تو وہ بھی اپنی لشکر کے ساتھ چل پڑا ۔راستہ تو نہیں ملا البتہ جب وہ ڈوبنے لگا ۔تو فورا کہہ اٹھا میں ہارون اور موسی کی رب پر ایمان لایا ۔ جب وقت ختم ہو جاتا ہے تو مہلت بھی ختم ہو جاتی ہے ۔اور توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔چنانچہ فرعون ہلاک ہو گیا ۔نہ اس کو سمندر نے قبول کیا اور نہ ہی زمین نے۔ اور وہ قیامت تک لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بنا ہوا ہے۔ دنیا میں اتنی شدت سے کوئ بھی انتظار نہیں کرتا ، جتنے انتظار سے اللہ ا نسان کی توبہ کا کرتا ہے۔ اللہ نے اس دنیا کو ایک امتحان گاہ بنایا ہے۔ یہاں انسانوں کو دیکھنے اور اس کا دیدار کرنے اپنے سامنے ظاہر نہءں کیا۔ بلکہ اللہ نے اپنی قدرت اور کائنات میں تخلیق کردہ اشیاء پر غور و خوض کرنے اور انبیاء اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا۔ اور اصل کمال یہ کہ اللہ کو دیکھے بغیر اسکے وجود کو تسلیم کریں۔ کیونکہ ہم تو ایک معمولی انسان ہیں۔ خدا نے اپنے دیدار سے موسی علیہ السلام کو بھی محروم رکھا جو وقت کے پیغبر تھے۔ قیامت کے دن جب خدا اپنے اپنے پورے آب وتاب کے ساتھ ظاہر ہوگا، خدا کو ماننے والے بہر حال کسی طرح بچ جائینگے ، لیکن جو خدا کے وجود کو ماننے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ان کی آخرت کی تخریب کاری کے سوا اور کچھ نہیں۔ لیکن اللہ سے دعا کرنا چاہیے اور توبہ کرنا چاہیے ۔ کیونکہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے۔ اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت ہے، من یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم۔ جو شخص اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا ، تو وہ سیدھی راہ پہونچ گیا۔ گویا کہ خدا سے تعلق ہی ھدایت ملنے کا بہترین ذریعہ ہے۔جو فطرت کی زبان میں خالق کی تخلیق کو جانتا ہے ، اور یقینا یہ فطرت کی نشانیوں سے ایک علم دریافت ہوا ہے۔ جس کو ( Theoretical science) کہا جاتا ہے۔ کیونکہ فطرت اور سائنس دونوں قدرت کا پتہ دیتے ہیں۔ جس کو ( Nature and Science speak about God) کہتے ہیں۔ غرض کہ دائرے اسلام میں داخل ہونے کے لیے ،سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت ،نماز ، روزہ ،حج , اور زکوۃ لازمی ہے۔ کوئ سلیس اردو بولنے اور بہترین شاعری کرنے سے عیدیں منانے اور غزائیں استعمال کرنے سے مسلمان نہیں ہوتا۔
Comments
Post a Comment