خاکہ - ابو رہبر تماپوری (ظفر مبین ملا)ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
خاکہ -
ابو رہبر تماپوری (ظفر مبین ملا)
ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
دنیا مجھے رہبر تماپوری کے نام سے جانتی ہے، مگر اس نام کے پیچھے ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں ’’ابو‘‘ کہتا ہوں۔ نام تو قلم نے دیا، مگر قلم تھامنے کا سلیقہ انہی سے ملا۔
ظفر مبین ملا تماپوری ایک تاجر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دادا غلام رسول اور والد عطا الرحمن کاروبار سے وابستہ تھے۔ ابو خود کو معمولی طالب علم کہتے تھے، اور دسویں جماعت میں پڑھائی نے انہیں خوب آزمایا۔ کبھی دکان پر بھی بیٹھنا پڑتا، مگر وہیں انہوں نے لوگوں کو دیکھ کر سمجھ بوجھ سیکھی۔ پھر محنت اور اساتذہ کی رہنمائی سے تعلیم جاری رکھی اور اپنی سوچ کے مطابق والد سے الگ کاروبار شروع کیا۔
حلیہ ایسا کہ دیکھتے ہی سادگی کا احساس ہو: ابھری ہوئی پیشانی، لمبی ناک، لمبے کان اور بھاری بھرکم جسم۔ ڈھیلے کپڑے پسند کرتے اور جمعے کو شاہی ٹوپی پہن کر نماز کے لیے جاتے۔ کم گو تھے، مگر گاؤں میں ہر ایک سے خوش اخلاقی سے ملتے۔ راستے میں کوئی پتھر یا نقصان دہ چیز پڑی ہوتی تو اسے ہٹا دیتے۔
شادی کے بعد تقریباً بیس برس تک اولاد کی نعمت نہ ملی۔ جب اللہ نے اولاد دی تو شاید اسی انتظار نے اس کی قدر دل میں اور بڑھا دی۔ مگر انہی دنوں کاروبار مندا پڑ گیا اور آزمائشیں آئیں۔ میں نے انہیں کبھی بینک میں، کبھی سیلز مین کے طور پر کام کرتے دیکھا، لیکن گھر بیٹھ کر آرام کرتے کبھی نہیں دیکھا۔
مطالعہ ان کی عادت تھی۔ اخبار اور رسالے، خصوصاً ’’نشیمن‘‘، شوق سے پڑھتے۔ فجر کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت ان کا معمول تھی، اور انہیں یاد رہتا کہ کل کہاں رکے تھے۔ میں بچپن میں سوالوں سے انہیں الجھاتا، مگر وہ ہر سوال کا تسلی بخش جواب دیتے۔ شاید لفظوں اور سوچ سے میرا رشتہ وہیں سے جڑا۔
مگر ابو فرشتہ نہیں، انسان تھے۔ کسی پر جلدی اعتبار نہ کرتے اور ہر بات کی چھان بین کرتے۔ طبیعت میں سختی تھی؛ کبھی ڈانٹ، کبھی غصہ، اور جذبات کا اظہار بہت کم۔ بچپن میں یہ بات مجھے کھلتی تھی، اب سمجھتا ہوں کہ اس سختی کے پیچھے ہماری فکر بھی شامل تھی۔
زندگی کے آخری دور میں چلنا مشکل ہو گیا اور لاٹھی کا سہارا لینا پڑا، مگر قرآن پڑھانے کا سلسلہ نہیں چھوڑا۔ طلبہ اور بچیاں ان سے قرآن پڑھنے آتے۔ بدن جھک گیا تھا، ارادہ نہیں جھکا تھا۔ جس درخت نے عمر بھر دھوپ سہی ہو، وہ آخر میں بھی سایہ بانٹتا ہے۔
باپ وہ ہستی ہے جس کے رہتے ہوئے سب عزیز اپنے ہوتے ہیں، اور اس کی رخصت کے بعد سب اپنے اجنبی ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی میری تحریر کو سراہتا ہے تو جی چاہتا ہے کہ اس داد کا آدھا حصہ ابو کے ہاتھوں میں رکھ دوں۔ ان کی دعاؤں اور محنت کی بنیاد پر ہی آج میں قلم کے سہارے کھڑا ہوں۔
دنیا مجھے رہبر تماپوری کے نام سے جانتی ہے، مگر میری رہبری کا پہلا سبق مجھے میرے ابو نے دیا تھا۔
Comments
Post a Comment