حضرت عیسی علیہ السلام اور موجودہ عیسائیت - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-


حضرت عیسی علیہ السلام اور موجودہ عیسائیت-
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-

یہ بات تمام مسلمان ، یہودی اور عیسائی مانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش دنیا میں تمام عام انسانوں کی طرح ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم رحمہا اللہ رحمۃ واسعہ کے پیٹ سے ہوئی - یہ بھی سب مانتے ہیں کہ وہ بغیر والد کے پیدا ہوئے - مگر اسی بات کو لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے٣٢٥ عیسوی سال کے بعد نيقیه شهر ميں جو اب از نیق کے نام سے ترکی میں ہے وہاں عیسائیوں کے بڑے بڑے علماء ( پادری) جمع ہوئے اور انھوں نے متفقہ طور پر یہ اعلان کردیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بیت لحم نامی شہر میں 25 دیسمبر کو ( یورپین گریگورین کیلنڈر ، موجودہ عیسائی کیلنڈر ) کے مطابق یا 7 جنوری کویولیائی مشرقی کیلنڈر کے مطابق پیدا ہوئے - وہ بھی یوں کہ نعوذ باللہ خود اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے جسم میں اپنی روح ڈالی اور یہیں سے عیسائی دنیا نے ان کو اللہ تعالیٰ کا لاہوتی بیٹا یعنی غیر انسانی بیٹا قرار دیا - یہ بھی عیسائی علماء خود ہی مانتے ہیں کہ ان دونوں تاریخوں کا ثبوت خود مروجہ چار معتبر انجیلوں ( متی ، مرقس، لوقا اور یوحنا ) سے نہیں ملتا ہے- ہمیں اس حقیقت پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جس قوم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب انجیل میں تحریف اور تبدیلی کر ڈالی وہ کچھ بھی کر سکتی ہے- 
یہ بات بھی بے حد گستاخی کی ہے کہ یہی بڑی کمیٹی کہتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے حضرت مریم علیھا الرحمہ اپنے منگیتر ( نعوذ باللہ یعنی شادی سے پہلے ) یوسف النجار کے ساتھ سفر کر کے بیت لحم تشریف لائیں اور بعد میں وہیں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی- 
دبی کورٹ میں میری سروس کے دوران ایک روسی عورت اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئی مگر اس کی شرط یہ تھی کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بھی مانے گی اور اسلام بھی قبول کرے گی - کورٹ نے اسے میرے ذمہ کیا کہ میں سے سمجھاؤں کہ اسلام میں یہ قابل قبول نہیں ہے- بحث کے دوران اس نے کہا آج تک کسی نے یہ ثابت نہیں کیا کہ حضرت عیسی اللہ کے بیٹے نہیں ہو سکتے - آپ ثابت کردو تو میں صرف مسلمان بننے کے لئے تیار ہوں- میں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہنا شروع کیا- فرض کرو کہ تم اپنے بیٹے کو کسی جگہ پر رکھنا چاھتی ہو تو کیا تم کسی گندی جگہ پر رکھو گی یا صاف ستھری جگہ پر ؟ اس نے کہا ظاھر ہے صاف ستھری جگہ پر- میں نے کہا کیا ماں کا رحم صاف ستھرا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی جگہ پر اتارا؟ بولی بالکل صحیح - میں نے کہا کیا تم اپنے بیٹے کو خون کھلانا پلانا پسند کروگی - جواب: بالکل نہیں - سوال مگر ماں کے پیٹ میں بچہ حیض کے خون سے بنتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ نے یہی بھتر سمجھا- وہ روسی عورت پریشان ہو گئی - میں: بچہ ماں کے پیٹ سے گندی جگہ سے گزر کر باہر آتا ہے تو اللہ کا بیٹا بھی ویسے ہی باھر آیا - کیا اللہ کے بیٹے کی یہی شان ہے؟ پیدا ہونے کے بعد اگر ماں بچے کو دودھ نہ پلائے تو بچہ مر جائے - اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے لئے اسپیشل انتظام کیوں نہیں کیا- ہر بچہ پیدا ہونے سے لے کر موت تک پیشاب پاخانہ کرتا ہے- اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو عام انسانوں کی طرح کیوں رکھا- ان سوالات کے فورا بعد اس نے بڑے زور سے کہا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہرگز نہیں ہو سکتے اور میں آپ لوگوں کی طرح سچا مسلمان بننا چاھتی ہوں-
ہر وہ شخص جو بالکل غیر جانبدار ہو کر حضرت مریم علیھا الرحمہ اور حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی کے حالات خود عیسائی علماء کے ذریعہ دی ہوئی معلومات کے تحت پڑھے گا وہ خود ہی شک میں پڑھ جائے گا کہ آخر سچ کیا ہے- مگر سن 325 بعد ولادت مسیح سے لیکر آج تک کے تمام عیسائی علماء ایسی ہی اوٹ پٹانگ باتوں کو عیسائیت بتاتے ہیں- مثال کے طور پر خود حضرت مریم کا حاملہ ہونا جس کے بارہ میں عیسائی روایات یوں ہے کہ ( روح القدس) خود زمیں پر آئے اور حضرت مریم کے جسم مبارک میں روح پھونکی - یہ روح القدس کیا ہے ؟ یہاں عیسائی جوابات اللہ تعالیٰ کی شان میں بے انتہاء گستاخانہ ہیں - جس کا خلاصہ یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کی قوت براہ راست حضرت مریم کے جسم مبارک میں داخل ہوئی - پھر اس گندے مفروضہ پر یہ بات عقیدہ کے طور پر کہی گئی کہ اسی لئے حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور اسی عقیدہ کو مضبوط بنانے کے لئے ( ثالوث) یعنی اللہ تین ملا کر ایک ہے - ایک باپ یعنی اللہ تعالی نعوذ باللہ دوسرا بیٹا حضرت عیسی نعوذ باللہ اور تیسرا روح القدس یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ قوت جو زمین پر اتر کر حضرت مریم کے جسم میں داخل ہوئی-
قرآن مجید نے واضح طور پر یہ آیا ہے کہ حضرت عیسی اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور روح کے ذریعہ پیدا ہوئے - ( سورہ النساء آیت نمبر 171) یہ کلمہ کیا ہے اور کیا یہ صرف حضرت عیسی کے ساتھ خاص تھا یا اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے لئے ہے- اس کاجواب سورہ یس آیت نمبر 82 اور دوسری سورتوں میں دیا گیا ہے - وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ( کن) بس وہ چیز ہو جاتی ہے- یہ کن وہ کلمہ ہے جو ہر مخلوق کے لئے استمال ہوتا رہا - البتہ حضرت عیسی بغیر باپ کے اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے جبکہ حضرت آدم علیہ السلام ماں اور باپ دونوں کے بغیر-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔